تیری یاد میری بھول
تیرے خوابوں کے دریچوں سے ہٹا کر پردے کیوں جگاؤں تری خوابیدہ تمناؤں کو؟ میرے ارمان سسکتے رہیں میرے دل میں اور خبر تک نہ ملے شہر کی سلماؤں کو ہائے وہ میرے خیالوں کی درخشاں وادی جانے کیوں چاند ستاروں کی تمنا کی تھی اٹھ گئی ہوگی یوں ہی آنکھ مری تیری طرف لوگ کہتے ہیں سہاروں کی تمنا ...