قومی زبان

خواب کی شیلف پر دھری نظم

اگر سمندر مجھے راستہ دیتا تو سفر کرتی اس قندیل کے ساتھ جو شام کا ملگجا پھیلتے ہی ساحل پر روشن ہو جاتی ہے اڑتی ققنس کے ہم رکاب افق کی مسافتوں میں تیرتی مچھلیوں کے سنگ کھوجتی ریگ زاروں میں نیلگوں پانیوں کو سرمئی پہاڑوں میں جادوئی سرنگوں کو لیکن میرے سرہانے آدھے پونے خواب پڑے ...

مزید پڑھیے

ہو گئی ساری پشیمانی عبث

ہو گئی ساری پشیمانی عبث اپنی ہستی ہم نے پہچانی عبث اب نکلتا ہی نہیں صورت سے عکس دل کی یہ آئینہ سامانی عبث آنکھ پتھر کی طرح ساکت ہو جب قلزم خوں کی یہ جولانی عبث زندگی ہے ریگ زار بے کراں دیدۂ بے تاب طغیانی عبث ملنے پر حیران ہونا تھا صباؔ چھوٹ کر ان سے یہ حیرانی عبث

مزید پڑھیے

ہم نے خاک در محبوب جو چہرے پہ ملی

ہم نے خاک در محبوب جو چہرے پہ ملی قصۂ درد چھڑا بات سے پھر بات چلی کس طرح سمجھوں مرا عشق ہے سرگرم سفر راہ بیدار ہوئی ہے نہ کہیں شمع جلی دل کو بہلائیں کہ قدموں کو سنبھالیں ہم لوگ جب نئے موڑ پہ پہنچے ہیں تو یہ شام ڈھلی یہ مرے نقش قدم وقت سے مٹ سکتے ہیں اپنے سینے سے لگائے ہے جنہیں ...

مزید پڑھیے

بوئے خوش کی طرح ہر سمت بکھر جاؤں گا (ردیف .. و)

بوئے خوش کی طرح ہر سمت بکھر جاؤں گا آہنی ہاتھوں سے اب کوئی دبا دے مجھ کو میں تو مدت سے چلا آتا ہوں پیچھے پیچھے گردش وقت کبھی رک کے صدا دے مجھ کو دن تو سارا ہی کٹا مثل چراغ کشتہ گرمیٔ جسم سر شام جلا دے مجھ کو تم مجھے دیکھ کے جو بات کبھی کہہ نہ سکے کیا یہ ممکن نہیں آئینہ بتا دے مجھ ...

مزید پڑھیے

اور کس طرح اسے کوئی قبا دی جائے

اور کس طرح اسے کوئی قبا دی جائے ایک تصویر ہی پتھر پہ بنا دی جائے تاکہ پھر کوئی نہ پرچھائیں کے پیچھے دوڑے اپنی بستی میں چلو آگ لگا دی جائے خوب ہے یہ مری مخصوص طبیعت کا علاج ہر تمنا مری کانٹوں پہ سلا دی جائے اپنی ہی ذات پہ ہوتا ہے جو سائے کا گماں تیرگی شب کی کسی طور بڑھا دی ...

مزید پڑھیے

آج گزرے ہوئے لمحوں کو پکارا جائے

آج گزرے ہوئے لمحوں کو پکارا جائے دل کو پھر خون تمنا سے سنوارا جائے میرا ہر شوق بھی ہو ان کا ہر انداز بھی ہو دل میں اب نقش کوئی ایسا اتارا جائے جب تھکی ماندی پڑی سوتی ہو ہر شورش غم ہجر کی رات کو کس طرح گزارا جائے کچھ ہو معیار خرد چاک قبا عیب سہی چشم معصوم کا خالی نہ اشارا ...

مزید پڑھیے

ابھی تک زبانوں پہ فریاد ہے

ابھی تک زبانوں پہ فریاد ہے مرا ملک برسوں سے آزاد ہے اسے سن کے ہے داد مجھ کو ملی مری شاعری میری روداد ہے تمہیں عدل و انصاف آتا نہیں ہمیں اپنی سلطانیت یاد ہے میں انگلی پکڑ کر چلا نہ کبھی مرا تجربہ میرا استاد ہے اخوت سے جینے کا فن سیکھ لے اگر تو بھی آدم کی اولاد ہے کرو نیکیاں کام ...

مزید پڑھیے

اس ستم گر میں ڈال دی میں نے

اس ستم گر میں ڈال دی میں نے جان پتھر میں ڈال دی میں نے کپ میں گرمی دکھا رہی تھی بہت چائے ساسر میں ڈال دی میں نے ماہ بھر کی کمائی جوڑی اور اس کے زیور میں ڈال دی میں نے پھر لپیٹا اسے بہ وقت سحر نیند بستر میں ڈال دی میں نے اک ترا ہجر ایک اس کا وصال آگ ساگر میں ڈال دی میں نے وہ جو ...

مزید پڑھیے

پھل ہے گر تو تو میں پتھر ہوں تری قسمت ہے

پھل ہے گر تو تو میں پتھر ہوں تری قسمت ہے میں اگر تیرا مقدر ہوں تری قسمت ہے کچھ غلط لکھ بھی لیا ہے تو مٹا لے اس کو میں ترے ہاتھ میں ڈسٹر ہوں تری قسمت ہے جان کو جان غنیمت تو عبادت کر لے جان ہوں جسم کے اندر ہوں تری قسمت ہے برف راتوں میں ٹھٹھرنے سے تو اچھا یہ ہے اوڑھ لے مجھ کو میں چادر ...

مزید پڑھیے

اس سمندر میں سنبھل کر ہی اترنا ورنہ

اس سمندر میں سنبھل کر ہی اترنا ورنہ عشق پر سب ہی کہیں گے تجھے ورنہ ورنہ دیکھنے کی تو اجازت ہے مگر دھیان رہے اس کی آنکھوں میں کسی نے نہ سنورنا ورنہ قوت ثقل ہے جو اپنی طرف کھینچتی ہے کب بلندی سے اترتا بھلا جھرنا ورنہ صرف کاجل کی لکیریں ہی بھلی لگتی ہیں اس کی آنکھوں میں کوئی رنگ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1480 سے 6203