قومی زبان

دنیا میں ہے یوں تو کون بے غم

دنیا میں ہے یوں تو کون بے غم پوچھے کوئی کیوں اداس ہیں ہم کیا شہر کے باسیوں کو معلوم کرتے ہیں غزال کس طرح رم کرتے رہے عمر بھر وضاحت پر رہ گئی بات پھر بھی مبہم شکوہ تو ہے دوسروں سے لیکن ناراض ہیں اپنے آپ سے ہم ہر سانس کے ساتھ کر رہے ہیں گزری ہوئی زندگی کا ماتم اوروں کی نظر میں ...

مزید پڑھیے

اپنی قسمت آزمانے شہر میں

اپنی قسمت آزمانے شہر میں آتے رہتے ہیں دوانے شہر میں ہیں نشانے پر ترے پاگل ہوا اور کتنے آشیانے شہر میں خانۂ دل کو سجانے کے لئے کیا نہیں میرے سہانے شہر میں آج بھی ہے منفرد اپنا مقام آج بھی ہیں جانے مانے شہر میں ایسے ہیں جیسے ہواؤں میں دیے ہم غریبوں کے ٹھکانے شہر میں اور کچھ ...

مزید پڑھیے

اب کہاں ان کا حسیں ساتھ چلو سو جائیں

اب کہاں ان کا حسیں ساتھ چلو سو جائیں پھیکی پھیکی ہے ہر اک رات چلو سو جائیں منتقل کر دیں دل و ذہن کہیں اور اپنے جان لے لیں نہ یہ صدمات چلو سو جائیں ہجر کی شب تو یوں ہی جاگتے گزری ساری اب سحر سے ہے ملاقات چلو سو جائیں موسم گل میں بھی اب سوئے ہوئے رہتے ہیں اب کہاں یار وہ جذبات چلو سو ...

مزید پڑھیے

دھوکے کھاتا رہا بار بار آدمی

دھوکے کھاتا رہا بار بار آدمی پھر بھی کرتا رہا اعتبار آدمی گھومتا پھرتا ہے ذہن و دل میں لئے مسئلے زندگی کے ہزار آدمی اپنے مطلب کی خاطر مرے آپ کے ڈالتا ہے دلوں میں درار آدمی کوئی آتا نہیں مدتوں تک یہاں کس کا کرتا ہے یہ انتظار آدمی مسئلے رنج و غم جال پھیلائے ہیں ہوتا رہتا ہے ہر ...

مزید پڑھیے

وہ نظر روٹھی ہوئی ہے آج بھی

وہ نظر روٹھی ہوئی ہے آج بھی بکھری بکھری زندگی ہے آج بھی ٹوٹے پھوٹے گاؤں کے گھر میں نظر جانے کس کو ڈھونڈھتی ہے آج بھی آ گئی تھی ان کے جانے سے جو کل زندگی میں وہ کمی ہے آج بھی نہ سہی گہری برائے نام ہی ان سے میری دوستی ہے آج بھی عاشقوں کے ذہن و دل پر حکمراں حسن کی بازی گری ہے آج ...

مزید پڑھیے

جانے ہوتا ہے کب کہاں دیکھو

جانے ہوتا ہے کب کہاں دیکھو وقت اب ہم پہ مہرباں دیکھو وہ جو بدلا تو کیا تعجب ہے رنگ بدلے ہے آسماں دیکھو خاک اڑا کرتی تھی جہاں پہلے پھول کھلتے ہیں اب وہاں دیکھو کیا کیا گزرے ہیں نامور اب تک ان زمینوں سے بے نشاں دیکھو ساتھ غم کے خوشی بھی شامل ہے پھول کانٹوں کے درمیاں دیکھو جانے ...

مزید پڑھیے

دریا تھا کہ سمندر تھا وہ

دریا تھا کہ سمندر تھا وہ دھند میں ڈوبا منظر تھا وہ چاند جسے کہتی ہے دنیا کل شب میرے در پر تھا وہ دل کے بدلے دل لے لینا شاید کہ سوداگر تھا وہ میں تو زمیں کی خاک سے بھی کم آسمان کا اختر تھا وہ جانتا نہ تھا سنگ تراشی یوں کہنے کو آذر تھا وہ ہاتھ لگا نہ ایک صدف بھی کہنے کو تو شناور ...

مزید پڑھیے

ہاتھ سے چھو کر یہ نیلا آسماں بھی دیکھتے

ہاتھ سے چھو کر یہ نیلا آسماں بھی دیکھتے جو افق کے پار ہیں وہ بستیاں بھی دیکھتے مطمئن ہیں جو بہت کھلتے دریچے دیکھ کر وہ کسی دن بند ہوتی کھڑکیاں بھی دیکھتے اس خرابے میں بھی ممکن ہے کوئی آباد ہو اک نظر اندر سے یہ اجڑا مکاں بھی دیکھتے آج جس تن پر نظر آتی ہے زخموں کی قبا کل اسی تن پر ...

مزید پڑھیے

دل جس سے کانپتا ہے وہ ساعت بھی آئے گی

دل جس سے کانپتا ہے وہ ساعت بھی آئے گی وہ آئے گا تو کوئی مصیبت بھی آئے گی میں آج تیری راہ کا پتھر سہی مگر کل تجھ کو پیش میری ضرورت بھی آئے گی جھیلے ہیں اپنی جان پہ ہم نے وہ حادثے دل مانتا نہیں کہ قیامت بھی آئے گی اس کی کشیدگی کا سبب کچھ بھی ہو مگر مجھ کو گماں نہ تھا کہ یہ نوبت بھی ...

مزید پڑھیے

مجھے خاموش کر دو

بہت بکنے لگا ہے یہ دل حسرت زدہ اب تو کہیں ایسا نہ ہو کچھ راز کی باتیں بھی کہہ جائے مگر اس مسئلے کا ایک حل یہ ہے مرے منہ کھولتے ہی تم مجھے چپ شاہ کے روزے کی چپکے سے قسم دے کر زباں کا بت مرے ہونٹوں کی محرابوں میں رکھ دو اور مجھے خاموش کر دو

مزید پڑھیے
صفحہ 1639 سے 6203