قومی زبان

ایک بار ہی کر لیں روز خودکشی کیسی

ایک بار ہی کر لیں روز خودکشی کیسی بے ضمیر لوگوں کے ساتھ زندگی کیسی جب زکوٰۃ بٹتی ہے اک قطار ہوتے ہیں شہر کے عمائد میں اتنی مفلسی کیسی لگتا ہے قیامت اب کچھ ہی فاصلے پر ہے سورجوں کی آنکھوں میں اتنی تیرگی کیسی سات پردوں کے پیچھے بھی گرج نہیں سکتے میں سمجھ نہیں پاتا ہے یہ بے حسی ...

مزید پڑھیے

پھول سوئے ہوئے تھے چھاتی پر

پھول سوئے ہوئے تھے چھاتی پر رات کتنا مہک رہا تھا گھر اشک سیراب ہیں لہو پی کر اور پیاسا ہے بھائی کا خنجر پیٹھ کانٹوں سے ہو گئی چھلنی حوصلہ تھا اٹھا دیا بستر دل ربا نام ہے کہانی کا خوں چشیدہ ہے ایک اک منظر منہ اندھیرے ہی جاگنا ہے تجھے میرے زخموں پہ اپنے کان نہ دھر

مزید پڑھیے

بجھ گئے سارے ماہتاب ترے

بجھ گئے سارے ماہتاب ترے اب کہاں ہیں وہ آفتاب ترے پیدا ہوتے ہی پر نکل آئے دیکھ دن آئیں گے خراب ترے تجھ سے نفرت کی انتہا ہے یہ سونے دیتے نہیں ہیں خواب ترے خود کو لگنے نہ دوں کوئی کانٹا تیرے ہاتھوں سے لوں گلاب ترے تیرے چہرے پہ پوت دی کالک میری ٹھوکر پہ سب عذاب ترے اب تو خوش ہے کہ ...

مزید پڑھیے

سو تو جاؤں چراغ گل کر کے

سو تو جاؤں چراغ گل کر کے زخم کھلنے لگیں گے بستر کے اپنی شدت کو معتبر کر لوں تیرے ہونٹوں پہ دستخط کرکے وہ تو جنت کی کھڑکیاں نکلیں جن سے میں جھانکتا تھا ڈر ڈر کے سیکڑوں بجلیاں گرا ڈالیں ایک جگنو نے روشنی کرکے دھوپ میں اور بھی نکھرتے ہیں پھول ہیں یہ تو سنگ مرمر کے

مزید پڑھیے

تبدیلی

مرا بیٹا بلوغت کی حدیں چھونے لگا ہے اسے نازک رنگا رنگ تتلیاں خوش آ رہی ہیں وہ اکثر گنگناتا ہے دھنک نغمے اب اس کی پتلیوں میں سبز فصلیں لہلہاتی ہیں وہ سوتا ہے تو خوابوں میں کہیں گل گشت کرتا ہے اب اس کی مسکراہٹ میں چبھن ہے اور اس کے ہاتھ گستاخی کے جویا ہو چلے ہیں وہ کانوں پر یقیں کرنے ...

مزید پڑھیے

آخری نظم

زمیں جس سے مجھ کو شکایت رہی ہے کہ وہ سب کے حصے میں ہے کچھ نہ کچھ ایک میرے سوا زمیں جس پہ رہنا ہی کار عبث تھا وہی چھوڑنی پڑ رہی ہے تو میں اتنا گھبرا رہا ہوں کہ اب میری یک رنگ روز اور شب ماہ اور سال کی ساری اکتاہٹیں کیا ہوئیں

مزید پڑھیے

عجب معرکہ

یہ معرکہ بھی عجب ہے کہ جس سے لڑتا ہوں وہ میں ہی خود ہوں رجز مرا مرے دشمن کے حق میں جاتا ہے جو چل رہے ہیں وہ تیر و تفنگ اپنے ہیں جو کاٹتے ہیں وہ سامان جنگ اپنے ہیں میں سرخ رو ہوں تو خود اپنے خوں کی رنگ سے میں آشنا ہوں خود ایذا دہی کی لذت سے عجیب جنگ مرے اندروں میں چھڑتی ہے مری انا مری ...

مزید پڑھیے

لاکھ چاہا میں نے پردہ سامنے آیا نہیں

لاکھ چاہا میں نے پردہ سامنے آیا نہیں میری آنکھوں نے اسے ڈھونڈا مگر پایا نہیں رہرو دشت تمنا کا سفر مشکل ہوا دھوپ تا حد نظر ہے اور کہیں سایہ نہیں کچھ دنوں سے بڑھ رہا ہے میرے دل کا اضطراب اک بھی لمحے نے مجھے آرام پہنچایا نہیں نقش ہے میری صدا اب تک در و دیوار پر تیرے کانوں سے تو اک ...

مزید پڑھیے

اگرچہ میں نے لکھیں اس کو عرضیاں بھی بہت

اگرچہ میں نے لکھیں اس کو عرضیاں بھی بہت اڑائیں اس نے مگر ان کی دھجیاں بھی بہت ملے گا فائدہ کچھ زیست کے سفر میں مجھے اگرچہ اس میں ہے اندیشۂ زیاں بھی بہت مرے قریب جب آؤ گے جان جاؤ گے برائیاں ہیں اگر مجھ میں خوبیاں بھی بہت بڑے دکھوں میں گزاری ہے زندگی پھر بھی جہاں میں چھوڑی ہیں ہم ...

مزید پڑھیے

ایک پتھر کو راستہ نہ دکھا

ایک پتھر کو راستہ نہ دکھا گھپ اندھیرے میں آئنہ نہ دکھا دل رکھا ہے اتار دے خنجر دور سے رس بھری گھٹا نہ دکھا وہ صدا جو سنائی دی ہی نہیں اس صدا کے تو نقش پا نہ دکھا آسماں ہی میں سوکھ جائے گھٹا ایسی تصویر بد دعا نہ دکھا میں جہنم سے بھی نبھا لوں گا اب یہ چہرہ بھی پھول سا نہ دکھا سرد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1654 سے 6203