قومی زبان

وہ دل کہ تھا کبھی سرسبز کھیتیوں کی طرح

وہ دل کہ تھا کبھی سرسبز کھیتیوں کی طرح سلگ رہا ہے جھلستے ہوئے تھلوں کی طرح یہ شعر جس کی زمیں کو بھی مجھ سے شکوے ہیں رہے گا یاد پرانی محبتوں کی طرح کسی جگہ پہ بھی سیاح دل ٹھہر نہ سکا جہاں کی سیر کو نکلے مسافروں کی طرح اترتی ذہن میں بھی خوش گوار دھوپ کبھی شروع گرما کے کھلتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

کسی بھی طور طبیعت کہاں سنبھلنے کی

کسی بھی طور طبیعت کہاں سنبھلنے کی تو مل بھی جائے تو حالت نہیں بدلنے کی خود اپنی ہم سفری سے بھی ہو گئے محروم کہ آرزو تھی تجھے ساتھ لے کے چلنے کی کسی طرح تو ملے قہر بیکسی سے نجات کوئی تو راہ ہو اس کرب سے نکلنے کی اسیر ہی رہے ہم پچھلے عہد ناموں کے ہمیں خبر ہی نہیں تھی رتیں بدلنے ...

مزید پڑھیے

آنچ آئے گی نہ اندر کی زباں تک اے دل

آنچ آئے گی نہ اندر کی زباں تک اے دل کتنی دیر اور مری جان کہاں تک اے دل حد زیادہ سے زیادہ کی کوئی تو ہوگی اور اس حرص کا پھیلاؤ کہاں تک اے دل تجربہ تجربہ آزاد رگ و پے میں رہا کتنی افسردگی ہے دہر سے جاں تک اے دل مہک اڑ جائے گی تفہیم کے لب کھلنے سے سحر ابلاغ کا ہے ضبط بیاں تک اے ...

مزید پڑھیے

نشان قافلہ در قافلہ رہے گا مرا

نشان قافلہ در قافلہ رہے گا مرا جہاں ہے گرد سفر سلسلہ رہے گا مرا مجھے نہ تو نے مری زندگی گزارنے دی زمانے تجھ سے ہمیشہ گلہ رہے گا مرا سیہ دلوں میں ستاروں کی فصل اگانے کو ہنر چراغ کی لو سے ملا رہے گا مرا اجڑتے وقت سے برباد ہوتی دنیا سے ترے سبب سے تعلق دلا رہے گا مرا نہ گفتگو سے یہ ...

مزید پڑھیے

بدل سکا نہ جدائی کے غم اٹھا کر بھی

بدل سکا نہ جدائی کے غم اٹھا کر بھی کہ میں تو میں ہی رہا تجھ سے دور جا کر بھی میں سخت جان تھا اس کرب سے بھی بچ نکلا میں جی رہا ہوں تجھے ہاتھ سے گنوا کر بھی خدا کرے تجھے دوری ہی راس آ جائے تو کیا کرے گا بھلا اب یہاں پر آ کر بھی ابھی تو میرے بکھرنے کا کھیل باقی ہے میں خوش نہیں ہوں ...

مزید پڑھیے

وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے

وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے رو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے اس سے کب دیکھی گئی تھی میرے رخ کی مردنی پھیر لیتا تھا وہ منہ مجھ کو دوا دیتے ہوئے خواب بے تعبیر سی سوچیں مرے کس کام کی سوچتا اتنا تو وہ دست عطا دیتے ہوئے بے زبانی بخش دی خود احتسابی نے مجھے ہونٹ سل جاتے ہیں ...

مزید پڑھیے

ہو گیا ہے ایک اک پل کاٹنا بھاری مجھے

ہو گیا ہے ایک اک پل کاٹنا بھاری مجھے مار دے گی زندگانی کی گراں باری مجھے در بدر پھر پھر کے خود اپنے سے نفرت ہو گئی کھوکھلا سا کر گیا ہے رنج بیکاری مجھے اتنا کچھ دیکھا کہ سب کچھ ایک سا لگنے لگا کر گیا ہے وقت محسوسات سے عاری مجھے میں سیہ ملبوس گزرے وقت کا ہوں ماتمی زیست نے سونپی ...

مزید پڑھیے

بجا ہے ہم ضرورت سے زیادہ چاہتے ہیں

بجا ہے ہم ضرورت سے زیادہ چاہتے ہیں مگر یہ دیکھ سب کچھ بے ارادہ چاہتے ہیں بہت دل تنگ ہیں گنجائش موجود سے ہم رہ امکاں کشادہ سے کشادہ چاہتے ہیں پرانی ہے نمو آثار ہے پھر بھی یہ مٹی بدن سے اور ابھی کچھ استفادہ چاہتے ہیں سوار آتے نہیں ہیں لوٹ کر جن گھاٹیوں سے سفر اس کھونٹ کا اک پا ...

مزید پڑھیے

مسافرت کے تحیر سے کٹ کے کب آئے

مسافرت کے تحیر سے کٹ کے کب آئے جو چوتھی سمت کو نکلے پلٹ کے کب آئے اب اپنے عکس کو پہچاننا بھی مشکل ہے ہم اپنے آپ میں حیرت سے ہٹ کے کب آئے اک انتشار تھا گھر میں بھی گھر سے باہر بھی سنور کے نکلے تھے کس دن سمٹ کے کب آئے ہم ایسے خلوتیوں سے مکالمے کو یہ لوگ جہان بھر کی صداؤں سے اٹ کے کب ...

مزید پڑھیے

اب تجھے یاد کون کرتا ہے

اب تجھے یاد کون کرتا ہے خود کو برباد کون کرتا ہے روز سپنوں کو قید کرتا ہوں جانے آزاد کون کرتا ہے سر پٹختی ہیں خواہشیں دل میں ورنہ فریاد کون کرتا ہے عشق آزار ہی رہا میرا حسن ایجاد کون کرتا ہے کیا قیامت ہے دل مرے تھم جا اتنی افتاد کون کرتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 1591 سے 6203