قومی زبان

نظم

میں گروی رکھی گئی آنکھوں میں بسا خواب ہوں لا محدود سمندر میں تیرتے جزیروں کا جہاں مہاجر پرندے گھڑی بھر بسیرا کرتے ہیں نیلگوں پانیوں کا ساحلوں کے کنارے چمکتی ریت کا وہ خواب جو بہہ نکلتا ہے نمکین قطرے کی صورت میں وہ آزاد روح ہوں جو غلام جسموں کے اندر تڑپتی ہے بھٹکتی پھرتی ہے درد ...

مزید پڑھیے

نظم

کئی بار لکھنا اتنا درد کیوں دیتا ہے حرف کیوں جڑتے ہیں لفظ کیوں بنتے ہیں اور اس بننے بگڑنے میں ہمارے وجود کے سنگریزے ریزہ ریزہ ہو کر کیوں شامل ہو جاتے ہیں کیا شہرت کی سرمستی اس درد کا مداوا کرتی ہے یا کسی کردار کے ہونٹوں پر آئی مسکان لبوں پہ دم توڑتی دعا مصنف کی ہم رکاب بنتی ہے حرف ...

مزید پڑھیے

ہوتے ہی جواں ہو گئے پابند حجاب اور

ہوتے ہی جواں ہو گئے پابند حجاب اور گھونگھٹ کا اضافہ ہوا بالائے نقاب اور جب میں نے کہا کم کرو آئین حجاب اور فرمایا بڑھا دوں گا ابھی ایک نقاب اور پینے کی شراب اور جوانی کی شراب اور ہشیار کے خواب اور ہیں مدہوش کے خواب اور گردن بھی جھکی رہتی ہے کرتے بھی نہیں بات دستور حجاب اور ہیں ...

مزید پڑھیے

ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی ہے اور یوں بھی

ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی ہے اور یوں بھی وفا دشمن جفا جو کا ستم یوں بھی ہے اور یوں بھی کہیں وامق کہیں مجنوں رقم یوں بھی ہے اور یوں بھی ہمارے نام پر چلتا قلم یوں بھی ہے اور یوں بھی شب وعدہ وہ آ جائیں نہ آئیں مجھ کو بلوا لیں عنایت یوں بھی ہے اور یوں بھی کرم یوں بھی ہے اور ...

مزید پڑھیے

اس زندگی سے ایک لڑائی لڑا ہوں میں

اس زندگی سے ایک لڑائی لڑا ہوں میں تب جا کے اس مقام پہ آ کر کھڑا ہوں میں میری انا سے مجھ کو اجازت نہیں ملی اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ضد پر اڑا ہوں میں قد کا نہیں بڑا پہ جسارت تو دیکھیے کتنے بڑے بڑوں کے برابر کھڑا ہوں میں اب ذمہ داریوں کی سزا جھیلنی پڑے میرا قصور یہ ہے کہ گھر میں بڑا ...

مزید پڑھیے

اپنے جیسا بھی کوئی اس کو نظر آئے گا

اپنے جیسا بھی کوئی اس کو نظر آئے گا چاند اس رات میں دھرتی پہ اتر آئے گا اپنے لہجہ کو ذرا سخت بنا کر دیکھو کچھ دنوں بعد تمہیں فرق نظر آئے گا ساتھ میں رہ کے سپیروں کے گزاریں کچھ دن سانپ کے پھن کو کچلنے کا ہنر آئے گا مسکراتا ہے تو پھر ساتھ رہا کر میرے کچھ نہ کچھ تو مری صحبت کا اثر ...

مزید پڑھیے

سرکشی جب بھی قلمکار میں آ جاتی ہے

سرکشی جب بھی قلمکار میں آ جاتی ہے اک مصیبت لئے سرکار میں آ جاتی ہے جب بغاوت پہ بھی انعام دیے جاتے ہیں سر جھکائے ہوئے دربار میں آ جاتی ہے سرخ روئی و بلندی بھی عطا ہوتی ہے جب شریعت کسی کردار میں آ جاتی ہے تیری الفت کی قسم ایک ترے آنے سے زندگی لوٹ کے بیمار میں آ جاتی ہے شاعری نیند ...

مزید پڑھیے

شاخوں پر جب پتے ہلنے لگتے ہیں

شاخوں پر جب پتے ہلنے لگتے ہیں آنسو مرے دل پہ گرنے لگتے ہیں تجھ سے دوری اور قیامت لگتی ہے آپس میں دو وقت جو ملنے لگتے ہیں دن تو جیسے تیسے کٹ ہی جاتا ہے رات کو اٹھ اٹھ تارے گننے لگتے ہیں ایک تبسم دیکھ کے تیرے ہونٹوں پر پھول خزاں کی رت میں کھلنے لگتے ہیں ہوتا ہے شانوں پہ محسوس اس ...

مزید پڑھیے

کیوں ڈھونڈھتی رہتی ہوں اسے سارے جہاں میں

کیوں ڈھونڈھتی رہتی ہوں اسے سارے جہاں میں وہ شخص کہ رہتا ہے مرے دل کے مکاں میں میں وہ نہیں کہتے ہیں جو کچھ اور کریں اور جو کچھ ہے مرے دل میں وہی میرے بیاں میں یارب تری رحمت جو کبھی جوش میں آئے میں سوچ بھی پاؤں نہ کبھی وہم و گماں میں کیا ذکر کہ اس زیست میں کچھ کھویا کہ پایا اب کچھ ...

مزید پڑھیے

جانے والا مجھ پہ احساں کر گیا

جانے والا مجھ پہ احساں کر گیا میری آنکھوں میں سمندر بھر گیا اس سے بچھڑے اک زمانہ ہو گیا ایسے لگتا ہے ابھی اٹھ کر گیا کیسے بھولوں وہ قیامت کی گھڑی جب جدائی سے مرا دل ڈر گیا زندگی کے سارے منظر بجھ گئے جب مری نظروں سے وہ منظر گیا دل کے بارے میں نہ ہم سے پوچھئے کیا بتائیں اس میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1479 سے 6203