ہوا کی چادر صد چاک اوڑھے جا رہے ہیں
ہوا کی چادر صد چاک اوڑھے جا رہے ہیں سوارو کس طرف منہ زور گھوڑے جا رہے ہیں ہمیں بھی یاد کر لینا جب ان پر پھول آئیں ہم اپنا خون پودوں پر نچوڑے جا رہے ہیں ثمر تو کیا شجر پر کوئی پتہ بھی نہیں ہے مگر ہم ہیں کہ شاخوں کو جھنجھوڑے جا رہے ہیں یہ کس صبح حقیقت میں کھلی ہے آنکھ میری کہ تیرے ...