قومی زبان

جس نے بنایا ہر آئینہ میں ہی تھا

جس نے بنایا ہر آئینہ میں ہی تھا اور پھر اس میں اپنا تماشہ میں ہی تھا میرے قتل کا جشن منایا دنیا نے پھر دنیا نے دیکھا زندہ میں ہی تھا محل سرا کے سب چہروں کو جانتا ہوں جس سے گئے تھے دل تک راستہ میں ہی تھا دیکھ لیا زندانوں کی دیواروں نے ان سے قد میں بلند و بالا میں ہی تھا میں ہی ...

مزید پڑھیے

اب سفر ہو تو کوئی خواب نما لے جائے

اب سفر ہو تو کوئی خواب نما لے جائے کوئی آئے مجھے پلکوں پہ اٹھا لے جائے خود میں جھوموں کبھی اوروں کے لیے لہراؤں اس سے پہلے کہ ہوا میرا دیا لے جائے ہائے وہ آنکھ کہ جو حرف سجھاتی تھی کبھی اب سر کوئے غزل کون بلا لے جائے اس نے چاہا بھی تو کس ظرف سے چاہا مجھ کو جیسے سینے میں کوئی حرف ...

مزید پڑھیے

چلو چل کر وہیں پر بیٹھتے ہیں

چلو چل کر وہیں پر بیٹھتے ہیں جہاں پر سب برابر بیٹھتے ہیں نہ جانے کیوں گھٹن سی ہو رہی ہے بدن سے چل کے باہر بیٹھتے ہیں ہماری ہار کا اعلان ہوگا اگر ہم لوگ تھک کر بیٹھتے ہیں تمہارے ساتھ میں گزرے ہوئے پل ہمارے ساتھ شب بھر بیٹھتے ہیں بتاؤ کس لئے ہیں نرم صوفے قلندر تو زمیں پر بیٹھتے ...

مزید پڑھیے

روز کہتا ہے مجھے چل دشت میں

روز کہتا ہے مجھے چل دشت میں لے نہ جائے دل یہ پاگل دشت میں درج ہونی ہے نئی آمد کوئی ہو رہی ہے خوب ہلچل دشت میں ایک میں ہوں ایک ہیں مجنوں میاں ہو گئے دو لوگ ٹوٹل دشت میں عشق میں اپنے ادھوراپن جو تھا ہو گیا آ کے مکمل دشت میں رات بھر آوارگی کرتے رہے ایک میں اک چاند پاگل دشت میں

مزید پڑھیے

زخمی دن اور رات رہیں گے کتنے دن

زخمی دن اور رات رہیں گے کتنے دن دہشت میں لمحات رہیں گے کتنے دن ہر پت جھڑ کے بعد ہے موسم پھولوں کا خالی اپنے ہاتھ رہیں گے کتنے دن کتنی سانسیں کس کے پاس ہیں کیا معلوم ہم تم دونوں ساتھ رہیں گے کتنے دن پڑھنے والے چہرہ بھی پڑھ لیتے ہیں پوشیدہ حالات رہیں گے کتنے دن کتنے دن تک وہ دن ...

مزید پڑھیے

ادھر ادھر جو چراغ ٹوٹے پڑے ہوئے ہیں

ادھر ادھر جو چراغ ٹوٹے پڑے ہوئے ہیں سلام ان کو یہ آندھیوں سے لڑے ہوئے ہیں دکھا رہے ہیں ہمیں جو اپنا پھلا کے سینہ ہمیں پتہ ہے یہ کس کے بل پر کھڑے ہوئے ہیں گلے ملانے کی صلح کی ہو پہل کدھر سے ابھی تو دونوں ہی اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں حقیقتیں سب دبی ہوئی ہیں انہی کے نیچے سیاسی لوگوں ...

مزید پڑھیے

سر سے پا تک درد پہن کر بیٹھے ہیں

سر سے پا تک درد پہن کر بیٹھے ہیں ناکامی کی گرد پہن کر بیٹھے ہیں خوشحالی کے جو لباس بھیجے تم نے گھر کے سارے فرد پہن کر بیٹھے ہیں ہریالی کے انتظار میں سارے پیڑ تن پر کپڑے زرد پہن کر بیٹھے ہیں اگلے سین کی تیاری میں سب کردار افسانے کا درد پہن کر بیٹھے ہیں لہجے میں گرماہٹ اور نہ ...

مزید پڑھیے

جبھی تو زخم بھی گہرا نہیں ہے

جبھی تو زخم بھی گہرا نہیں ہے جو سنگ آیا ہے وہ پہلا نہیں ہے کبھی چہرے تھے آئینے نہیں تھے اب آئینہ ہے اور چہرہ نہیں ہے یہ اک شاعر کہ جس کو شوقؔ کہتے کبھی اک حال میں رہتا نہیں ہے کبھی ہر لفظ اعجاز مسیحا! کبھی یوں جیسے کچھ کہنا نہیں ہے کبھی آنکھیں سمندر سی سخی ہیں کبھی دریا میں اک ...

مزید پڑھیے

شاید اب روداد ہنر میں ایسے باب لکھے جائیں گے

شاید اب روداد ہنر میں ایسے باب لکھے جائیں گے سامنے دریا بہتا ہوگا لوگ سراب لکھے جائیں گے آج تو خیر اندھیری راتیں اور عذاب لکھے جائیں گے اک دن اپنی گلیوں میں بھی کچھ مہتاب لکھے جائیں گے پلکیں یوں ہی پھول چنیں گی آنکھیں یوں ہی رنگ بنیں گی دست دعا سے دیدۂ نم تک خواب ہی خواب لکھے ...

مزید پڑھیے

سلامت آئے ہیں پھر اس کے کوچہ و در سے

سلامت آئے ہیں پھر اس کے کوچہ و در سے نہ کوئی سنگ ہی آیا نہ پھول ہی برسے میں آگہی کے عجب منصبوں پہ فائز ہوں کہ آپ اپنا ہی منکر ہوں اپنے اندر سے نہ جانے کس کو یہ اعزاز فن ملا ہوگا تمام شہر میں بکھرے ہوئے ہیں پتھر سے اب اس کے موج و تلاطم میں ڈوبنے سے نہ ڈر گہر بھی تجھ کو ملے تھے اسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1576 سے 6203