قومی زبان

دکھائی دے تو رہی ہے بہت حسیں مجھ کو

دکھائی دے تو رہی ہے بہت حسیں مجھ کو مگر ملائے گی مٹی میں یہ زمیں مجھ کو انہوں نے صرف مرا ایک پہلو دیکھا ہے جو جانتے ہیں وہ پہچانتے نہیں مجھ کو اگر ٹھہرتا تو شاید کچل دیا جاتا کسی نے رکنے کو آوازیں خوب دیں مجھ کو وہ ہاتھ بھیڑ میں چھوٹا سو اس کے جیسا میں تلاش کرتا ہوں شاید ملے ...

مزید پڑھیے

التجا

درخت کو جیسے دو لکڑہارے ایک آرے سے کاٹتے ہیں درخت چاہے گھنا ہو جتنا بڑا ہو جتنا مگر یہ دونوں بڑے ہی آرام سے اسے کاٹتے ہیں سوچو اگر یہ دو کی بجائے بس ایک ہو تو کیا ہو کہ ایک کے بس کی بات ہوگی درخت کو کاٹ کر گرانا نہیں یہ ممکن نہیں ہے ہرگز بہت سی دشواریوں سے اس کو گزرنا ہوگا اگر وہ ...

مزید پڑھیے

کہاں پہ بچھڑے تھے ہم لوگ کچھ پتہ مل جائے

کہاں پہ بچھڑے تھے ہم لوگ کچھ پتہ مل جائے تمہاری طرح اگر کوئی دوسرا مل جائے ہزاروں نقش نہاں ہوں گے اس کے سینے میں کبھی کبھی تو یہ آئینہ بولتا مل جائے جلو میں لے کے چلیں سارے ناتمام سے خواب نہ جانے کس جگہ عمر گریز پا مل جائے نہ جانے کیا کرے امروز کا یہ سناٹا ہمارے ماضی کا اک لمحہ ...

مزید پڑھیے

منزل پہنچ گیا ہوں میں رستہ کیے بغیر

منزل پہنچ گیا ہوں میں رستہ کیے بغیر رسوا کیا ہے اس کو تماشا کیے بغیر اوپر سے اپنی پیاس بجھاتا رہا ہوں میں پانی پیا گلاس کو جھوٹا کیے بغیر آتا ہے اس ادا پہ مجھے پیار وہ مری ہر بات مان لیتا ہے غصہ کیے بغیر وہ ایسی روشنی ہے کہ جب بھی مجھے ملے کھلتی نہیں ہے مجھ پہ اندھیرا کیے ...

مزید پڑھیے

سبق کتاب کا پکا نہیں کیا میں نے

سبق کتاب کا پکا نہیں کیا میں نے ابھی سمجھنا ہے جیون کا فلسفہ میں نے بجھائی پیاس نہیں بس نہا لیا میں نے لیا ہے کام سمندر سے دوسرا میں نے بھلا وہ آنکھوں سے غم کا پتا لگائے گا کیا پہن لیا ہے یہ چشمہ جو دھوپ کا میں نے ہوا ہے غیر قبیلے کی اک حسیں سے عشق ابھی تو کرنا ہے مشکل کا سامنا ...

مزید پڑھیے

اگر یہ رات حسیں ہے تو دن جوان نکال

اگر یہ رات حسیں ہے تو دن جوان نکال کوئی تو راستہ دونوں کے درمیان نکال خدا نے جوڑا بنایا ہے ہر بشر کے لیے تو اس جہان سے اپنے لیے جہان نکال نہ ایک بوند مری چھت سے ٹپکے اے معمار اس احتیاط سے چھت کی مرے ڈھلان نکال بہت سلیس ہے مجھ کو حلال کر لینا تو اس کا ذکر نہ کر اور میری جان ...

مزید پڑھیے

ان وفاؤں کا فیصلہ کر دے

ان وفاؤں کا فیصلہ کر دے بد دعائیں بھی مسکرا کر دے ابر سے صرف اتنا کہنا ہے سارا جنگل ہرا بھرا کر دے عشق میں فائدہ ہے یا نقصان مشورہ مجھ کو آزما کر دے تیرا قد کہکشاں سے اوپر ہے چاند آکاش سے اٹھا کر دے روح تک بھی رسائی ہوگی مری پہلے دل تک تو راستہ کر دے کوئی مصرعے میں آ سمٹ کے ...

مزید پڑھیے

اپنی گاگر سے مت نکال مجھے

اپنی گاگر سے مت نکال مجھے اس سمندر سے مت نکال مجھے دل کے اندر قیام ہے میرا صرف باہر سے مت نکال مجھے پیار کرتی ہے مجھ سے ہیروئن یار پکچر سے مت نکال مجھے غم کا موتی ہوں دل میں رہتا ہوں گہرے ساگر سے مت نکال مجھے میں ترے کام کی خبر ہوں مگر نیوز پیپر سے مت نکال مجھے کوئی گولی نہیں ...

مزید پڑھیے

تیری دنیا میں چار دن ہوں میں

تیری دنیا میں چار دن ہوں میں اس لیے بھی تو مطمئن ہوں میں اکتفا کرنا ہوگا تھوڑے پر ایک مزدور کا ٹفن ہوں میں شاید اک رشتہ پاس لائے ہمیں ویسے تو دور کا کزن ہوں میں اک طرف ہجر اک طرف ہے وصل جیسے دو کاغذوں میں پن ہوں میں میں نہیں پر مرا خیال تو ہے تو مجھے اپنے ساتھ گن ہوں میں ہم ...

مزید پڑھیے

کس کو بتاتے کس سے چھپاتے سراغ دل

کس کو بتاتے کس سے چھپاتے سراغ دل چپ سادھ لی ہے زخم دکھایا نہ داغ دل کیسے کریں بیان غم جاں کی داستاں اے کاش گل کھلائے ہمارا یہ باغ دل گزرے ہماری زیست کے ایام اس طرح لبریز آنسوؤں سے ہے گویا ایاغ دل جب راکھ بن گئے تو کہا یہ حریف نے جل جل کے وہ جلاتے رہے ہیں چراغ دل جس سے ملے طویل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1481 سے 6203