قومی زبان

آنکھیں لہولہان کیں دامن بھی تر کیا

آنکھیں لہولہان کیں دامن بھی تر کیا تیری ہر ایک بات نے دل پر اثر کیا کچھ تو طبیعتاً بھی تھے آوارہ گرد ہم کچھ تیری جستجو نے ہمیں در بدر کیا یوں تو ہمارے ساتھ کئی لوگ تھے مگر کانٹوں بھری زمین پہ تنہا سفر کیا ہم نے ہی اپنے خون کا غازہ دیا تجھے ہم نے ہی تجھ کو صنف غزل معتبر کیا کس نے ...

مزید پڑھیے

پیاس بکھری ہوئی ہے بستی میں

پیاس بکھری ہوئی ہے بستی میں اور سمندر ہے اپنی مستی میں کتنا نیچے گرا لیا خود کو آپ نے شخصیت پرستی میں کیوں کریں ہم ضمیر کا سودا ہم بہت خوش ہیں فاقہ مستی میں کل بلندی پہ آ بھی سکتے ہیں یہ جو بیٹھے ہیں آج پستی میں صوفیانہ مزاج ہے اپنا مست رہتے ہیں اپنی مستی میں

مزید پڑھیے

عشق کرنا تھا عشق کر بیٹھے

عشق کرنا تھا عشق کر بیٹھے ہم نے آفت بلائی گھر بیٹھے سب نئی روشنی کے چکر میں تیرگی کو قبول کر بیٹھے جو غلط ہے اسی کو اٹھنا ہے ہم ہیں اپنے مقام پر بیٹھے چلئے خود سے ہی بات کی جائے کون فرصت میں رات بھر بیٹھے اک ذرا ہنس کے بات کیا کر لی آپ لائن کراس کر بیٹھے جب نہیں بیچنا تھے اشک ...

مزید پڑھیے

خموشیوں میں سوال کیا ہے کوئی نہ سمجھا

خموشیوں میں سوال کیا ہے کوئی نہ سمجھا ہمیں ہے کیا غم ملال کیا ہے کوئی نہ سمجھا سبھی نے اک ایک رنگ اپنا بنا لیا ہے مگر یہ رنگوں کا جال کیا ہے کوئی نہ سمجھا جواب دینے کی اتنی جلدی پڑی تھی سب کو سوال یہ ہے سوال کیا ہے کوئی نہ سمجھا پتہ تھا سب کو سیاسی مہرے بچھے ہوئے ہیں مگر سیاست کی ...

مزید پڑھیے

آنسو اپنی چشم تر سے نکلیں تو

آنسو اپنی چشم تر سے نکلیں تو تازہ دم ہو جائیں گھر سے نکلیں تو بیماروں کو تھوڑا سا آرام ملے باہر دست چارہ گر سے نکلیں تو سچائی سے پردہ بھی ہٹ سکتا ہے اخباروں میں چھپی خبر سے نکلیں تو نا ممکن ہے واپس لوٹیں خالی ہاتھ چاند پکڑنے لیکن گھر سے نکلیں تو منظر میں کردار ہمارا بھی آ ...

مزید پڑھیے

تجربے کیجیے مزید نئے

تجربے کیجیے مزید نئے ہو بھی سکتے ہیں غم مفید نئے آنسوؤں کی غذا مہیا کر زخم دنیا سے کچھ خرید نئے قیس کی صف میں ہم کو شامل کر عشق ہم ہیں ترے مرید نئے اینڈ پکچر یہاں پہ تھوڑی ہے اور ابھی آئیں گے یزید نئے کون رشتے بحال کرتا ہے راز افشا کرے گی عید نئے رات ہونے دو پھر بتائیں گے زخم ...

مزید پڑھیے

ہمارا مقصد اگر سفر ہے طویل کرنا

ہمارا مقصد اگر سفر ہے طویل کرنا شمار ایسے میں کس لئے سنگ میل کرنا اگر محبت کے کیس میں ہو ہماری پیشی ہماری مانو تو اپنے دل کو وکیل کرنا ہمارے گھر میں جدھر سے نفرت کا داخلہ ہے بہت ضروری ہے ایسے رستوں کو سیل کرنا دلوں کے رشتے کو ایک سازش کا نام دے کر ہے ان کا مقصد محبتوں کو ذلیل ...

مزید پڑھیے

کھلے میں چھوڑ رکھا ہے مگر سلیقہ سے

کھلے میں چھوڑ رکھا ہے مگر سلیقہ سے بندھے ہوئے ہیں پرندوں کے پر سلیقہ سے ہمیں پہ فرض نہیں صرف حق پڑوسی کا تمہیں بھی چاہئے رہنا ادھر سلیقہ سے کبھی سے حالت بیمار دل سنبھل جاتی علاج کرتے اگر چارہ گر سلیقہ سے ہمارے چاہنے والے بہت ہی نازک ہیں ہماری موت کی دینا خبر سلیقہ سے بہت سی ...

مزید پڑھیے

شجر پہ بیٹھے ہوئے ہیں پنچھی تناؤ میں سب

شجر پہ بیٹھے ہوئے ہیں پنچھی تناؤ میں سب ابھی شکاری ہیں اپنے اپنے پڑاؤ میں سب محبتیں ہو رہی ہیں زخمی کسے خبر ہے ابھی ہیں مصروف اپنے رشتے چناؤ میں سب نہیں تم ایسے نہیں ہو جیسا یہ پڑھ رہے ہیں ہمیں پتا ہے قصیدہ خواں ہیں دباؤ میں سب بنا کے دن بھر مری عیادت کو اک بہانہ نمک لگانے کو ...

مزید پڑھیے

جس پل میں نے گھر کی عمارت خواب آثار بنائی تھی

جس پل میں نے گھر کی عمارت خواب آثار بنائی تھی اس لمحے ویرانی نے بھی اک رفتار بنائی تھی ہم نے ہی مہر کو زہر سے بدلا ورنہ زمیں کی گردش نے دن غم خوار بنایا تھا اور شب دل دار بنائی تھی ٹوٹے دل پلکوں سے سنبھالیں اب ایسے فن کار کہاں ورنہ یہ دنیا جب اجڑی تھی سو سو بار بنائی تھی اپنی راہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1575 سے 6203