میں اور ہم آغوش ہوں اس رشک پری سے
میں اور ہم آغوش ہوں اس رشک پری سے کب اس کی توقع مجھے بے بال و پری سے جاگیں گے نصیب اپنے نہ آہ سحری سے آگاہ ہیں اس آہ کی ہم بے اثری سے ہے وصل کی خواہش تجھے اس رشک پری سے حیراں ہوں میں اے دل تری بیہودہ سری سے ایمان میں زاہد کے بھی آ جائے تزلزل دیکھے جو مرا بت اسے کافر نظری سے ان ...