قومی زبان

جو ترے در پہ میری جاں آیا

جو ترے در پہ میری جاں آیا مر گیا کہتا میں کہاں آیا دیکھیں اب کس کا پردہ اٹھے گا حرف شکوہ سر زباں آیا مت اٹھا اس کو سو جہت سے ہائے در پہ تیرے یہ ناتواں آیا تیرے ہاتھوں سے بے قرارئ دل جی ہمارا بھی اب بہ جاں آیا تو تو اک ہی طرف سے یاں سے گیا غم ہزاروں طرف سے یاں آیا مر ہی جانا بھلا ...

مزید پڑھیے

نکل مت گھر سے تو اے خانہ آباد

نکل مت گھر سے تو اے خانہ آباد کیا اب ہم نے بھی ویرانہ آباد قبول ہوگا کہیں تو سجدہ اپنا رہیں یہ کعبہ و بت خانہ آباد ہمارا ہی رہے اک جام خالی مغاں رہیو ترا مے خانہ آباد رہے اس زلف سے یہ دل پریشاں ترا گھر ہووے یوں اے شانہ آباد رضاؔ لوٹا ہے کس سفاک نے آ کبھی دل کو ترے دیکھا نہ آباد

مزید پڑھیے

گل عشاق رنگ باختہ ہے

گل عشاق رنگ باختہ ہے سرو اپنے چمن کا فاختہ ہے آتش غم سے آب سنگ ہوئے اشک آئینۂ گداختہ ہے عشق بالا ہے حسن سرکش سے سایۂ سرو بال فاختہ ہے کوئی کہتا اسیر ساغر کو ہند میں بھی ہوا مراختہ ہے دیکھ سودا رضاؔ کا دیوانے تیرا مجنوں جنون ساختہ ہے

مزید پڑھیے

طبیب دیکھ کے مجھ کو دوا نہ کچھ بولا

طبیب دیکھ کے مجھ کو دوا نہ کچھ بولا خدا کو سونپ دو اس کے سوا نہ کچھ بولا رقیب جست مرا اس کے آگے کرتا ہے سنو تو یارو کوئی آشنا نہ کچھ بولا میں جس سے پوچھا نشاں اس پری کی منزل کا وہ میرے منہ کے تئیں تک رہا نہ کچھ بولا میں عرض کی نہیں تم مجھ سے بولتے ہو کیوں وہ اتنا کہتے ہی سن ہو گیا ...

مزید پڑھیے

سچ کہہ رضاؔ یہ کس سے لگائی ہے ساٹ باٹ

سچ کہہ رضاؔ یہ کس سے لگائی ہے ساٹ باٹ کچھ پھر ہے ان دنوں میں ترا جی نپٹ اچاٹ دیکھیں گے کیوں کے چشموں سے جاتے رہوگے تم لخت جگر کی چوکی بٹھائی ہے گھاٹ گھاٹ ٹکڑے چنے ہیں دل کے جو آنکھوں کے خوان ہیں ہے کس کے میہمانی کا اے مردماں یہ ٹھاٹ اپنی گلی کے آنے سے مجھ کو نہ منع کر بد نام ہو گے ...

مزید پڑھیے

میں ہی نہیں ہوں برہم اس زلف کج ادا سے

میں ہی نہیں ہوں برہم اس زلف کج ادا سے ٹک منہ ترا جو پائیں الجھیں ابھی ہوا سے تم نے نکالنے میں کچھ کم نہ کیں جفائیں اب تک جو تھم رہے ہیں ہم اپنی ہی وفا سے پہلی نگہ میں دل پر برچھی سی لگ گئی ہے پہنچے تھے انتہا کو ہم اس کی ابتدا سے رکھنا قدم زمیں پر ٹک دیکھ کر پیارے دل راہ میں پڑے ہیں ...

مزید پڑھیے

عشق کی بیماری ہے جن کو دل ہی دل میں گلتے ہیں

عشق کی بیماری ہے جن کو دل ہی دل میں گلتے ہیں مردے ہیں وہ حقیقت میں ظاہر میں پھرتے چلتے ہیں جب راہ میں مل گئے کہنے لگے تیرے ہی گھر میں جاتا تھا جاؤ چلے لڑکا تو نہیں میں مجھ کو اپنے مچلتے ہیں اوروں کے لگانے بجھانے سے اتنا جلاتے ہو مجھ کو ڈریے ہماری آہوں سے ہم لوگ بھی جلتے بلتے ...

مزید پڑھیے

شرمندہ نہیں کون تری عشوہ گری کا

شرمندہ نہیں کون تری عشوہ گری کا بے وجہ نہیں منہ کا چھپانا ہے پری کا جو لب کو ترے دیکھ کے بے ہوش نہ ہووے دعویٰ اسی کو بھاتا ہے صاحب جگری کا تم دل ہی میں پلتے رہے ہو سیکھا کہاں سے اے اشک یہ شیوہ جو لیا پردہ دری کا جس طرح سنے مجھ سے کہے یار سے جا کر یہ ڈھب کسی کو آتا ہے پیغامبری ...

مزید پڑھیے

رستے میں تو خطرات کی سن گن بھی بہت ہے

رستے میں تو خطرات کی سن گن بھی بہت ہے منزل پہ پہنچنے کی ہمیں دھن بھی بہت ہے ہر شہر میں تازہ ہے تو بس زخم تعصب کچھ لذت ناحق کا تعاون بھی بہت ہے کچھ ہاتھوں سے کچھ ماتوں سے کالک نہیں جاتی ہر چند کہ بازار میں صابن بھی بہت ہے وہ ہاتھ تحفظ کی علامت جسے کہیے محسوس یہ ہوتا ہے وہی سن بھی ...

مزید پڑھیے

شاخ پر پھول کھل گئے ہیں نا

شاخ پر پھول کھل گئے ہیں نا تم کو پیغام مل گئے ہیں نا اک آواز حق اٹھی دیکھا اور ایوان ہل گئے ہیں نا وہ تو منہ میں زبان رکھتے تھے ان کے بھی ہونٹ سل گئے ہیں نا تم نگینہ سمجھ رہے تھے اسے کانچ سے ہاتھ چھل گئے ہیں نا جو جہاں ہے وہاں نہیں ملتا لوگ مرکز سے ہل گئے ہیں نا

مزید پڑھیے
صفحہ 1607 سے 6203