قومی زبان

غنیمت ہے ہنس کر اگر بات کی

غنیمت ہے ہنس کر اگر بات کی یہاں کس نے کس کی مدارات کی گھٹن کیوں نہ محسوس ہو شہر میں ہوا چل پڑی ہے مضافات کی نظر اس کو میں آتا ہوں ٹھیک ٹھاک اسے کیا خبر میرے حالات کی ہمیں آج حق سے بھی محروم ہیں ہمیں پر تھی بارش مراعات کی مقدر تو میرا سنوارو گے کیا! لکیریں مٹا دو مرے ہات کی زیاں ...

مزید پڑھیے

وہ جو خود اپنے بدن کو سائباں کرتا نہیں

وہ جو خود اپنے بدن کو سائباں کرتا نہیں کیوں نہ پچھتائے کہ سایہ آسماں کرتا نہیں جانے کیوں اک دوسرے کے لوگ ہیں شکوہ گزار کون کس کے حوصلوں کا امتحاں کرتا نہیں کچھ نہیں کھلتا کہ آخر کیا کہانی ہے جسے لوگ سننا چاہتے ہیں میں بیاں کرتا نہیں اس سے ملتے وقت تجھ کو ساتھ رکھوں کس طرح میں ...

مزید پڑھیے

ٹوٹ جائے تو کہیں اس کو بھی چین آتا ہے

ٹوٹ جائے تو کہیں اس کو بھی چین آتا ہے دل بے تاب تڑپ کر ہی سکوں پاتا ہے آپ آتے تو ٹھہر جاتے یہ لمحے شاید وقت کو یوں بھی گزرنا ہے گزر جاتا ہے اس تصور سے کہ شب بھر تری رہ دیکھیں گے شام آتی ہے تو دل ڈوب کے رہ جاتا ہے غم کا احساس بھی گنبد کی صدا ہو جیسے دل سے ٹکراتا ہے پھر دل میں پلٹ آتا ...

مزید پڑھیے

غور کرو تو چہرہ چہرہ اوڑھے گہرے گہرے رنگ

غور کرو تو چہرہ چہرہ اوڑھے گہرے گہرے رنگ جگ البم میں بھرے پڑے ہیں اندھے گونگے بہرے رنگ کل شب اس دھرتی پر میں تھا یا پھر چاند ستارے تھے اک منظر تھا تنہا میں اور چاروں اور سنہرے رنگ تیری یاد بھی دھل جائے گی اس موسم کی بارش میں برکھا رت میں دیواروں پر آخر کب تک ٹھہرے رنگ وحشی ...

مزید پڑھیے

اردو

جبین وقت پر کیسی شکن ہے ہم نہیں سمجھے کوئی کیوں کر حریف علم و فن ہے ہم نہیں سمجھے کسی بھی شمع سے بے زار کیوں ہو کوئی پروانہ یہ کیا اس دور کا دیوانہ پن ہے ہم نہیں سمجھے بہت سمجھے تھے ہم اس دور کی فرقہ پرستی کو زباں بھی آج شیخ و برہمن ہے ہم نہیں سمجھے اگر اردو پہ بھی الزام ہے باہر سے ...

مزید پڑھیے

جسے اڑان کے بدلے تھکان دیتا ہے

جسے اڑان کے بدلے تھکان دیتا ہے خدا اسے بھی تو اونچی اڑان دیتا ہے اسی کے حصے میں آتی ہے منزل مقصود جو ہر قدم پہ یہاں امتحان دیتا ہے عجیب بات ہے اس پہ ستم کہ بارش ہے جو چاہتا ہے تمہیں تم پہ جان دیتا ہے دہک رہی ہے یہی آگ میرے سینے میں قسم وہ کھا کے بھی جھوٹا بیان دیتا ہے مزار حسن سے ...

مزید پڑھیے

بھلے ہی مرا حوصلہ پست ہوتا

بھلے ہی مرا حوصلہ پست ہوتا مقابل تو کوئی زبردست ہوتا گزارا تو پہلے بھی کرتا ہی تھا میں مزا جب تھا بالکل تہی دست ہوتا تری دستگیری کہاں اور کہاں میں ترا آسرا ہی سر دست ہوتا میں پھوٹا تھا جس شاخ پر بن کے کونپل اسی شاخ میں کاش پیوست ہوتا گلاس ایک تھا پینے والے کئی تھے تو کیا منتقل ...

مزید پڑھیے

کس شے کا سراغ دے رہا ہوں

کس شے کا سراغ دے رہا ہوں اندھے کو چراغ دے رہا ہوں دیتے نہیں لوگ دل بھی جس کو میں اس کو دماغ دے رہا ہوں بخشش میں ملی تھیں چند کلیاں تاوان میں باغ دے رہا ہوں تو نے دیئے تھے جسم کو زخم میں روح کو داغ دے رہا ہوں زخموں سے لہو ٹپک رہا ہے قاتل کو سراغ دے رہا ہوں

مزید پڑھیے

کسی کی جیت کا صدمہ کسی کی مات کا بوجھ

کسی کی جیت کا صدمہ کسی کی مات کا بوجھ کہاں تک اور اٹھائیں تعلقات کا بوجھ انا کا بوجھ بھی آیا اسی کے حصے میں بہت ہے جس کے اٹھانے کو اپنی ذات کا بوجھ جھٹک دیا ہے کبھی سر سے بار ہستی بھی اٹھا لیا ہے کبھی سر پہ کائنات کا بوجھ ابھی سے آج کے دن کا حساب کیا معنی ابھی تو ذہن پہ باقی ہے کل ...

مزید پڑھیے

جو قرض مجھ پہ ہے وہ بوجھ اتارتا جاؤں

جو قرض مجھ پہ ہے وہ بوجھ اتارتا جاؤں کوئی سنے نہ سنے میں پکارتا جاؤں مٹا چکا ہوں جسے اپنے صفحۂ دل سے غزل غزل وہی چہرہ ابھارتا جاؤں نہ جانے میرے تعاقب میں کون کون آئے میں اپنے نقش کف پا ابھارتا جاؤں جو میرے پاس ہے اپنے لیے بچا رکھوں جو میرے پاس نہیں تجھ پہ وارتا جاؤں قدم قدم پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1637 سے 6203