آنکھیں لہولہان کیں دامن بھی تر کیا
آنکھیں لہولہان کیں دامن بھی تر کیا تیری ہر ایک بات نے دل پر اثر کیا کچھ تو طبیعتاً بھی تھے آوارہ گرد ہم کچھ تیری جستجو نے ہمیں در بدر کیا یوں تو ہمارے ساتھ کئی لوگ تھے مگر کانٹوں بھری زمین پہ تنہا سفر کیا ہم نے ہی اپنے خون کا غازہ دیا تجھے ہم نے ہی تجھ کو صنف غزل معتبر کیا کس نے ...