قومی زبان

ہر گھڑی سانس ماجرا کیا ہے

ہر گھڑی سانس ماجرا کیا ہے زیست سے میرا رابطہ کیا ہے قید ہیں خواب اک پرندے کے پنجرے کی سمت دیکھتا کیا ہے تتلیاں پھول یا پری چہرے خواب میں کوئی دیکھتا کیا ہے مدتیں ہو گئیں صدا آئے اے کھنڈر تجھ میں گونجتا کیا ہے جب دھڑکتی نہیں ہیں دیواریں تو مکانوں میں ٹوٹتا کیا ہے

مزید پڑھیے

کس سے پوچھوں بھلا برا کیا ہے

کس سے پوچھوں بھلا برا کیا ہے زندگی تیرا فلسفہ کیا ہے یوں تو کرتی نہیں عبادت میں جانتی ہوں مگر خدا کیا ہے یہ تو اب وقت ہی بتائے گا کس سفر میں مجھے ملا کیا ہے نیند کو بھی خبر کہاں رینوؔ میرے خوابوں کی انتہا کیا ہے

مزید پڑھیے

ملنے والے کہاں کہاں سے ملے

ملنے والے کہاں کہاں سے ملے موت کو زندگی جہاں سے ملے ایسا خوش رنگ پھول ہے اک تو تیرا سانی نا گلستاں سے ملے ڈوب جا عشق کے سمندر میں راستے دل کے تو وہاں سے ملے تو خلوص و ادب کا پیکر ہے اب دعا تجھ کو ہر زباں سے ملے باب ست رنگی تجھ کو دے آئی رنگ جب تیرا آسماں سے ملے بھول بیٹھا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

دل کے دروازے پر نظر رکھیے

دل کے دروازے پر نظر رکھیے کون آتا ہے یہ خبر رکھیے پاؤں بالکل نہیں جلیں گے پھر دھوپ کے سامنے شجر رکھیے دوسرے کام بھی ضروری ہے اپنے سائے کی بھی خبر رکھیے روشنی بانٹتے ہے تارے وہاں آسمانوں پہ بھی نظر رکھیے کچھ چراغوں کو رکھیے چوکھٹ پر اور کچھ دل کی طاق پر رکھیے یہ پھسل جائے گا ...

مزید پڑھیے

پیار کا میرے تو حساب تو دے

پیار کا میرے تو حساب تو دے میرے مالک مجھے جواب تو دے خواب ہو جائیں گے حقیقت بھی شدت عشق میں شباب تو دے نور چھلکے گا تیری الفت کا اپنی چاہت کا آفتاب تو دے ہے اندھیرا ترے بنا مجھ میں اپنے چہرے کا ماہتاب تو دے لکھ دے خوشیوں سے زندگی سب کی رینوؔ کو وہ قلم کتاب تو دے

مزید پڑھیے

سبز لہجہ کہاں سمجھتا ہے

سبز لہجہ کہاں سمجھتا ہے وہ تو اپنی زباں سمجھتا ہے زاویے راس آ گئے اس کو دھوپ کو سائباں سمجھتا ہے راستے کھل گئے ہیں اس پہ مگر منزلوں کو دھواں سمجھتا ہے کرتا ہے جلد بازیاں انساں صبر کو رائیگاں سمجھتا ہے موت کا چہرہ دیکھ کر بھی وقت زیست کو جاوداں سمجھتا ہے

مزید پڑھیے

اثر پیدا کر

جبر کا دور ہے آہوں میں اثر پیدا کر ظلمت شب سے ہی آثار سحر پیدا کر جور مغرب سے نہ انداز حذر پیدا کر تخت باطل جو الٹ دیں وہ بشر پیدا کر غیر کو اپنا بنا لے وہ نظر پیدا کر سنگ ریزوں سے گہر پاش گہر پیدا کر اک نظر دیکھ کے تو بھانپ لے مقصد دل کا چشم بینا میں تفکر کا اثر پیدا کر اپنی دنیا ...

مزید پڑھیے

بچھڑتے وقت کی اس ایک بد گمانی میں

بچھڑتے وقت کی اس ایک بد گمانی میں صدائیں بہہ گئی سب آنکھ ہی کے پانی میں بہار رنگ کے سپنے ملیں گے آنکھوں میں خزاں جو لوٹ کر آئے گی شادمانی میں کسی بھی حشر سے محروم ہی رہا وہ بھی مری طرح کا جو کردار تھا کہانی میں جگہ جگہ سے سیاہی بھی دھل گئی ہوگی بہا ہے وقت جو اس ڈایری پرانی میں

مزید پڑھیے

سفر اک دوسرے کا ایک سا ہے

سفر اک دوسرے کا ایک سا ہے بدن منزل نہیں ہے مرحلہ ہے مرے ماتھے پہ جو تابندگی ہے فنا ہونے سے پہلے کی قبا ہے میں تجھ کو عمر ساری یاد آؤں ترے اس بھولنے کی یہ سزا ہے وہ محفل میں وہی تنہائی میں بھی مجھی میں آ کے مجھ کو ڈھونڈھتا ہے تری نظروں سے گزری رہ گزر بھی ہزاروں منزلوں کا راستہ ...

مزید پڑھیے

شیشہ صفت تھے آپ اور شیشہ صفت تھے ہم

شیشہ صفت تھے آپ اور شیشہ صفت تھے ہم بکھرے ہوئے سے آپ ہیں بکھرے ہوئے سے ہم اس نے تھما دی ہاتھ میں اک بانسری ہمیں پتھر اٹھا کے ہاتھ میں دینے لگے تھے ہم موجود ہے تری طرح وہ پاس بھی نہیں کیسے کہیں یہ بات اب پاگل ہوا سے ہم ہر شخص تھا تری طرف تیری ہی بزم تھی کس کو سناتے پھر ترے قصے جفا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1569 سے 6203