قومی زبان

خرد نے لاکھ سر و برگ اجتناب کیا

خرد نے لاکھ سر و برگ اجتناب کیا تری نگہ کو مرے دل نے کامیاب کیا کرم بھی تو نے جو اے آسماں جناب کیا سکون دل کو مبدل بہ اضطراب کیا نثار اس نگہ دل‌ نواز کے جس نے اسیر درد کیا وقف اضطراب کیا مجھے تری نگہ انتخاب پر ہے یہ رشک جہان بھر سے مجھے اس نے انتخاب کیا دل حزیں گلۂ جور اس سے جس ...

مزید پڑھیے

ساقئ رنگیں ادا تھا بادۂ گلفام تھا

ساقئ رنگیں ادا تھا بادۂ گلفام تھا ناصح مشفق لحاظ توبہ مشکل کام تھا جو تجلی آشنا تھا جلوہ گاہ عام میں وہ نگاہیں تھیں ہماری یا دل ناکام تھا میرا افسانہ سنایا قیس نے فرہاد نے اب بھی میں بدنام ہوں پہلے بھی میں بدنام تھا ان کی محفل میں فقط میں ہی نہ تھا حسرت زدہ شمع بھی افسردہ تھی ...

مزید پڑھیے

رہ عشق میں زندگانی لٹا دی

رہ عشق میں زندگانی لٹا دی ملی جاودانی تو فانی لٹا دی وہ تھی خواہ باقی کہ فانی لٹا دی ترے نام پر زندگانی لٹا دی محبت کی اک نا مرادی کی خاطر زمانے کی ہر شادمانی لٹا دی دل زار نے تیرے جلوؤں کے آگے توانائی و ناتوانی لٹا دی خودی جس میں بستی وہ بستی تو دل نے بہ تقریب یک لن ترانی لٹا ...

مزید پڑھیے

جب میسر ہے کہ شغل بادہ و مینا کریں

جب میسر ہے کہ شغل بادہ و مینا کریں کیوں غم امروز کیوں اندیشۂ فردا کریں قابل تعزیر ہوں ہم بھی اگر شکوہ کریں ان کو مشق جور کرنا ہے بہت اچھا کریں دل یہ کہتا ہے انہیں آٹھوں پہر دیکھا کریں آہ اے احساس نام و ننگ تجھ کو کیا کریں حسن ہے سرگرم جلوہ عشق ہے بے تاب شوق اب بتائے کوئی ارباب ...

مزید پڑھیے

ذکر طوفاں بھی عبث ہے مطمئن ہے دل مرا

ذکر طوفاں بھی عبث ہے مطمئن ہے دل مرا ناخدا تم ہو تو پھر دریا مرا ساحل مرا رہنمائے‌ زندگی ہے اضطراب دل مرا چل رہا ہے کارواں منزل پس منزل مرا قصۂ منصور ہو یا داستان کوہ کن جو فسانہ دیکھیے اک باب ہے شامل مرا مل رہا ہے زندگی کو آج عنواں سہی منفعل کیوں ہو نصیب دشمناں قاتل مرا چند ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسا بے سر و پا زیست کا نظام رہا

کچھ ایسا بے سر و پا زیست کا نظام رہا کہ جو اصول بنایا وہ ناتمام رہا حریم ناز میں کچھ ایسا اہتمام رہا اٹھے حجاب مگر شوق تشنہ کام رہا وہ کم نصیب سکندر ہوں میں خدا کی پناہ پہنچ کے چشمۂ حیواں پہ تشنہ کام رہا چھپائے آرزوئے دل گیا ترے در تک طواف کعبہ مقصود بے مرام رہا اگر ہو اذن ...

مزید پڑھیے

کم سے کم تذکرۂ عشق کا عنواں ہو جائے

کم سے کم تذکرۂ عشق کا عنواں ہو جائے دل ہوا ہے جو پریشاں تو پریشاں ہو جائے دیکھ ایسا نہ ہو اے شوق شہادت کہ کہیں حسن کی ہستئ مستور نمایاں ہو جائے آپ کی شان کرم کے تو یہی شایاں ہے آرزو منفعل تنگئ داماں ہو جائے بال بکھرائے وہ آتے ہیں عیادت کو مری کہیں شیرازۂ ہستی نہ پریشاں ہو جائے

مزید پڑھیے

ہو امتحان وفا حشر تک تو عار نہیں

ہو امتحان وفا حشر تک تو عار نہیں مری جناب میں ناکامیوں کو بار نہیں قبائے ہستیٔ باطل جو تار تار نہیں تو اے دل اہل جنوں میں ترا شمار نہیں ہے شرط جلوہ گہہ ناز میں ادب لیکن نگاہ بس میں نہیں دل پہ اختیار نہیں سنا ہے جب سے سر حشر جلوہ گر ہو گے وہ کس کا دل ہے کہ مرہون انتظار نہیں کبھی ...

مزید پڑھیے

نزع میں اب مرے جینے کی دعا کرتے ہیں

نزع میں اب مرے جینے کی دعا کرتے ہیں میری جان آپ پہ قربان یہ کیا کرتے ہیں کیسی دلگیر ہے روداد محبت اے دوست ہم کہا کرتے ہیں اور لوگ سنا کرتے ہیں مے پرستی کوئی بدعت نہیں ہم تو اے شیخ سنت حافظؔ و خیامؔ ادا کرتے ہیں جور محبوب کا ہوتا ہو کہیں ذکر تو ہم بن کے انجان توجہ سے سنا کرتے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں آنکھوں میں محبت کا پیام آ ہی گیا

آنکھوں آنکھوں میں محبت کا پیام آ ہی گیا مرحبا اذن وداع ننگ و نام آ ہی گیا عافیت کے نام وحشت کا پیام آ ہی گیا لو یہ افسانہ قریب اختتام آ ہی گیا کم سے کم جذب وفا اتنا تو کام آ ہی گیا بے ارادہ ان کے لب پر میرا نام آ ہی گیا شیخ کا سب زہد و تقویٰ آج کام آ ہی گیا جب وہ مینائے رواں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1635 سے 6203