قومی زبان

پہلے اس کی نیند میں جا کر دیکھوں گا

پہلے اس کی نیند میں جا کر دیکھوں گا پھر اس کو اک خواب سنا کر دیکھوں گا گئے دنوں سے دھول اڑا کر دیکھوں گا میں پانی میں آگ لگا کر دیکھوں گا بن موسم کی بارش اچھی لگتی ہے اس بارش میں پھول اگا کر دیکھوں گا اس کی آنکھیں خواب میں دیکھی ہیں میں نے میں اب ان میں خواب سجا کر دیکھوں گا عشق ...

مزید پڑھیے

اس کو جی دار کر دیا جائے

اس کو جی دار کر دیا جائے خود سے دو چار کر دیا جائے روشنی آ رہی ہے باہر سے در کو دیوار کر دیا جائے دل کے زنداں میں سو رہا ہے کوئی اب تو بیدار کر دیا جائے شہر گنجان ہو گیا ہے بہت شہر مسمار کر دیا جائے جاں بچانے کا اک طریقہ ہے وقف آزار کر دیا جائے روح کا گھاؤ بھرنے والا ہے پھر کوئی ...

مزید پڑھیے

اک اذیت ہے کار وحشت ہے

اک اذیت ہے کار وحشت ہے اے خدا کیا یہی محبت ہے دل ابھی تک بھرا نہیں میرا کیا ابھی چار دن کی مہلت ہے چارہ گر مجھ سے پوچھنے آئے بچ نکلنے کی کوئی صورت ہے تم مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ گے جھوٹ کہنے میں کیا قباحت ہے میں تو اس کو خدا سمجھتا ہوں دیکھنے کی کہاں اجازت ہے کوئی مجھ سے بچھڑنے والا ...

مزید پڑھیے

عشق کے چاک پر دھری دنیا

عشق کے چاک پر دھری دنیا اپنی مرضی سے پھر گڑھی دنیا اس کی آنکھیں بڑی بڑی آنکھیں میری دنیا بڑی بڑی دنیا تیری دیوانگی پہ تج دی ہے دیکھ لے یہ ہری بھری دنیا چار چیزیں ترے مقابل ہیں رنگ خوشبو و شاعری دنیا تھوڑی مشکل میں ڈال کر ہم کو سخت مشکل میں آ پڑی دنیا سر پھرا ہوں بہت مری سن ...

مزید پڑھیے

سارا جیون گزار آیا ہے

سارا جیون گزار آیا ہے اب اسے اعتبار آیا ہے اس گلی سے مجھے محبت تھی اس گلی سے ہی وار آیا ہے اس کی آنکھوں میں درد ہے میرا اس پہ کتنا نکھار آیا ہے رات مکھڑا وہی گلابی سا میرے سپنوں کے پار آیا ہے

مزید پڑھیے

رات دن محبوس اپنے ظاہری پیکر میں ہوں

رات دن محبوس اپنے ظاہری پیکر میں ہوں شعلۂ مضطر ہوں میں لیکن ابھی پتھر میں ہوں اپنی سوچوں سے نکلنا بھی مجھے دشوار ہے دیکھ میں کس بے کسی کے گنبد بے در میں ہوں دیکھتے ہیں سب مگر کوئی مجھے پڑھتا نہیں گزرے وقتوں کی عبارت ہوں عجائب گھر میں ہوں جرم کرتا ہے کوئی اور شرم آتی ہے مجھے یہ ...

مزید پڑھیے

تعزیت کی کھوکھلی ہے رسم جاری آج کل

تعزیت کی کھوکھلی ہے رسم جاری آج کل اس طرح سے ہو رہی ہے غم گساری آج کل لوگ ننگے پاؤں ہیں اور کرچیاں ہیں فرش پر اور اس پر موت کا ہے رقص جاری آج کل شوق ہے ہم کو تماشہ دیکھنے کا اور یہاں رہنما بھی مل گئے ہیں کچھ مداری آج کل اب نصاب عشق میں شامل نہیں مہر و وفا ہو گئے ہیں یہ مضامیں ...

مزید پڑھیے

حسین دنیا اجڑ گئی تو

حسین دنیا اجڑ گئی تو اگر کہیں یہ بگڑ گئی تو گماں سے آگے نکل گئی تو گماں سے آگے گمان کر لو اٹھاؤ پردہ اور دیکھ لو خود زمیں فروشی کے روپ کتنے نقاب پوشوں کی بھیڑ میں سب ہمارے کل کے یہ سوداگر ہیں ان ہی کی حرص و ہوس کے باعث ہماری دنیا اجڑ رہی ہے گرم ہواؤں میں گھر رہی ہے بدلتے موسم کا ...

مزید پڑھیے

تم اندھیاروں کی بات کرو

تم اندھیاروں کی بات کرو ہم دیپ جلاتے جائیں گے تم تعبیریں تسخیر کرو ہم خواب جگاتے جائیں گے تم تشنہ لبی کو عام کرو ہم پیاس بجھاتے جائیں گے تم مایوسی کی شام کرو ہم آس بڑھاتے جائیں گے تم زنجیریں نیلام کرو ہم ہار بناتے جائیں گے بارود کے بدلے پھولوں کے انبار لگاتے جائیں گے تم ...

مزید پڑھیے

انہی صبحوں میں وہ اک صبح نوا یاد کرو

انہی صبحوں میں وہ اک صبح نوا یاد کرو پھول کھلنے کی دعا ہے تو دعا یاد کرو اک تو بارش کے اترنے کی تھی اپنی آواز اک وہ کچھ اور تھی پتوں کی صدا یاد کرو اب وہ رت ہے کہ دریچوں میں نہ ہم ہیں نہ چراغ کتنے اطراف سے آتی تھی ہوا یاد کرو اب تو اس خواب کی خوشبو بھی کہیں ہو کہ نہ ہو ہم وہ کس موج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1592 سے 6203