قومی زبان

اس طرح بزم میں وصف رخ جانانہ کروں

اس طرح بزم میں وصف رخ جانانہ کروں آتش شوق سے تا شمع کو پروانہ کروں عقل کا طعن نہ کر مجھ پہ ابھی اے ناصح اک سخن عشق کا کہہ تجھ کو بھی دیوانہ کروں اشک حسرت کی اگر ہووے مدد اے زاہد دل صد چاک کو میں سبحۂ صد دانہ کروں درد دل پوچھ نہ مجھ سے کہ وو باتونی ہوں حرف ہو ایک تو سو طرح سے افسانہ ...

مزید پڑھیے

ناز کا مارا ہوا ہوں میں ادا کی سوگند

ناز کا مارا ہوا ہوں میں ادا کی سوگند کشتۂ جور و جفا ہوں میں وفا کی سوگند خواہ کافر مجھے کہہ خواہ مسلمان اے شیخ بت کے ہاتھوں میں بکایا ہوں خدا کی سوگند کچھ خبر راہ فنا کی بھی رکھے ہے ہم سے کہہ دے اے خضر تجھے آب بقا کی سوگند یار سے خواری و رسوائی ہمیں بہتر ہے غیر کی عزت و حرمت سے ...

مزید پڑھیے

موت بھی آتی نہیں ہجر کے بیماروں کو

موت بھی آتی نہیں ہجر کے بیماروں کو کیا مصیبت ہے ذرا دیکھنا بیچاروں کو نالۂ دل نے ہمارے تو اثر کم نہ کیا اور معذوری زیادہ ہوئی دل داروں کو گو ہیں جنت میں مزے لیک نہیں بھولنے کا ہونٹ کا چاٹنا تجھ لب کے نمک خواروں کو اس سے بہتر نہیں کوئی چیز سوا بوسے کے رونمائی میں جو دیویں ترے ...

مزید پڑھیے

بھر نظر دیکھیں گے ہم اس کو ملا جاناں اگر

بھر نظر دیکھیں گے ہم اس کو ملا جاناں اگر دیویں گے رونے سے فرصت دیدۂ گریاں اگر حشر میں انصاف تو ہوگا ولیکن اس کو دیکھ حال اپنا کہہ سکے گا عاشق حیراں اگر اے مسلماناں کریں گے ہم سلام اس دم تمہیں آ گیا ایدھر کو وہ غارت گر ایماں اگر دل کو کرتے ہو توقع جب کے اس غم سے ہائے عشق کے آغاز ...

مزید پڑھیے

کس لیے صحرا کے محتاج تماشا ہوجیے

کس لیے صحرا کے محتاج تماشا ہوجیے چاک کیجے سینے کو اور آپھی صحرا ہوجیے کشتۂ لب ہو کے کیجے جاوداں اب زندگی کیوں عبث منت کش خضر و مسیحا ہوجیے چشم احول سب کو دیکھے ہے زیادہ آپ سے عین بینائی ہے گر اس طرح بینا ہوجیے کب تلک سرگشتہ رہیے دن کو مثل گرد باد رات کو جوں شمع جلنے کو مہیا ...

مزید پڑھیے

لازم ہے بلند آہ کی رایت نہ کرے تو

لازم ہے بلند آہ کی رایت نہ کرے تو تسخیر اگر دل کی ولایت نہ کرے تو آنکھوں کا بہے جانا سہا گریے پر افسوس اب بھی اگر اس دل میں سرایت نہ کرے تو میں موڑوں نہ منہ اس کی جفا سے پہ کروں کیا اس وقت وفا پھر جو کفایت نہ کرے تو جمعیت اغیار سے ڈرتے نہیں عاشق پر خوف یہ ہے ان کی حمایت نہ کرے ...

مزید پڑھیے

ہم مر گئے پہ شکوے کی منہ پر نہ آئی بات

ہم مر گئے پہ شکوے کی منہ پر نہ آئی بات کیوں بے زبان عاشقوں کی آزمائی بات دعوئ عشق کرنے کا کیا منہ کسی کا تھا کم بولنے نے تیرے یہ ساری بڑھائی بات ہم پیشگی کی مجھ سے کرے گفتگو رقیب منہ اس کا دیکھو ہے یہ تمہاری سکھائی بات سب کچھ پڑھایا ہم کو مدرس نے عشق کے ملتا ہے جس سے یار نہ ایسی ...

مزید پڑھیے

اب تو تم بھی جواں ہوئے ہو دیکھیں گے دل کو بچاؤ گے تم

اب تو تم بھی جواں ہوئے ہو دیکھیں گے دل کو بچاؤ گے تم مل جو گیا ہم چشم کوئی پھر آنکھ اسی سے لڑاؤ گے تم اب جو ہم تم سے کرتے ہیں تم بھی کسی سے کرو گے وہی ہم سے تمہارا سلوک ہے جیسا ویسا ہی بدلہ پاؤ گے تم بے تابی سے کرو گے کیا کیا نہ کئی کسی کی مجلس میں آؤ گے تم بیٹھو گے تم پھر آؤ گے تم اٹھ ...

مزید پڑھیے

ٹک تو محمل کا نشاں دے جلد اے صورت ذرا (ردیف .. ب)

ٹک تو محمل کا نشاں دے جلد اے صورت ذرا کب تلک بھٹکے پھریں اب ہم سے دیوانے خراب یہ بھی کچھ اندھیر ہے اب زلف تیرے درمیاں گھر بسے شانے کا اور ہوں دل کے کاشانے خراب دل تو خوں ہو بہہ گیا اور ہے جگر باقی سو اب اس کی بھی حالت لگی ہم کو نظر آنے خراب گھر بسے تو گھر میں کس کے جا بسا ہے بول ...

مزید پڑھیے

کیا نہ دیدوں سے زمانے کو سروکار ہے آج

کیا نہ دیدوں سے زمانے کو سروکار ہے آج ایک درہم جو رکھے مالک دینار ہے آج کل تو معمورۂ عالم کو ڈبایا اے چشم کیا خرابی ہے تو پھر رونے کو تیار ہے آج دیکھنا دیکھنا کیا دل میں لگی آتش عشق کیوں مرا نالۂ خوں بار شرر بار ہے آج اے رضاؔ خط سیہ اس کے نہیں چہرے پر حسن کے واقعے کا یار عزا دار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1605 سے 6203