قومی زبان

میں اور ہم آغوش ہوں اس رشک پری سے

میں اور ہم آغوش ہوں اس رشک پری سے کب اس کی توقع مجھے بے بال و پری سے جاگیں گے نصیب اپنے نہ آہ سحری سے آگاہ ہیں اس آہ کی ہم بے اثری سے ہے وصل کی خواہش تجھے اس رشک پری سے حیراں ہوں میں اے دل تری بیہودہ سری سے ایمان میں زاہد کے بھی آ جائے تزلزل دیکھے جو مرا بت اسے کافر نظری سے ان ...

مزید پڑھیے

یقیناً ہے کوئی ماہ منور پیچھے چلمن کے

یقیناً ہے کوئی ماہ منور پیچھے چلمن کے کہ اس کی پتلیوں سے آ رہا ہے نور چھن چھن کے قدم کیوں کر نہ لوں بت خانے میں اک اک برہمن کے کہ آیا ہوں یہاں میں شوق میں اک بت کے درشن کے نہ کیوں آئینہ وہ دیکھا کریں ہر وقت بن بن کے زمانہ ہے یہ خود بینی کا دن ہیں ان کے جوبن کے یہ ہیں سامان آرائش ...

مزید پڑھیے

جنازہ دھوم سے اس عاشق جانباز کا نکلے

جنازہ دھوم سے اس عاشق جانباز کا نکلے تماشے کو عجب کیا وہ بت دمباز آ نکلے اگر دیوانہ تیرا جانب کہسار جا نکلے قبور وامق و مجنوں سے شور مرحبا نکلے ابھی طفلی ہی میں وہ بت نمونہ ہے قیامت کا جوانی میں نہیں معلوم کیا نام خدا نکلے کہاں وہ سرد مہری تھی کہاں یہ گرم جوشی ہے عجب کیا اس کرم ...

مزید پڑھیے

سودائے سجدہ شام و سحر میرے سر میں ہے

سودائے سجدہ شام و سحر میرے سر میں ہے اے بت کشش کچھ ایسی ترے سنگ در میں ہے میں کب ہوں یہ مرا تن بے جاں حضر میں ہے روح روان قالب تن تو سفر میں ہے یہ ایک اثر تو ادویۂ چارہ گر میں ہے شدت اب اور بھی مرے درد جگر میں ہے سودائے عشق زلف سیہ جس کے سر میں ہے کب مطلق امتیاز اسے نفع و ضرر میں ...

مزید پڑھیے

اگرچہ ہتھیار سے ہیں ڈرتے مگر ارادے بڑے بڑے ہیں

اگرچہ ہتھیار سے ہیں ڈرتے مگر ارادے بڑے بڑے ہیں ملے ہمیں تخت ورنہ تختہ ہم اپنی اس بات پر اڑے ہیں اگرچہ ہتھیار دیکھتے ہی خراب ہوتی ہے اپنی دھوتی قلم سے میدان کاغذی میں ہمیشہ سرکار سے لڑے ہیں اگرچہ رہتے ہیں جھونپڑوں میں پر خواب محلوں کے دیکھتے ہیں سڑی گلی مچھلی کھاتے کھاتے دماغ ...

مزید پڑھیے

مجھ نکمے کی جو بھی عزت ہے

مجھ نکمے کی جو بھی عزت ہے آل اطہار کی بدولت ہے ایک چہرہ خدا کا چہرہ ہے وہ جسے دیکھنا عبادت ہے چودہ صدیاں گزر گئی اب تک کربلا دین کی ضرورت ہے زخم زنجیر اشک اور ماتم درد میں وجد کی سہولت ہے حوصلہ رکھ زمین کرب و بلا تجھ پہ اب آخری شہادت ہے

مزید پڑھیے

درد جب صبر کے دھاروں سے نکل آئے تھے

درد جب صبر کے دھاروں سے نکل آئے تھے پھر منافق مرے یاروں سے نکل آئے تھے لاش پانی میں پڑی دیکھ کے تنہا میری اشک دریا کے کناروں سے نکل آئے تھے دیکھ کے آنکھ مچولی کو چمن میں اس دن دفعتاً پھول بہاروں سے نکل آئے تھے میں نے آواز لگائی تھی محبت لے لو لوگ عجلت میں قطاروں سے نکل آئے ...

مزید پڑھیے

چاند کے ساتھ جب وہ چلتا تھا

چاند کے ساتھ جب وہ چلتا تھا عکس تالاب سے ابھرتا تھا یار اوروں کی بات کرتا تھا رنگ تصویر میں بدلتا تھا جو تری حسرتوں پہ ہنستا تھا وہ مری بے بسی پہ روتا تھا بند کمرے میں جب ٹہلتا تھا عکس دیوار سے نکلتا تھا سامنے سے کہاں گزرتا تھا وہ جو وارفتگی سے ملتا تھا پیڑ کا سانس بھی اکھرتا ...

مزید پڑھیے

یہ حقیقت ہے مری ذات کا نقصان کیا

یہ حقیقت ہے مری ذات کا نقصان کیا میں نے جس شخص پہ تا عمر بڑا مان کیا شہر کی سمت نیا رستہ بنانے کے لیے پیڑ کاٹے گئے اور گاؤں کو ویران کیا یار دشمن سے ملے سانس کو مفلوج کیا حوصلہ ہارا گیا جیت کا نقصان کیا آخری بار ملا پہلی ملاقات میں وہ ایک ہی شخص نے دو بار تھا حیران کیا نیند آئے ...

مزید پڑھیے

خواب تعبیر سفر میرے سہارے کب تھے

خواب تعبیر سفر میرے سہارے کب تھے جو چمکتے تھے وہ جگنو تھے ستارے کب تھے یہ محبت کا اثر ہے کہ تو دکھتا ہے مجھے نقش کاغذ پہ ابھی میں نے اتارے کب تھے مجھ سے بچھڑے ہیں کڑے وقت میں باری باری میری ماں سچ ہے مرے دوست یہ سارے کب تھے اپنی مرضی کہ تجھے چھوڑ دیا ہے تجھ پر ہم وہ مورکھ ہیں جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1674 سے 6203