اداس اداس تھے ہم اس کو اک زمانہ ہوا
اداس اداس تھے ہم اس کو اک زمانہ ہوا غزل کا آئنہ دیکھا تو مسکرانا ہوا نہ جانے کتنے ہی خبروں نے خودکشی کر لی چلو کہ آج کا اخبار بھی پرانا ہوا پھر آج بیتے ہوئے موسموں کی یاد آئی پھر آج رینگتے لمحوں سے دوستانہ ہوا یہ بند کمرے کی تنہائیوں کا غل تھا کہ پھر ہمارے وہم پر اک وار قاتلانہ ...