قومی زبان

سو اب تعبیر کی دھن ہے کہ دیکھے جا چکے ہیں

سو اب تعبیر کی دھن ہے کہ دیکھے جا چکے ہیں وگرنہ خواب نا ممکن سے آگے جا چکے ہیں ہمارے ذمے ہے آئندگاں کی موت کا دکھ اور ان کا غم جو ہم لوگوں سے پہلے جا چکے ہیں بہت سے لوگ اب بد ظن ہیں گاؤں کے خدا سے بہت سے لوگ شہروں میں کمانے جا چکے ہیں ہم آئندہ زمانوں کی غزل ترتیب دیں گے تمہاری بے ...

مزید پڑھیے

یہ کیا ہوا میں اڑے اور پروں سے شعر کہے

یہ کیا ہوا میں اڑے اور پروں سے شعر کہے نئے پرند سے کہہ دو سکوں سے شعر کہے جب اک غزل سے نہ ٹوٹا وہ سومنات بدن تو میں نے سترہ نئے زاویوں سے شعر کہے ہر ایک شخص پہ کھلتا کہاں ہے باب عطا عزیز ہم نے بڑی منتوں سے شعر کہے سخن بلند تھا تم سے سو دیکھ لو ہم نے تمہارے بعد سبھی سرنگوں سے شعر ...

مزید پڑھیے

نظم

جھلکا جھلکا سپیدۂ صبح جھلکا جھلکا سپیدۂ صبح تارے چھپتے ہیں جھلملا کر ہے نور سا جلوہ گر فلک پر بھینی بھینی مہک گلوں کی اور نغمہ زنی وہ بلبلوں کی وقت صحرا اور تنگ ہوا ہے بے مے سب کرکرا مزا ہے اک چلو کے دینے میں یہ تکرار اٹھو جاگو سحر ہوئی یار دریا کی طرف چلے نہانے غٹ پریوں کے ...

مزید پڑھیے

بلند ہمت سے آسماں میں شگاف ہم سے نہیں ہوا ہے

بلند ہمت سے آسماں میں شگاف ہم سے نہیں ہوا ہے شکست کا بھی ابھی تلک اعتراف ہم سے نہیں ہوا ہے اے بندگان ہوس ابھی ہم سلامتی جاں کی چاہتے ہیں فقیر گوشہ نشیں ہیں پر اعتکاف ہم سے نہیں ہوا ہے لرزتے ہونٹوں سے پھر دعا کی قبولیت کے ہیں منتظر ہم یہ ایک سچ ہے قصور اپنا معاف ہم سے نہیں ہوا ...

مزید پڑھیے

ہنر کو لمس معانی سے میں گلاب کروں

ہنر کو لمس معانی سے میں گلاب کروں ہیں لفظ اپنے سبھی کس کا انتخاب کروں جو چپ رہوں تو تعلق پہ بوجھ بن جاؤں کہوں تو جرم کا جیسے میں ارتکاب کروں خراشیں ڈال کے چہرے پہ جا رہا ہے وقت پلٹ کے دیکھے وہ مجھ کو تو احتساب کروں تو جل کے بجھ گیا کیسے مرے لہو کے چراغ بیاض درد ترے نام انتساب ...

مزید پڑھیے

پھسلا تو میاں طے ہے کہ غرقاب تو ہوگا

پھسلا تو میاں طے ہے کہ غرقاب تو ہوگا آنکھوں میں سمندر نہ سہی خواب تو ہوگا گم صم سا جو اک شخص ہے دالان میں بیٹھا اس کا بھی کوئی حلقۂ احباب تو ہوگا مت مجھ سے الجھ یار بس اتنا سا سمجھ لے جو خود کو میسر نہیں نایاب تو ہوگا

مزید پڑھیے

وہ ہونٹ جو کسی سازش کے تانے بانے لگے

وہ ہونٹ جو کسی سازش کے تانے بانے لگے جواب بن نہیں پایا تو مسکرانے لگے مؤرخین بتاتے ہیں دو دلوں سے اٹھی ہمیں جو آگ بجھاتے ہوئے زمانے لگے ہمارے عہد میں اک علم ہے معیشت بھی ہمارے عہد کے سقراط بھی کمانے لگے ہمارا اس سے بچھڑنا بھی رائیگاں ہی گیا اسے ٹھکانہ ملا ہے نہ ہم ٹھکانے ...

مزید پڑھیے

کیسے اور کیوں نے احتجاج کیا

کیسے اور کیوں نے احتجاج کیا دو ہی لفظوں نے احتجاج کیا میرے بازو پہ سر رکھا اس نے اور تکیوں نے احتجاج کیا مسئلہ کوئی بھی نہیں سمجھا اور بہت سوں نے احتجاج کیا سبز پتے سکوں سے ٹوٹ گئے زرد پتوں نے احتجاج کیا وہ ملا بھی تو کچھ منٹ کے لئے اور گھنٹوں نے احتجاج کیا

مزید پڑھیے

کیا کروں اس مسئلے کے سامنے

کیا کروں اس مسئلے کے سامنے دشت ہے کچے گھڑے کے سامنے تہ بہ تہ منظر کھلے گا آنکھ پر آئنہ ہے آئنے کے سامنے اس لرزتے اشک کی ہمت تو دیکھ ڈٹ گیا ہے قہقہے کے سامنے جان لے کہ تیرے لب کچھ بھی نہیں آگہی کے ذائقے کے سامنے کر رہی ہے بے ثباتی پر خطاب ایک سوئی بلبلے کے سامنے جانتا ہوں ماسک ...

مزید پڑھیے

رسوا کیا ہے اس نے جہاں بھر کے سامنے

رسوا کیا ہے اس نے جہاں بھر کے سامنے پردے میں چھپ گیا ہے مجھے کر کے سامنے سجدہ ہے انہدام ہے کیا ہے مجھے بتا قصر بدن گرا ہے کسی در کے سامنے عریانی بڑھ رہی ہے مرے گھر کے بیچوں بیچ دیواریں اٹھ رہی ہیں مرے گھر کے سامنے یہ وقفۂ نماز بھی کتنا طویل ہے کب سے کھڑا ہوں یار کے دفتر کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1620 سے 6203