قومی زبان

لاکھ مجھے دوش پہ سر چاہیئے

لاکھ مجھے دوش پہ سر چاہیئے سیل بلا کو مرا گھر چاہیئے زاد سفر سے کہیں کٹتی ہے راہ دل میں فقط شوق سفر چاہیئے خیر ہو تابانیٔ خورشید کی شب کے دلاروں کو سحر چاہیئے اب یہ طلب ہے کہ ہوس چھوڑیئے پیڑ نہیں مجھ کو ثمر چاہیئے مانگتے ہیں وہ بھی زمیں سے مراد سوئے فلک جن کی نظر چاہیئے اب ...

مزید پڑھیے

ہوا کے لمس سے بھڑکا بھی ہوں میں

ہوا کے لمس سے بھڑکا بھی ہوں میں شرارہ ہی نہیں شعلہ بھی ہوں میں وہ جن کی آنکھ کا تارہ بھی ہوں میں ان ہی کے پاؤں کا چھالا بھی ہوں میں اکہرا ہے مرا پیراہن ذات برا ہوں یا بھلا جیسا بھی ہوں میں ہوا نے چھین لی ہے میری خوشبو مثال گل اگر مہکا بھی ہوں میں مرے رستے میں حائل ہے جو ...

مزید پڑھیے

تیرے ہاتھوں جو سرافراز ہوئے

تیرے ہاتھوں جو سرافراز ہوئے ہم سے کس بات میں ممتاز ہوئے کیا وہ دستک سے نہ کھل سکتے تھے ہم پہ ٹھوکر سے جو در باز ہوئے شام تک ان کا نشاں بھی نہ رہا صبح جو محو تگ و تاز ہوئے کیا بنیں گے وہ کسی کے ہم راز! خود جو اپنے لیے اک راز ہوئے کیا تمسخر ہے کہ راشدؔ ہم بھی کچھ نہ ہونے سے سخن ساز ...

مزید پڑھیے

فرق کوئی نہیں مگر ہے بھی!

فرق کوئی نہیں مگر ہے بھی! تلخ دونوں ہیں زہر بھی مے بھی شور اتنا ہے جس کے ہونے کا کون جانے کہ وہ کہیں ہے بھی سینۂ آدمی کی بات ہے اور یوں تو چھلنی ہے سینۂ نے بھی یوں بھی چپ ہوں ترے بدلنے پر پہلے جیسی نہیں کوئی شے بھی میرے بارے میں سوچنے والے میرے بارے میں کچھ کریں طے بھی دے رہے ...

مزید پڑھیے

اب کیا گلہ کہ روح کو کھلنے نہیں دیا

اب کیا گلہ کہ روح کو کھلنے نہیں دیا اس نے تو مجھ کو خاک میں ملنے نہیں دیا کوشش ہوا نے رات بھر اپنی سی کی مگر زنجیر در کو میں نے ہی ہلنے نہیں دیا اک بار اس سے بات تو میں کر کے دیکھ لوں اتنا بھی آسرا مجھے دل نے نہیں دیا کرتا وہ اپنے آپ کو کیا مجھ پہ منکشف اس نے تو مجھ سے بھی مجھے ملنے ...

مزید پڑھیے

محفل میں تو بس وہ سج رہا ہے

محفل میں تو بس وہ سج رہا ہے اپنے کو جو کچھ سمجھ رہا ہے دستک ترے ہاتھ کی ہے لیکن دروازہ ہوا سے بج رہا ہے نکلا تھا میں گھر سے منہ اندھیرے اب رات کا ایک بج رہا ہے پھر خود کو دکھائی دے گیا ہوں پھر سوچ کا تار الجھ رہا ہے اس دور کا ہے وہی پیمبر جو اپنے حقوق تج رہا ہے کیا ہو جو کہیں برس ...

مزید پڑھیے

شہر غفلت کے مکیں ویسے تو کب جاگتے ہیں

شہر غفلت کے مکیں ویسے تو کب جاگتے ہیں ایک اندیشۂ شب خوں ہے کہ سب جاگتے ہیں شاید اب ختم ہوا چاہتا ہے عہد سکوت حرف اعجاز کی تاثیر سے لب جاگتے ہیں راہ گم کردۂ منزل ہیں کہ منزل کا سراغ کچھ ستارے جو سر قریۂ شب جاگتے ہیں عکس ان آنکھوں سے وہ محو ہوئے جو اب تک خواب کی مثل پس چشم طلب ...

مزید پڑھیے

لوگ کہ جن کو تھا بہت زعم وجود شہر میں

لوگ کہ جن کو تھا بہت زعم وجود شہر میں پھیل کے رہ گئے فقط صورت دود شہر میں ہم سے جہاں انیک تھے بد تھے وہی کہ نیک تھے سچ ہی تو ہے کہ ایک تھے بود و نبود شہر میں تنگیٔ رزق کا گلا جن کو یہاں سدا رہا! توڑ کے دیکھتے ذرا اپنی حدود شہر میں اتنے برس کے بعد بھی لوگ ہیں ہم سے اجنبی جانے ہوا تھا ...

مزید پڑھیے

لوٹا جانے والوں نے

لوٹا جانے والوں نے یاد نہ آنے والوں نے کس پستی میں گھسیٹ لیا ہاتھ بڑھانے والوں نے کر ہی دیا دیوار کو در سر ٹکرانے والوں نے سچ بھی مجھے کہنے نہ دیا زہر پلانے والوں نے کیا کیا ڈھونڈ نکالا ہے خود کھو جانے والوں نے مجھ کو چھین لیا مجھ سے آنے جانے والوں نے پیٹھ میں خنجر گھونپ ...

مزید پڑھیے

کچھ یوں بھی مجھے راس ہیں تنہائیاں اپنی

کچھ یوں بھی مجھے راس ہیں تنہائیاں اپنی رہتی ہیں جلو میں مرے پرچھائیاں اپنی مشہور یہی لوگ کبھی اہل نظر تھے! اب ڈھونڈتے پھرتے ہیں جو بینائیاں اپنی اپنا ہی سہارا تھا سر معرکۂ ذات کس کام کی تھیں ورنہ صف آرائیاں اپنی میں اور بھرے شہر میں اس طرح اکیلا! وہ سونپ گیا ہے مجھے تنہائیاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1638 سے 6203