قومی زبان

آس محل

ایک رو پہلی سی چوٹی پر جگ مگ جگ مگ جاگ رہا ہے آس محل اونچی اونچی رنگ رنگیلی دیواریں ہیں چاروں جانب ہر پتھر پر مانی اور بہزاد سے بڑھ کر نئے انوکھے نقش بنے ہیں دیواریں ہیں کتنی انوکھی جن میں لاکھوں طاق بنے ہیں ان طاقوں میں میری آنکھیں لرزاں لرزاں دیپک بن کر ہر دم جلتی رہتی ہیں اور ...

مزید پڑھیے

منہ کس طرح سے موڑ لوں ایسے پیام سے

منہ کس طرح سے موڑ لوں ایسے پیام سے مجھ کو بلا رہا ہے وہ خود اپنے نام سے سوئے تو سبز پیر کا سایہ سرک گیا ڈیرا جما رکھا تھا بڑے اہتمام سے کیسے مٹا سکے گا مجھے سیل آب و گل نسبت ہے میرے نقش کو نقش دوام سے گو شہر خفتگاں میں قیامت کا رن پڑا تلوار پھر بھی نکلی نہ کوئی نیام سے ہالہ بنا ...

مزید پڑھیے

گم گشتہ منزلوں کا مجھے پھر نشان دے

گم گشتہ منزلوں کا مجھے پھر نشان دے میری زمین مجھ کو مرا آسمان دے زخموں کی آبرو کو نہ یوں خاک میں ملا چادر مرے لہو کی مرے سر پہ تان دے یہ دھڑکنوں کا شور قیامت سے کم نہیں اے رب صوت مجھ کو دل بے زبان دے یا مجھ سے چھین لے یہ مذاق بلند و پست یا میرے بال و پر کو کھلا آسمان دے مانگا تھا ...

مزید پڑھیے

مری جبیں کا مقدر کہیں رقم بھی تو ہو

مری جبیں کا مقدر کہیں رقم بھی تو ہو میں کس کو سامنے رکھوں کوئی صنم بھی تو ہو کرن کرن ترا پیکر کلی کلی چہرہ یہ لخت لخت بدن اب کہیں بہم بھی تو ہو مرے نصیب میں آخر خلا نوردی کیوں مری زمیں ہے تو اس پر مرا قدم بھی تو ہو ہر ایک شخص نے کتبہ اٹھا رکھا ہے یہاں کسی کے ہاتھ میں آخر کوئی علم ...

مزید پڑھیے

ذات کے کمرے میں بیٹھا ہوں میں کھڑکی کھول کر

ذات کے کمرے میں بیٹھا ہوں میں کھڑکی کھول کر خود کو میں بہلا رہا ہوں اپنے منہ سے بول کر صرف ہونٹوں کا تبسم زیست کا گلزار ہے اب نہ دنیا کو دکھا اشکوں کے موتی رول کر لفظ کی نازک صدا پر زندگی کا بوجھ ہے بات بھی دنیا خریدے اس جہاں میں تول کر اک جگہ ٹھہرے ہوئے ہیں سب پرانے واسطے اپنی ...

مزید پڑھیے

دریا کو اپنے پاؤں کی کشتی سے پار کر

دریا کو اپنے پاؤں کی کشتی سے پار کر موجوں کے رقص دیکھ لے خود کو اتار کر سورج ترے طواف کو نکلے گا رات دن تو آپ وقت ہے تو نہ لمحے شمار کر ہابیل تیری ذات میں قابیل ہے مگر اپنے لہو کو بیچ دے خواہش کو مار کر اشکوں کے دیپ بک گئے بازار میں تو کیا عہد گراں میں اپنے پسینے سے پیار کر اک ...

مزید پڑھیے

نہیں تھا زخم تو آنسو کوئی سجا لیتا

نہیں تھا زخم تو آنسو کوئی سجا لیتا کسی بہانے غم آبرو بچا لیتا خبر نہ تھی کہ سیاہی کا جال پھیلے گا لہو کی آگ سر شام ہی جلا لیتا زباں پہ حرف بھی آیا جنوں کا پتھر بھی میں بے لباس تھا کس کس کا آسرا لیتا جگا دیا تھا دکھوں کے جلوس نے ورنہ میں آج دامن شب تاب سے ہوا لیتا پلٹ گیا کوئی ...

مزید پڑھیے

سواد شام پہ سورج اترنے والا ہے

سواد شام پہ سورج اترنے والا ہے ٹھہر بھی جا کہ یہ منظر ابھرنے والا ہے ملیں گے داغ ستارے چراغ و شبنم بھی غموں کی رات کا چہرہ نکھرنے والا ہے چلو جلوس کی صورت میں زندگی والو ذرا سی دیر میں لمحہ گزرنے والا ہے کوئی تو دہر میں زندہ رہے خداوندا ترے جہان میں انسان مرنے والا ہے وہ اپنی ...

مزید پڑھیے

گنبد ذات میں اب کوئی صدا دوں تو چلوں

گنبد ذات میں اب کوئی صدا دوں تو چلوں اپنے سوئے ہوئے ساتھی کو جگا لوں تو چلوں پھر بکھر جاؤں گا میں راہ میں ذروں کی طرح کوئی پیمان وفا خود سے میں باندھوں تو چلوں جانے تو کون ہے کس سمت بلاتا ہے مجھے تیری آواز کی پرچھائیں کو چھو لوں تو چلوں بجھ نہ جائیں ترے جلووں کے مقدس فانوس اپنے ...

مزید پڑھیے

بات سورج کی کوئی آج بنی ہے کہ نہیں

بات سورج کی کوئی آج بنی ہے کہ نہیں وہ جو اک رات مسلسل تھی کٹی ہے کہ نہیں تیرے ہاتھوں میں تو آئینہ وہی ہے کہ جو تھا سوچتا ہوں مرا چہرہ بھی وہی ہے کہ نہیں مجھ کو ٹکرا کے بہ ہر حال بکھرنا تھا مگر وہ جو دیوار سی حائل تھی گری ہے کہ نہیں اس کا چہرہ ہے کہ مہتاب وہ آنکھیں ہیں کہ جھیل بات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1676 سے 6203