جس نے بنایا ہر آئینہ میں ہی تھا
جس نے بنایا ہر آئینہ میں ہی تھا اور پھر اس میں اپنا تماشہ میں ہی تھا میرے قتل کا جشن منایا دنیا نے پھر دنیا نے دیکھا زندہ میں ہی تھا محل سرا کے سب چہروں کو جانتا ہوں جس سے گئے تھے دل تک راستہ میں ہی تھا دیکھ لیا زندانوں کی دیواروں نے ان سے قد میں بلند و بالا میں ہی تھا میں ہی ...