لاکھ مجھے دوش پہ سر چاہیئے
لاکھ مجھے دوش پہ سر چاہیئے سیل بلا کو مرا گھر چاہیئے زاد سفر سے کہیں کٹتی ہے راہ دل میں فقط شوق سفر چاہیئے خیر ہو تابانیٔ خورشید کی شب کے دلاروں کو سحر چاہیئے اب یہ طلب ہے کہ ہوس چھوڑیئے پیڑ نہیں مجھ کو ثمر چاہیئے مانگتے ہیں وہ بھی زمیں سے مراد سوئے فلک جن کی نظر چاہیئے اب ...