قومی زبان

بھول جانا تھا تو پھر اپنا بنایا کیوں تھا

بھول جانا تھا تو پھر اپنا بنایا کیوں تھا تم نے الفت کا یقیں مجھ کو دلایا کیوں تھا ایک بھٹکے ہوئے راہی کو سہارا دے کر جھوٹی منزل کا نشاں تم نے دکھایا کیوں تھا خود ہی طوفان اٹھانا تھا محبت میں اگر ڈوبنے سے مری کشتی کو بچایا کیوں تھا جس کی تعبیر اب اشکوں کے سوا کچھ بھی نہیں خواب ...

مزید پڑھیے

گلشن کی فقط پھولوں سے نہیں کانٹوں سے بھی زینت ہوتی ہے

گلشن کی فقط پھولوں سے نہیں کانٹوں سے بھی زینت ہوتی ہے جینے کے لئے اس دنیا میں غم کی بھی ضرورت ہوتی ہے ہر شام و سحر قرباں جس پر دنیائے مسرت ہوتی ہے وہ پیکر راحت کیا جانے کیسی شب فرقت ہوتی ہے اے واعظ ناداں کرتا ہے تو ایک قیامت کا چرچا یاں روز نگاہیں ملتی ہیں یاں روز قیامت ہوتی ...

مزید پڑھیے

لٹا کے راہ محبت میں ہر خوشی میں نے

لٹا کے راہ محبت میں ہر خوشی میں نے لیا ہے غم کا سہارا ابھی ابھی میں نے نہ جانے کیوں تری چشم کرم کو سہہ نہ سکا ترے ستم تو سہے تھے ہنسی خوشی میں نے وہیں پہ آ گئے آنکھوں میں دفعتاً آنسو جہاں بھی دیکھ لی ہنستی ہوئی کلی میں نے نہ کھا سکیں گی نگاہیں مری فریب سکوں کہ دھڑکنوں ہی میں ...

مزید پڑھیے

سامنے ان کو پایا تو ہم کھو گئے آج پھر حسرت گفتگو رہ گئی

سامنے ان کو پایا تو ہم کھو گئے آج پھر حسرت گفتگو رہ گئی ان سے کہنا تھا روداد شام الم دل کی دل ہی میں یہ آرزو رہ گئی غم کے سانچے میں اک اک نفس ڈھل گیا ان کی محفل میں یہ دور بھی چل گیا اشک پینے سے مانا کہ دل جل گیا ضبط غم کی مگر آبرو رہ گئی تیرے نقش قدم بھی ملے جا بجا تیری محفل ترا ...

مزید پڑھیے

راز ہے بہت گہرا بات اک ذرا سی ہے

راز ہے بہت گہرا بات اک ذرا سی ہے وہ میں سامنے پھر بھی چشم شوق پیاسی ہے زندگی بھی برہم ہے موت بھی خفا سی ہے آج کل تو دونوں میں آپ کی اداسی ہے اپنی انجمن سے ہم یہ کہاں چلے آئے ہر طرف اندھیرا ہے ہر طرف اداسی ہے داغ دل کو روشن کر غم کی رات ہے لمبی شمع کا بھروسہ کیا مہ بھی بے وفا سی ...

مزید پڑھیے

ہوش و خرد سے دور ہوں سود و زیاں سے دور

ہوش و خرد سے دور ہوں سود و زیاں سے دور دیوانہ ہوں قیود‌ رسوم جہاں سے دور حد نظر سے دور زمان و مکاں سے دور منزل ہے میرے عشق کی فہم و گماں سے دور رنگینیٔ جمال سے صحرا بھی ہے چمن بیٹھا ہوں گلستاں میں مگر گلستاں سے دور یہ بے خودیٔ شوق کا عالم تو دیکھیے سجدے تو کر رہا ہوں مگر آستاں سے ...

مزید پڑھیے

گرنے والی ہے بہت جلد یہ سرکار حضور

گرنے والی ہے بہت جلد یہ سرکار حضور ہاں نظر آتے ہیں ایسے ہی کچھ آثار حضور کارواں یوں ہی بھٹکتا رہے ہر بار حضور نیک نیت نہ ہوں گر قافلۂ سالار حضور وہ جو از خود ہی بنے بیٹھے ہیں سردار حضور وقت اک دن انہیں لائے گا سر دار حضور خود کو دیتے ہیں وہ دھوکا یوں ہی بیکار حضور جو خطاؤں کا ...

مزید پڑھیے

مسلسل مجھ پہ یہ تیری عنایت مار ڈالے گی

مسلسل مجھ پہ یہ تیری عنایت مار ڈالے گی کبھی فرقت کبھی اس درجہ قربت مار ڈالے گی غریب شہر کا کیا اس کو غربت مار ڈالے گی امیر شہر کو دولت کی چاہت مار ڈالے گی سڑک پر پایا جائے گا کسی دن میرا بھی لاشہ مجھے سچ بولتے رہنے کی عادت مار ڈالے گی یہ تیری دستگیری ایک دن لے ڈوبے گی مجھ کو مری ...

مزید پڑھیے

اب اجازت دے کہ میں ہوں جاں بہ لب اے زندگی

اب اجازت دے کہ میں ہوں جاں بہ لب اے زندگی موت آتی ہے بس اب حد ادب اے زندگی کس لیے اب تک جیا ہوں اور کیوں زندہ رہوں اپنے ہونے کا بتا مجھ کو سبب اے زندگی کیوں بنی ہے جان کی دشمن مری مجھ کو بتا تیرے پیچھے میں بھلا بھاگا ہوں کب اے زندگی حسن دولت دوست دنیا دل نظر ہر ایک شے چھوڑ جاؤں گا ...

مزید پڑھیے

جس کو اتنا چاہا میں نے جس کو غزل میں لکھا چاند

جس کو اتنا چاہا میں نے جس کو غزل میں لکھا چاند چھوڑ گیا ہے مجھ کو کیسے آج وہ میرا اپنا چاند اپنے چاند کی سوچوں میں گم بیٹھا تھا تنہائی میں جانے میرے دل کے سونے آنگن میں کب نکلا چاند چھپ جائے کبھی سامنے آئے کھیلے آنکھ مچولی کیوں میری جان مجھے لگتا ہے بالکل تیرے جیسا چاند دکھ ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1497 سے 6203