خرد نے لاکھ سر و برگ اجتناب کیا
خرد نے لاکھ سر و برگ اجتناب کیا تری نگہ کو مرے دل نے کامیاب کیا کرم بھی تو نے جو اے آسماں جناب کیا سکون دل کو مبدل بہ اضطراب کیا نثار اس نگہ دل نواز کے جس نے اسیر درد کیا وقف اضطراب کیا مجھے تری نگہ انتخاب پر ہے یہ رشک جہان بھر سے مجھے اس نے انتخاب کیا دل حزیں گلۂ جور اس سے جس ...