قومی زبان

شب دراز تجھے کچھ خبر گئی کہ نہیں

شب دراز تجھے کچھ خبر گئی کہ نہیں سحر قریب سے چھو کر گزر گئی کہ نہیں چمن میں جاؤ ذرا اور پھر بتاؤ ہمیں گلوں کے چہرے سے زردی اتر گئی کہ نہیں تمہارے شہر میں کیوں آج ہو کا عالم ہے صبا ادھر سے گزر کر ادھر گئی کہ نہیں پتا کرو مرے معشوق کی گلی جا کر بہار بھی وہیں جا کر ٹھہر گئی کہ ...

مزید پڑھیے

شب ذرا دیر سے گزرے گی نہ گھبرا اے دل

شب ذرا دیر سے گزرے گی نہ گھبرا اے دل صبح خود ہوگی نمودار ٹھہر جا اے دل کھو گئی گیسوئے جاناں کہ گھنی چھاؤں کہاں ہر طرف دھوپ کا تپتا ہوا صحرا اے دل کوچۂ یار میں آئے تھے کن امیدوں سے لٹ گئی آ کے یہاں شوق کی دنیا اے دل کیسی شورش سی بپا ہے کبھی چل کر دیکھیں قتل گاہوں میں ہے یہ کیسا ...

مزید پڑھیے

چپکے سے مجھ کو آج کوئی یہ بتا گیا

چپکے سے مجھ کو آج کوئی یہ بتا گیا کل رات میں بھی اس کی خیالوں میں آ گیا جیسے کہ کھل اٹھے کوئی جاتی بہار میں مردہ پڑا تھا میں مجھے چھو کر جلا دیا اک روشنی میں ڈوبے ہوئے تھے مرے چراغ وہ وصل کے لئے مرے پہلو میں آ گیا مدت کے بعد نیند کی لذت نہ پوچھئے نشہ چڑھا ہوا تھا سو چڑھتا چلا ...

مزید پڑھیے

جوگی

میں روح ہوں اس ویرانے کی جو خاک بگولہ پھرتی ہے اک چہرہ اس افسانے کا بیکار جو تڑپا کرتا ہے اک لاشہ ان ارمانوں کا بے دام جو بکتا رہتا ہے میں بستی بستی نگر نگر بیتاب تمنائیں لے کر خالی جھولی گدلا داماں ہر گلی گلی پھیلائے ہوئے بے خواب سی سونی آنکھوں کو کچھ خواب نئے دکھلاتا ہوں ٹوٹے ...

مزید پڑھیے

محبت میں وفا والوں کو کب ایذا ستاتی ہے

محبت میں وفا والوں کو کب ایذا ستاتی ہے یہ وہ ہیں جن کو سولی پر بھی چڑھ کر نیند آتی ہے جنون عشق کی منزل سے واقف ہی نہیں کوئی ہماری چاک دامانی پہ دنیا مسکراتی ہے مسافت راہ الفت کی نہیں آساں دل ناداں محبت ہر قدم پر سینکڑوں فتنے اٹھاتی ہے خدا معلوم کب پردہ اٹھے گا دید کب ...

مزید پڑھیے

ہوتے ہیں ختم اب یہ لمحات زندگی کے

ہوتے ہیں ختم اب یہ لمحات زندگی کے مہمان ہیں جہاں میں ہم اور دو گھڑی کے اے بے نیاز میرا سجدہ قبول کر لے میں جانتا نہیں ہوں آداب بندگی کے سانسوں کے تار تم نے غفلت سے توڑ ڈالے نغمے سنو گے اب کیوں کر ساز زندگی کے اب خیریت نہیں ہے تنظیم دو جہاں کی تیور بتا رہے ہیں اس بت کی خود سری ...

مزید پڑھیے

پھر تم رخ زیبا سے نقاب اپنے اٹھا دو

پھر تم رخ زیبا سے نقاب اپنے اٹھا دو اچھا ہے کہ آئینے کو آئینہ دکھا دو جب برق کے احساں سے بچانا ہے خودی کو خود اپنے ہی نالوں سے نشیمن کو جلا دو وہ سامنے آتے نہیں اچھا تو نہ آئیں تم جذب محبت سے حجابات اٹھا دو گل کر سکیں جس کو نہ ہواؤں کے تھپیڑے وہ شمع زمانے میں محبت کی جلا دو تم نے ...

مزید پڑھیے

یونہی گر لطف تم لیتے رہوگے خوں بہانے میں

یونہی گر لطف تم لیتے رہوگے خوں بہانے میں تو بسمل ہی نظر آئیں گے ہر سو اس زمانے میں ذرا دم لو تو پھر تم کو سنائیں داستاں دل کی ابھی کچھ رنگ بھرنا ہے ہمیں غم کے فسانے میں لہو سے ہو گئی رنگین دیکھو آستیں اپنی ہزاروں کوششیں کیں تم نے گو دامن بچانے میں یہی کہہ کر اسیران قفس آنسو ...

مزید پڑھیے

اب بھی اسی طرح سے اسے انتظار ہے

اب بھی اسی طرح سے اسے انتظار ہے اب بھی کسی خیال سے دل بے قرار ہے آتی خزاں میں بکھرے ہیں مرجھائے چند پھول اجڑا ہوا چمن ہے یہ جاتی بہار ہے یوں دل پہ لے لیا ہے کہ تن کا نہ ہوش ہے اور تن پہ جو قبا ہے تو وہ تار تار ہے آہٹ ہو کوئی اس کی طرف دوڑے جاتے ہیں تاخیر ایک پل کی بھی اب دل پہ بار ...

مزید پڑھیے

قلب و جگر کے داغ فروزاں کئے ہوئے

قلب و جگر کے داغ فروزاں کئے ہوئے ہیں ہم بھی اہتمام بہاراں کئے ہوئے دیوانۂ خرد ہو کہ مجنون عشق ہو رہنا ہے اس کو چاک گریباں کئے ہوئے پردے میں شب کے ہم نے چھپائے ہیں دل کے زخم اک تیرگی ہے درد کا درماں کئے ہوئے دل کا عجیب حال ہے بے اختیار ہے یادوں کی میزبانی کا ساماں کئے ہوئے راز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1557 سے 6203