شجر پہ بیٹھے ہوئے ہیں پنچھی تناؤ میں سب

شجر پہ بیٹھے ہوئے ہیں پنچھی تناؤ میں سب
ابھی شکاری ہیں اپنے اپنے پڑاؤ میں سب


محبتیں ہو رہی ہیں زخمی کسے خبر ہے
ابھی ہیں مصروف اپنے رشتے چناؤ میں سب


نہیں تم ایسے نہیں ہو جیسا یہ پڑھ رہے ہیں
ہمیں پتا ہے قصیدہ خواں ہیں دباؤ میں سب


بنا کے دن بھر مری عیادت کو اک بہانہ
نمک لگانے کو آتے رہتے ہیں گھاؤ میں سب


تمہارے اندر کے آدمی سے نہیں ہیں واقف
یہ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں کاغذ کی ناؤ میں سب