قومی زبان

تجارت کے اصولوں میں رواداری بھی ہوتی ہے

تجارت کے اصولوں میں رواداری بھی ہوتی ہے سبب نقصان کا نا تجربہ کاری بھی ہوتی ہے کتابیں ہی سلا دیتی ہیں غفلت کے اندھیروں میں کتابوں ہی سے نسل نو میں بیداری بھی ہوتی ہے جرائم پیشہ لوگوں سے کوئی خوش بھی نہیں رہتا جرائم پیشہ لوگوں کی طرف داری بھی ہوتی ہے تعجب ہے وہاں انصاف کی امید ...

مزید پڑھیے

وہ کسی طور کسی لمحہ نظر بھی آتے

وہ کسی طور کسی لمحہ نظر بھی آتے زندہ ہوتے تو کبھی لوٹ کے گھر بھی آتے آسماں ہم پہ اگر نذر عنایت کرتا خیر مقدم کے لیے شمس و قمر بھی آتے جن کے کردار کی خوشبو سے مہکتی ہے فضا ایسے مہمان کبھی تو مرے گھر بھی آتے میں اگر ہوتا زمیں زادوں کے لشکر میں شریک میرے رستے میں سمندر بھی بھنور ...

مزید پڑھیے

لذت وصل مختصر مت رکھ

لذت وصل مختصر مت رکھ شب کی تقدیر میں سحر مت رکھ آگ کرتی نہیں کسی کا لحاظ بانس کے جنگلوں میں گھر مت رکھ رزق بھی بے سبب نہیں ملتا اپنے بچوں کو بے ہنر مت رکھ تجھ کو صحرا میں رقص کرنا ہے پاؤں سے باندھ کر بھنور مت رکھ غیر ممکن نہیں فلک کی سیر ناامیدی کو ہم سفر مت رکھ تجھ کو سونا ہے ...

مزید پڑھیے

خوشی کی ساعتیں غم کی فضا نہ راس آئی

خوشی کی ساعتیں غم کی فضا نہ راس آئی کہ زندگی کو کوئی بھی ادا نہ راس آئی جسے تلاش کیا خود کو بھول کر ہم نے اسی جزیرے کی آب و ہوا نہ راس آئی پرائے گھر کے مکینوں سے کیا گلہ شکوہ ہمیں تو اپنے ہی گھر کی فضا نہ راس آئی وہی ہوا کہ ترا ہاتھ تجھ سے مانگ لیا محبتوں کے سفر میں انا نہ راس ...

مزید پڑھیے

لوگ کرنے لگے جواب طلب

لوگ کرنے لگے جواب طلب اب عدالت میں ہوں جناب طلب وہ چراغوں سے ہاتھ دھو بیٹھے کر رہے تھے جو آفتاب طلب زخم کچھ اور درج کرنے ہیں کیجیے مت ابھی حساب طلب دے چکی نیند اپنی منظوری کر لئے جائیں سارے خواب طلب مانگنا ہے تو پھر چمن مانگیں کیوں کریں ایک دو گلاب طلب

مزید پڑھیے

میں ہوں میری چشم تر ہے رات ہے تنہائی ہے

میں ہوں میری چشم تر ہے رات ہے تنہائی ہے درد میرا ہم سفر ہے رات ہے تنہائی ہے جگنوؤں سے ساتھ چلنے کی گزارش کیجیے ہجر کا لمبا سفر ہے رات ہے تنہائی ہے پھر وہی یادیں وہی آنسو وہی آہ و فغاں پھر وہی دیوار و در ہے رات ہے تنہائی ہے دوستوں کی بھیڑ کو مصروفیت میں کھو دیا آج فرصت بام پر ہے ...

مزید پڑھیے

انسان کے لباس میں پتھر کے لوگ ہیں

انسان کے لباس میں پتھر کے لوگ ہیں یہ سب مرے خیال سے باہر کے لوگ ہیں ان کو کسی کے درد کا احساس ہی نہیں پتھر ہیں جن کے ہاتھ میں پتھر کے لوگ ہیں باہر کے لوگ ہوں تو کریں بھی مقابلہ دشمن ہمارے اپنے ہی اندر کے لوگ ہیں ہم لوگ اپنی پیاس لئے گھومتے رہے سیراب ہو چکے جو سمندر کے لوگ ہیں چل ...

مزید پڑھیے

عشق کا پہلا باب چل رہا ہے

عشق کا پہلا باب چل رہا ہے قیس زیر خطاب چل رہا ہے پڑھ کے دکھ درد کی کتاب بتا کس کا کتنا حساب چل رہا ہے آنسوؤں کی جھڑی نہ لگ جائے آج موسم خراب چل رہا ہے تیر کوئی خطا نہیں ہوگا تو ابھی کامیاب چل رہا ہے بے سبب تو ہنسی نہیں آتی دل میں کچھ تو جناب چل رہا ہے آنا جانا لگا ہے نیندوں ...

مزید پڑھیے

تم کسی طور کسی شکل نہیں کر سکتے

تم کسی طور کسی شکل نہیں کر سکتے اس زمیں سے مجھے بے دخل نہیں کر سکتے ٹھیک ہے آپ مری جان تو لے سکتے ہیں میری آواز مگر قتل نہیں کر سکتے تجھ کو نقصان تو پہنچانا بہت دور کی بات تیری تصویر کو بد شکل نہیں کر سکتے شعر کہنے کا سلیقہ ہے بہت بعد کی بات ٹھیک سے ہم تو ابھی نقل نہیں کر ...

مزید پڑھیے

آپ اور ہم سلام بھی نہ کریں

آپ اور ہم سلام بھی نہ کریں نفرتیں اتنی عام بھی نہ کریں کچھ نہ بولیں ترے خلاف مگر خود سے کیا اب کلام بھی نہ کریں کر نہیں پائیں گر حفاظت آپ قتل کا انتظام بھی نہ کریں کچھ نہ کچھ ہم سے کام ہے ورنہ آپ یوں تو سلام بھی نہ کریں لوگ ہمدردیاں جتانے لگیں درد کو اتنا عام بھی نہ کریں صرف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1574 سے 6203