قومی زبان

اس چشم نے کہ طوطیوں کو نکتہ داں کیا

اس چشم نے کہ طوطیوں کو نکتہ داں کیا ایسی کہ اک نگہ کہ مجھے بے زباں کیا گھبراؤں کس طرح دل پر آہ سے نہ میں اس سوختہ نے اب تو نہایت دھواں کیا حال اس نے پوچھا جب نہ رہی طاقت بیاں اس پوچھنے نے اور مجھے بے زباں کیا یا رب تو اس کے دل سے سدا رکھیو غم کو دور جس نے کسی کے دل کو کبھی شادماں ...

مزید پڑھیے

عشق کے جاں نثار جیتے ہیں

عشق کے جاں نثار جیتے ہیں بعد مرنے کے یار جیتے ہیں زہر حسرت چشیدگان فراق ہیں موؤں میں ہزار جیتے ہیں دشمنوں پر تو تیغ یار نہ کھینچ ابھی تو دوست دار جیتے ہیں تو جہاں جائے مثل آب حیات مردے اب ایک بار جیتے ہیں ایک دن داؤ ہے ہمارا بھی یہاں بازی تو یار جیتے ہیں بن اجل کوئی مر نہیں ...

مزید پڑھیے

یا فقیری ہے یا کہ شاہی ہے

یا فقیری ہے یا کہ شاہی ہے عشق میں دونوں رو سیاہی ہے اس طرح اس کو موت دے یا رب زندگی میری جس نے چاہی ہے اپنا دکھلا دے گوشۂ دستار گل کو دعوئ کج کلاہی ہے کیوں کے اس پر نہ اے رضاؔ مریے خوب صورت اور سپاہی ہے

مزید پڑھیے

وبال جان ہر اک بال ہے میاں

وبال جان ہر اک بال ہے میاں تعلق دل کا کیا جنجال ہے میاں طلب میں کون دنیا کی ہو پامال یہ بیت المال کچھ بھی مال ہے میاں یہ کالائے جہاں کا منہ ہو کالا اگر سمجھو تو جی کا کال ہے میاں سنا ہوگا جو کچھ مجنوں کا احوال وہی اپنے بھی حسب حال ہے میاں تڑپ کر رو بہ رو ہم اس کے مر گئے نہ پوچھو ...

مزید پڑھیے

اے بت ناآشنا کب تجھ سے بیگانے ہیں ہم

اے بت ناآشنا کب تجھ سے بیگانے ہیں ہم تو اگر اس بزم میں مے ہے تو پیمانے ہیں ہم بوسہ لیویں یا گلے لگ جائیں آزردہ نہ ہو چاہنے والے ہیں اور دیوانے مستانے ہیں ہم کب الم اور حسرتیں اپنی کہیں اے دوستاں رات کو بلبل ہیں ہم اور دن کو پروانے ہیں ہم گھورنے سے کیا تمہاری آنکھوں کے ہم ڈر ...

مزید پڑھیے

میرے نالے پر نہیں تجھ کو تغافل کے سوا

میرے نالے پر نہیں تجھ کو تغافل کے سوا گل نہیں سنتا کسی کا شور بلبل کے سوا تم جو کچھ چاہو کرو جور و عتاب و خشم و ناز کچھ نہیں بنتا ہے عاشق سے تحمل کے سوا جو سخن رس آشنا ہیں زلف و کاکل کے تری ان کو مضموں بھی نہیں ملتا ہے سنبل کے سوا کس طرح مجھ سے جدائی تجھ کو آتی ہے پسند قافیہ گل کا ...

مزید پڑھیے

ٹک بیٹھ تو اے شوخ دل آرام بغل میں

ٹک بیٹھ تو اے شوخ دل آرام بغل میں آئے نہیں اس دل کو بھی آرام بغل میں کیوں کر کے نہ گلخن کی طرح آہ جلیں ہم اک آگ ہے یاں جس کا ہے دل نام بغل میں سر رکھ کے گریبان میں کر سیر جہاں کی آئینہ ترے جیب میں ہے جام بغل میں کس طرح رضاؔ تو نہ ہو رسوائے زمانہ جب دل سا ترے بیٹھا ہو بدنام بغل میں

مزید پڑھیے

آرزوئے وصال میں سب ہیں

آرزوئے وصال میں سب ہیں جستجوئے محال میں سب ہیں ہجر اپنی طرف سے ہے ورنہ اس طرف سے وصال میں سب ہیں وائے غفلت ادھر کی کہتے نہیں اپنی ہی قیل و قال میں سب ہیں اے رضاؔ تجھ کو کچھ خیال نہیں اپنے اپنے خیال میں سب ہیں

مزید پڑھیے

اس گھڑی کچھ تھے اور اب کچھ ہو

اس گھڑی کچھ تھے اور اب کچھ ہو کیا تماشا ہو تم عجب کچھ ہو مجھ کو کچھ دل پر اختیار نہیں تمہیں اس گھر کے اب تو سب کچھ ہو کچھ نہیں بات تس پہ یہ باتیں قہر کرتے ہو تم غضب کچھ ہو بہت کی شرم تھوڑی سی پی کر اس کے رکھتا ہوں لب پہ لب کچھ ہو عشق بازی نہیں رضاؔ بازی پہلے جاں بازی کیجے جب کچھ ...

مزید پڑھیے

یار کو بے باکی میں اپنا سا ہم نے کر لیا

یار کو بے باکی میں اپنا سا ہم نے کر لیا یعنی اس نے ٹھوکروں میں سر ہمارا دھر لیا عشق رسوا نے دی افزونی حجاب حسن کو جو اٹھا پردہ یہاں سے اس نے واں منہ پر لیا اس کو مے خواری نہیں کہتے ہیں خوں خواری ہے یہ میرے دل سے لی گزک اور غیر سے ساغر لیا نام کو دل میں جگہ چھوڑی نہ داغ عشق نے ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1606 سے 6203