وہ دل کہ تھا کبھی سرسبز کھیتیوں کی طرح
وہ دل کہ تھا کبھی سرسبز کھیتیوں کی طرح سلگ رہا ہے جھلستے ہوئے تھلوں کی طرح یہ شعر جس کی زمیں کو بھی مجھ سے شکوے ہیں رہے گا یاد پرانی محبتوں کی طرح کسی جگہ پہ بھی سیاح دل ٹھہر نہ سکا جہاں کی سیر کو نکلے مسافروں کی طرح اترتی ذہن میں بھی خوش گوار دھوپ کبھی شروع گرما کے کھلتے ہوئے ...