قومی زبان

میں نے کھل کر نہیں خاموش محبت کی ہے

میں نے کھل کر نہیں خاموش محبت کی ہے سچ تو یہ ہے تری عزت کی حفاظت کی ہے میں بھلا کیسے ترے ساتھ بغاوت کرتا مجھ پہ سادات کے پرکھوں نے امامت کی ہے صاحب دین کو فتوے کی نہ کیوں کر سوجھے آج درویش نے مسجد میں عبادت کی ہے یہ زمیں کیوں نہ پھٹے اور فلک زرد نہ ہو ایک مزدور نے اللہ سے شکایت کی ...

مزید پڑھیے

ذات کے بعد مکافات میں آ جاتے ہیں

ذات کے بعد مکافات میں آ جاتے ہیں لوگ کم ظرف خرافات میں آ جاتے ہیں تب خدا کی کسی حکمت پہ یقیں آتا ہے جب ابابیل بھی عرفات میں آ جاتے ہیں گھر کی دولت کو سر عام لٹانے والے باپ مرتا ہے تو اوقات میں آ جاتے ہیں یاد بچپن کی ستائے تو سہولت کے لیے تتلیاں دیکھنے باغات میں آ جاتے ہیں اب بھی ...

مزید پڑھیے

عقل کے بٹوے بنائے ہیں مرے یاروں نے

عقل کے بٹوے بنائے ہیں مرے یاروں نے بوجھ اپنے ہی اٹھائے ہیں مرے یاروں نے میں کسی غیر کے ماتھے سے گلا کیا پونچھوں مجھ پہ الزام لگائے ہیں مرے یاروں نے ایک تصویر بدن باندھ کے کب تھی ناچی خواب طبلے پہ نچائے ہیں مرے یاروں نے تب سے یاروں میں ہے تقسیم محبت کی ہوئی جب نئے یار بنائے ہیں ...

مزید پڑھیے

سرحد جسم پہ حیران کھڑا تھا میں بھی

سرحد جسم پہ حیران کھڑا تھا میں بھی اپنے ہی ساتھ سر دار لڑا تھا میں بھی واسطہ مجھ کو ثمر سے تھا نہ ترغیب سے تھا نیم وا ہاتھوں میں مٹی کا گھڑا تھا میں بھی روزن وقت میں دم دار صدا تھی کس کی سانپ کی راہ میں گٹھری میں پڑا تھا میں بھی اس کے سینے میں جہنم تھا لہو بھی لیکن ایک سولی کی طرح ...

مزید پڑھیے

میں چوب خشک سہی وقت کا ہوں صحرا میں

میں چوب خشک سہی وقت کا ہوں صحرا میں سحر پکارتی مجھ کو تو ساتھ چلتا میں مرے وجود میں زندہ صدی کا سناٹا تہ زمیں ہوں کوئی بولتا سا دریا میں ہر ایک زاویہ میرے لہو کے نام سے ہے بتا رہا ہوں نئی وسعتوں کو رستا میں بہت سے لوگ تو جیتے ہی جی کے مرتے ہیں بس ایک شخص کہ مرتا ہوں روز تنہا ...

مزید پڑھیے

میں اسے اپنے مقابل دیکھ کر گھبرا گیا

میں اسے اپنے مقابل دیکھ کر گھبرا گیا اک سراپا مجھ کو زنجیریں نئی پہنا گیا میں تو جل کر بجھ چکا تھا اک کھنڈر کی گود میں وہ نہ جانے کیوں مجھے ہنستا ہوا یاد آ گیا میں زمیں کی وسعتوں میں سر سے پا تک غرق تھا وہ نظر کے سامنے اک آسماں پھیلا گیا سوچ کے دھاگوں میں لپٹا میرا اپنا جسم ...

مزید پڑھیے

کوئی تو ہے کہ نئے راستے دکھائے مجھے

کوئی تو ہے کہ نئے راستے دکھائے مجھے ہوا کے دوش پہ آئے غزل سنائے مجھے کسے خبر ہے کہ جیتا ہوں جاگتا ہوں میں وہ ایک شخص ہر اک موڑ پر بچائے مجھے لرزتے پاؤں بھی میرے عصا بدست بھی میں وہ بازوؤں پہ اٹھائے کبھی چلائے مجھے ہے اس کے نام کی مالا مرے لبوں کا سبو میں اس کو شعر سناؤں وہ ...

مزید پڑھیے

اپنے زندہ جسم کی گفتار میں کھویا ہوا

اپنے زندہ جسم کی گفتار میں کھویا ہوا خواب کیسے دیکھتا دوپہر کا سویا ہوا جب سماعت کے کبوتر آسماں میں چھپ گئے تب وہ میرے پاس آیا شوق سے گویا ہوا میں تو اس کے لمس کی خواہش میں جی کر مر گیا اس کا سارا جسم تھا اغیار کا دھویا ہوا نفرتوں کے بیچ میرے کھیت میں لایا تھا وہ جس کے باغوں میں ...

مزید پڑھیے

اگلے لمحے کا خوف

اس جنگل کے چاروں جانب آگ کی اونچی دیواریں ہیں اس کے گھنے گھنے پیڑوں میں اک بہت پرانا تال چھپا ہے جس کا پانی صدیوں کے رستے جتنا گہرا ہے وہ مچھلی اس میں رہتی ہے جس کے پیٹ میں جادو کا وہ منکا ہے جو ہر جادو کا توڑ بنا ہے جنگل کے سب چپ چپ رستے جھاڑی جھاڑی گھوم گھام کے تال کی جانب آتے آتے ...

مزید پڑھیے

سفر رائیگاں

یہ پگڈنڈی چلتے چلتے جنگل میں سے پھرتی پھراتی دور ہیں گھنے گھنے پیڑوں میں چھپے اک مندر تک لے جاتی ہے بہت پرانی کائی زدہ سی سیڑھی چڑھ کر مندر میں جب داخل ہوں تو فرش کے اوپر بکھرے ہوئے کچھ پیلے پتے ملتے ہیں یا کہیں کہیں پہ جلتی جلتی آنکھوں والے سانپ دکھائی دیتے ہیں دیواروں پر نقش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1675 سے 6203