رہ عشق میں زندگانی لٹا دی
رہ عشق میں زندگانی لٹا دی
ملی جاودانی تو فانی لٹا دی
وہ تھی خواہ باقی کہ فانی لٹا دی
ترے نام پر زندگانی لٹا دی
محبت کی اک نا مرادی کی خاطر
زمانے کی ہر شادمانی لٹا دی
دل زار نے تیرے جلوؤں کے آگے
توانائی و ناتوانی لٹا دی
خودی جس میں بستی وہ بستی تو دل نے
بہ تقریب یک لن ترانی لٹا دی
بتائی بہت قدر عزت کی ہم نے
مگر ایک دل نے نہ مانی لٹا دی
مرا جرم کیا ہے کہ برہم ہیں ناصح
لٹانے کی شے تھی جوانی لٹا دی
گیا زیست کے ساتھ داغ الم بھی
خجل ہوں کہ ان کی نشانی لٹا دی
مگر حال دل شعر میں ان سے کہہ لوں
طبیعت کی ساری روانی لٹا دی
بہ فرمائش یار دم ساز میں نے
رشیدؔ آج جادو بیانی لٹا دی