قومی زبان

تیری یاد میری بھول

تیرے خوابوں کے دریچوں سے ہٹا کر پردے کیوں جگاؤں تری خوابیدہ تمناؤں کو؟ میرے ارمان سسکتے رہیں میرے دل میں اور خبر تک نہ ملے شہر کی سلماؤں کو ہائے وہ میرے خیالوں کی درخشاں وادی جانے کیوں چاند ستاروں کی تمنا کی تھی اٹھ گئی ہوگی یوں ہی آنکھ مری تیری طرف لوگ کہتے ہیں سہاروں کی تمنا ...

مزید پڑھیے

خواب

آنکھ بند ہوتے ہی خواب جاگ جاتے ہیں خواب نیند کا جادو کون کون آتا ہے! کوئی اجنبی چہرہ کوئی جانا پہچانا! کوئی دل ربا لڑکی کوئی دوست کی بیوی کوئی غیر کی عورت! جسم جگمگاتے ہیں! لمحہ لمحہ وحشت ہے ہر گناہ افسانہ دھڑکنوں کا نذرانہ جب بھی آنکھ کھلتی ہے خود سے خوف آتا ہے تجھ سے جی چراتا ...

مزید پڑھیے

اجنبی

اجنبی رہنے دے مجھ کو، مجھے اپنا نہ بنا میں تری مانگ ستاروں سے نہیں بھر سکتا تیرے دامن کو بہاروں سے نہیں بھر سکتا میری بے رنگ فضاؤں میں کہاں شام و سحر میرے تاریک گھروندے میں کہاں تیرا گزر میرے صحرا سے گلستانوں کی امید نہ کر اجڑی دنیا سے شبستانوں کی امید نہ کر اجنبی رہنے دے مجھ کو، ...

مزید پڑھیے

تنہائی

اپنی یاد لیتی جاؤ اب نہ رکھ سکوں گا میں اس کو میری تنہائی ساتھ رکھ نہیں سکتی مجھ کو میری تنہائی بار بار کہتی ہے اس سے میرا کیا رشتہ اس سے میری بن پائے یہ کبھی نہیں ممکن رات دن بگڑتی ہے لڑتی ہے جھگڑتی ہے جانتی ہوں میں لیکن اس کے بس میں رہتا ہوں رات پھر یہ جھگڑا تھا لاکھ اس کو ...

مزید پڑھیے

کارواں لٹ گیا راہبر چھٹ گیا رات تاریک ہے غم کا یارا نہیں

کارواں لٹ گیا راہبر چھٹ گیا رات تاریک ہے غم کا یارا نہیں راہ میں بھی کوئی شمع جلتی نہیں آسماں پر بھی کوئی ستارا نہیں یہ بہار و خزاں یہ خوشی اور غم یہ حسیں نازنیں دل کے پتھر صنم سب سہارے ہیں بس چار دن کے لیے زندگی بھر کا کوئی سہارا نہیں میری غیرت مری آن کا امتحاں تیری سازش پہ ...

مزید پڑھیے

پھول بکھراتی ہر اک موج ہوا آتی ہے

پھول بکھراتی ہر اک موج ہوا آتی ہے آپ آتے ہیں کہ گلشن میں صبا آتی ہے آپ کے رخ سے برستا ہے سحر کا جوبن آپ کی زلف کے سائے میں گھٹا آتی ہے آپ کے ہاتھ جو چھو جائیں کسی ڈالی سے گل ہی کیا خار سے بھی بوئے حنا آتی ہے آپ لہرا کے نہ یوں دودھیا آنچل کو چلیں مسکراتے ہوئے پھولوں کو حیا آتی ...

مزید پڑھیے

خوابوں سے نہ جاؤ کہ ابھی رات بہت ہے

خوابوں سے نہ جاؤ کہ ابھی رات بہت ہے پہلو میں تم آؤ کہ ابھی رات بہت ہے جی بھر کے تمہیں دیکھ لوں تسکین ہو کچھ تو مت شمع بجھاؤ کہ ابھی رات بہت ہے کب پو پھٹے کب رات کٹے کون یہ جانے مت چھوڑ کے جاؤ کہ ابھی رات بہت ہے رہنے دو ابھی چاند سا چہرہ مرے آگے مے اور پلاؤ کہ ابھی رات بہت ہے کٹ ...

مزید پڑھیے

موسموں کا جواب دے دیجے

موسموں کا جواب دے دیجے آج تھوڑی شراب دے دیجے آپ کا حسن ہے بہار مری ان لبوں کے گلاب دے دیجے کس لیے ہے نقاب میں چہرہ پڑھنے والی کتاب دے دیجے سر سے پا تک خمار کا عالم یہ چھلکتی شراب دے دیجے زلف کی شام صبح چہرے کی یہی موسم جناب دے دیجے ایک دن اور زندگی جی لیں رات بھر کو شباب دے ...

مزید پڑھیے

چاندنی رات میں شانوں سے ڈھلکتی چادر (ردیف .. ے)

چاندنی رات میں شانوں سے ڈھلکتی چادر جسم ہے یا کوئی شمشیر نکل آئی ہے مدتوں بعد اٹھائے تھے پرانے کاغذ ساتھ تیرے مری تصویر نکل آئی ہے کہکشاں دیکھ کے اکثر یہ خیال آتا ہے تیری پازیب سے زنجیر نکل آئی ہے صحن گلشن میں مہکتے ہوئے پھولوں کی قطار تیرے خط سے کوئی تحریر نکل آئی ہے چاند کا ...

مزید پڑھیے

اب اٹھاؤ نقاب آنکھوں سے

اب اٹھاؤ نقاب آنکھوں سے ہم بھی چن لیں گلاب آنکھوں سے آپ کے پاس مے کے پیالے ہیں ہم پئیں گے شراب آنکھوں سے لاکھ روکا تمہارے آنچل نے ہم نے دیکھا حجاب آنکھوں سے الجھی الجھی ہے زلف ساون کی برسا برسا شباب آنکھوں سے لوگ کرتے ہیں خواب کی باتیں ہم نے دیکھا ہے خواب آنکھوں سے آبرو رکھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1496 سے 6203