ہم ہیں اور نا مراد قسمت ہے
ہم ہیں اور نا مراد قسمت ہے کیا یہی حاصل محبت ہے قید صیاد میں خیال چمن گر قیامت نہیں تو آفت ہے شوق بیتاب حسن مستغنی عشق کی زندگی مصیبت ہے جس کی تفسیر دونوں عالم ہیں وہ فقط ایک لفظ الفت ہے
ہم ہیں اور نا مراد قسمت ہے کیا یہی حاصل محبت ہے قید صیاد میں خیال چمن گر قیامت نہیں تو آفت ہے شوق بیتاب حسن مستغنی عشق کی زندگی مصیبت ہے جس کی تفسیر دونوں عالم ہیں وہ فقط ایک لفظ الفت ہے
یہ آنسو کس لئے رکتا نہیں ہے سمندر تو کہیں پیاسا نہیں ہے کہیں پتھرا نہ جائیں اس کی آنکھیں بچھڑ کر مجھ سے وہ رویا نہیں ہے قیامت دل پے نہ گزرے تو کہنا تمہارا دل ابھی ٹوٹا نہیں ہے سلامت ہیں سبھی کمروں کے شیشے کوئی پتھر ابھی آیا نہیں ہے نکل جاؤ کہیں تم اے پرندو ہوا نے راستہ روکا ...
جو خود نہ اپنے ارادے سے بدگماں ہوتا قدم اٹھاتے ہی منزل پہ کارواں ہوتا فریب دے کے تغافل وبال جاں ہوتا جو اک لطیف تبسم نہ درمیاں ہوتا دماغ عرش پہ ہے تیرے در کی ٹھوکر سے نصیب ہوتا جو سجدہ تو میں کہاں ہوتا قفس سے دیکھ کے گلشن ٹپک پڑے آنسو جہاں نظر ہے یہاں کاش آشیاں ہوتا ہمیں نے ان ...
خیال حسن میں یوں زندگی تمام ہوئی حسین صبح ہوئی اور حسین شام ہوئی وقار عشق بس اب سر جھکا دے قدموں پر ادھر سے تیرے لیے سبقت سلام ہوئی ہر ایک اپنی جگہ خوش ہر اک یہی سمجھا نگاہ خاص بطرز نگاہ عام ہوئی نظر ملی تو تبسم رہا خموشی پر نظر پھری تو ذرا ہمت کلام ہوئی بس اب تو تم نے محبت کا ...
وہ آنسو جو ہنس ہنس کے ہم نے پیے ہیں تمہارے دئیے تھے تمہارے لیے ہیں کریں وہ جو چاہیں کہیں وہ جو چاہیں میں پابند الفت مرے لب سیے ہیں تمہارے ہی رحم و کرم کے سہارے نہ معلوم مر مر کے کیونکر جیے ہیں بڑی دیر تک جس سے پونچھے تھے آنسو وہ دامن ابھی ہاتھ ہی میں لیے ہیں اسے میں ہی سمجھوں ...
حسن کی فطرت میں دل آزاریاں اس پہ ظالم نت نئی تیاریاں سادگی میں آ گئیں دل داریاں پھول اٹھیں اک پھول میں پھلواریاں متصل طفلی سے آغاز شباب خواب کے آغوش میں بیداریاں چارہ سازوں کی وہ قاتل غفلتیں درد مندوں کی وہ غیرت داریاں بس ہجوم شوق اب اس بھیڑ میں کھوئی جاتی ہیں مری خود ...
واسطہ کوئی نہ رکھ کر بھی ستم ڈھاتے ہو تم دل تڑپ اٹھتا ہے اب کاہے کو یاد آتے ہو تم میری سب آزادیاں بندہ نوازی پر نثار اے خوشا قید وفا زنجیر پہناتے ہو تم لاتے ہو کیف طرب دیتے ہو پیغام حیات کیا بتاؤں ساتھ کیا لے کر چلے جاتے ہو تم اس طرح چھپتے ہو جلووں کی فراوانی کے ساتھ میں سمجھتا ...
بیٹھا ہوں دل میں یار کو مہماں کئے ہوئے ذرے کو رشک مہر درخشاں کئے ہوئے تیری نگاہ لطف کے شایاں کئے ہوئے لایا ہوں دل کو رشک گلستاں کئے ہوئے اک میں کہ جمع اپنے ہی دل کو نہ کر سکا اک تم کہ جتنے دل بھی پریشاں کئے ہوئے یوں کہہ رہا ہوں گریۂ فرقت کا ماجرا ہر اشک ہے تہیۂ طوفاں کئے ...
شمع میں سوز کی وہ خو ہے نہ پروانے میں جو ہے اے برق شمائل ترے دیوانے میں لطف تھا ذکر دل سوختہ دہرانے میں سوز ہے ساز کہاں طور کے افسانے میں تھا جو اس چشم فسوں ساز کے پیمانے میں کیف وہ ڈھونڈئیے اب کون ہے میخانے میں واسطہ دست نگاریں کا تجھے اے قاتل ایک سرخی کی کمی ہے مرے افسانے ...
اور ذرا کج مری کلاہ تو ہوتی ذات سے باہر کہیں پناہ تو ہوتی مجھ کو اگر زندگی نے کچھ نہ دیا تھا میرے شب و روز کی گواہ تو ہوتی کھو گئی منزل تو خیر گرد سفر میں جس پہ میں چلتا رہا وہ راہ تو ہوتی خوف زدہ کاش کوئی مجھ کو بھی رکھتا میرے لیے بھی کہیں پناہ تو ہوتی لمحۂ موجود دسترس میں نہ ...