خواب کی شیلف پر دھری نظم
اگر سمندر مجھے راستہ دیتا تو سفر کرتی اس قندیل کے ساتھ جو شام کا ملگجا پھیلتے ہی ساحل پر روشن ہو جاتی ہے اڑتی ققنس کے ہم رکاب افق کی مسافتوں میں تیرتی مچھلیوں کے سنگ کھوجتی ریگ زاروں میں نیلگوں پانیوں کو سرمئی پہاڑوں میں جادوئی سرنگوں کو لیکن میرے سرہانے آدھے پونے خواب پڑے ...