قومی زبان

ہوا کی چادر صد چاک اوڑھے جا رہے ہیں

ہوا کی چادر صد چاک اوڑھے جا رہے ہیں سوارو کس طرف منہ زور گھوڑے جا رہے ہیں ہمیں بھی یاد کر لینا جب ان پر پھول آئیں ہم اپنا خون پودوں پر نچوڑے جا رہے ہیں ثمر تو کیا شجر پر کوئی پتہ بھی نہیں ہے مگر ہم ہیں کہ شاخوں کو جھنجھوڑے جا رہے ہیں یہ کس صبح حقیقت میں کھلی ہے آنکھ میری کہ تیرے ...

مزید پڑھیے

بارش نہیں لاتی کبھی افلاک سے خوشبو

بارش نہیں لاتی کبھی افلاک سے خوشبو خود جھوم کے اٹھتی ہے اسی خاک سے خوشبو اس باغ طلسمات کے پھولوں کا تو کیا ذکر آتی ہے وہاں کے خس و خاشاک سے خوشبو سو منظر خوں رنگ تھے کونپل سے کلی تک پھوٹی نہیں یونہی گل صد چاک سے خوشبو احساس کو چھو جائے تو چھو جائے وگرنہ رہتی ہے گریزاں حد ادراک ...

مزید پڑھیے

اس اجڑے شہر کے آثار تک نہیں پہنچے

اس اجڑے شہر کے آثار تک نہیں پہنچے مؤرخین دل زار تک نہیں پہنچے تمام عمر مسافت میں کٹ گئی اپنی مگر ہنوز در یار تک نہیں پہنچے پٹی پڑی ہیں تہیں سوچ کے سمندر کی کئی گہر لب اظہار تک نہیں پہنچے کئی تراشنے کے درمیان ٹوٹ گئے تمام سنگ تو شہکار تک نہیں پہنچے تمام گلشن امکاں نثار ہے تجھ ...

مزید پڑھیے

سر سے اترے نہیں پھول منزل کی دھن ہم سفر بات سن

سر سے اترے نہیں پھول منزل کی دھن ہم سفر بات سن راہ میں خار آئیں تو تلووں سے چن ہم سفر بات سن دھوپ میں تو سفر سخت دشوار ہے بے شجر راہ کا سر کی خاطر کوئی سوچ سایہ ہی بن ہم سفر بات سن رابطہ اپنا زرخیز مٹی سے رکھ اور سر سبز رہ کھا گیا کتنے سوکھے درختوں کو گھن ہم سفر بات سن کچھ بتا دل ...

مزید پڑھیے

پرندے ہوتے اگر ہم ہمارے پر ہوتے

پرندے ہوتے اگر ہم ہمارے پر ہوتے ذرا سی دیر میں اک دوسرے کے گھر ہوتے بلا سے ہجر کی راتیں طویل تر ہوتیں مگر نہ وصل کے دن اتنے مختصر ہوتے ہم اپنے مرکز و محور سے کٹ گئے ورنہ اس ایک در کے جو ہوتے نہ در بدر ہوتے تمہاری چاہ میں اتنا تو ہم سے ہو سکتا تمہاری راہ میں پھولوں بھرا شجر ...

مزید پڑھیے

مرے قلم کا اگر سر کبھی قلم ہوگا

مرے قلم کا اگر سر کبھی قلم ہوگا نیا فسانۂ درد و الم رقم ہوگا یہ مانتی ہوں مٹا دے گا میرا دور مجھے نئے زمانے کا اس خاک سے جنم ہوگا میں اپنے آپ کی پہچان بھول بیٹھی ہوں اب اس سے اور بڑا کیا کوئی ستم ہوگا نہ جانے کیوں مجھے سچ بولنے کی عادت ہے یہ جان کر کہ ہر اک گام سر قلم ہوگا چلو ...

مزید پڑھیے

ماضی سے اپنی آنکھ کو تر کر لیا کریں

ماضی سے اپنی آنکھ کو تر کر لیا کریں تاروں کی روشنی میں سفر کر لیا کریں کانٹوں سی لفظیات ہے اپنی زباں کا سچ یہ سچ قبول ہو تو نظر کر لیا کریں آساں ترین موت کی سب کوششیں فضول اتنی ہی ٹھوکروں میں گزر کر لیا کریں دریا سے کوئی گفتگو کرنے سے پیشتر پتھر پہ تیز اپنا ہنر کر لیا کریں جب ...

مزید پڑھیے

اس درجہ جل رہا ہوں بدن کے الاؤ میں

اس درجہ جل رہا ہوں بدن کے الاؤ میں سورج اتر گئے ہیں مرے گھاؤ گھاؤ میں جمنے لگا رگوں میں لہو برف کی طرح پھر کوئی تیرتا ہے نظر کے بہاؤ میں اک آن میں ضمیر کا پانی اتر گیا کچھ فرق آ گیا جو کہیں رکھ رکھاؤ میں ایسا نہ ہو بلند ستارے بھی ڈوب جائیں لمبا سفر نہ کیجئے کاغذ کی ناؤ میں

مزید پڑھیے

آ گئے کیا چراغ آنکھوں کے

آ گئے کیا چراغ آنکھوں کے عرش پر ہیں دماغ آنکھوں کے بوڑھا ہوتا ہوں اشک باری میں کب دھلیں گے یہ داغ آنکھوں کے زندگی بھر یوں ہی مہکتے رہیں میری بانہوں میں باغ آنکھوں کے آج کے بعد اگر تجھے دیکھوں ٹوٹ جائیں ایاغ آنکھوں کے آئنوں ہی میں وہ چھپا ہے کہیں معتبر ہیں سراغ آنکھوں کے

مزید پڑھیے

خواب میں بھی ادھر جو دل جائے

خواب میں بھی ادھر جو دل جائے پھول کی طرح زخم کھل جائے وصل ہو تو ہمارا ایسا ہو دستخط دستخط سے مل جائے میرا آنسو زمیں پہ گرتے ہی سوچ لیجے زمیں نہ ہل جائے اتنی چھوٹی ہو یہ گلی کہ میرا تیرے بازو سے بازو چھل جائے

مزید پڑھیے
صفحہ 1653 سے 6203