قومی زبان

اک گھنا سا شجر مرے بازو

اک گھنا سا شجر مرے بازو ہر پرندے کا گھر مرے بازو تیری آنکھوں نے بارہا رکھے اپنی میزان پر مرے بازو میرؔ اثر مجھ سے لینے آئے تھے لے گئے کاٹ کر مرے بازو پیٹھ پر وار کر گیا سیلاب رہ گئے بے خبر مرے بازو لے لیے پاؤں میرے بیٹے نے ہو گئے معتبر مرے بازو

مزید پڑھیے

عبور کر نہ سکا میں غرور دریا کا

عبور کر نہ سکا میں غرور دریا کا ہے سرخیوں میں برابر قصور دریا کا کسی پلک میں نمی تک نہیں رہی باقی چلا گیا کہاں چہروں سے نور دریا کا ہر ایک موج کی ہے نبض میرے ہاتھوں میں میرے شعور میں ضم ہے شعور دریا کا ہر ایک حرف سے اک تشنگی سی رستی ہے احاطہ کرتی ہیں کیا یہ سطور دریا کا بجا نہیں ...

مزید پڑھیے

سفر سے کس کو مفر ہے لیکن یہ کیا کہ بس ریگ زار آئیں

سفر سے کس کو مفر ہے لیکن یہ کیا کہ بس ریگ زار آئیں کہیں کوئی سائبان بھی دے کہ گرد وحشت اتار آئیں یہ خشک سالی کہ مدتوں سے چمن میں آ کر پسر گئی ہے کبھی تو نخل مراد جھومے کہیں تو کچھ برگ و بار آئیں زمیں کہ گل پوش بھی رہی اور فلک پہ قوس قزح بھی جھومی مزے مزے کی وہ ساعتیں تھیں چلو یہ دن ...

مزید پڑھیے

سوال گونج کے چپ ہیں جواب آئے نہیں

سوال گونج کے چپ ہیں جواب آئے نہیں جو آنے والے تھے وہ انقلاب آئے نہیں یہ کیا حضر کہ سفر کی ضرورتیں ہی نہ ہوں یہ کیا سفر کہ کہیں پر سراب آئے نہیں وہ ایک نیند کی جو شرط تھی ادھوری رہی ہماری جاگتی آنکھوں میں خواب آئے نہیں دعا کرو کہ خزاں میں ہی چند پھول کھلیں کہ اب کے موسم گل میں ...

مزید پڑھیے

والد صاحب کی یاد میں

یہ تو صدیوں کا قصہ تھا یہاں تو ایک بڑا سا پیڑ ہوا کرتا تھا جلتی، تپتی، بھنتی اور سلگتی رت میں اس کے نیچے یہیں کہیں پر ایک جزیرہ سا آباد رہا کرتا تھا خنک خنک سائے میں ہنستے ،گاتے مسکاتے لوگوں کی اک بستی تھی یہاں تو ایک بڑا سا پیڑ ہوا کرتا تھا یہی دھوپ جو آج یہاں پر چیخ رہی ہے پل بھر ...

مزید پڑھیے

ایک منجمد لمحہ

مرے باطن میں صد ہا رنگ کے موسم کئی منظر، رتیں، طوفان، پل پل پل رہے ہیں اور اپنی موت مرتے جا رہے ہیں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اک موسم، کوئی منظر، کوئی رت یا کوئی طوفاں تسلسل کی کڑی سے ٹوٹ کر اک لمحہ رکتا ہے ذرا سا منجمد ہوتا ہے اور اک نظم ہوتی ہے

مزید پڑھیے

ایک بیمار صبح

اگر معذور ہو چستی سے پر لوگوں کو دیکھو اندھیرے منہ ،وہ اک اخبار والا گزشتہ روز کی سب لعنتوں کو رول کر کے تمہارے بند دروازے پہ کب کا پھینک کر جا بھی چکا ہے تمہارا دودھ والا شیر خواروں کی صبح ہونے سے پہلے دودھ دے کر جا چکا ہے اگر معذور ہو کھڑکی کے شیشوں سے چپک کر بیٹھ جاؤ اور ...

مزید پڑھیے

امی کی یاد میں

امی کی یہ جائے نماز مجھے دے دو مجھے پتہ ہے اس میں کتنی روشن صبحیں جذب ہوئی ہیں کتنی سناٹی دوپہریں اس کی سیون میں زندہ ہیں مغرب کے جھٹ پٹ انوار کی شاہد ہے یہ آخر شب کا گریہ اس کے تانے بانے کا حصہ ہے مجھے پتہ ہے امی کے پاکیزہ سجدوں کی سرگوشی اس کے کانوں میں زندہ ہے اس کے سچے سچے ...

مزید پڑھیے

عجیب خواہش

میں چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا جوان ہو کر کسی حسینہ کی کاکلوں کا اسیر ٹھہرے مری دعا ہے کہ یہ روایت نہ ٹوٹ جائے اسے بھی کچھ دل کی رہنمائی میں زندگی کو گزارنے کا شرف عطا ہو مشین اس کو بھی بن ہی جانا ہے آخرش بس دعا یہی ہے کہ منطقوں اور مصلحت کی نپی تلی زندگی سے پہلے وہ جی کے دیکھے خود اپنی ...

مزید پڑھیے

تمام قضیہ مکان بھر تھا

تمام قضیہ مکان بھر تھا مکان کیا تھا مچان بھر تھا یہ شہر لا حد و سمت میرا گلوب میں اک نشان بھر تھا روایتوں سے کوئی تعلق جو بچ رہا پان دان بھر تھا گمان بھر تھے تمام دھڑکے تمام ڈر امتحان بھر تھا طمانیت بارشوں میں حل تھی جو خوف تھا سائبان بھر تھا جو جست تھی ایک مشت بھر تھی جو شور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1655 سے 6203