قومی زبان

اڑا سکتا نہیں کوئی مرے انداز شیون کو

اڑا سکتا نہیں کوئی مرے انداز شیون کو بمشکل کچھ سکھایا ہے نوا سنجان گلشن کو گریباں چاک کرنے کا سبب وحشی نے فرمایا کہ اس کے تار لے کر میں سیوں گا چاک دامن کو بہار آتے ہی بٹتی ہیں یہ چیزیں قید خانوں میں سلاسل ہاتھ کو پاؤں کو بیڑی طوق گردن کو جھڑی ایسی لگا دی ہے مرے اشکوں کی بارش ...

مزید پڑھیے

وصف سورج ہے روشنی کیا ہے

وصف سورج ہے روشنی کیا ہے تو اگر ہے تو زندگی کیا ہے خود سے تیری ہی گفتگو ہے میاں ذکر تیرا ہے شاعری کیا ہے کون جانے کہ یہ مری دنیا میرے بارے میں سوچتی کیا ہے تیرا آنا ہے اور جانا ہے گفتگو کیا ہے خامشی کیا ہے خواب میں بھی اسے نہ چھو پائے ہم سے پوچھو کہ بے بسی کیا ہے اس کے لہجے سے ...

مزید پڑھیے

سنا بھی کبھی ماجرا درد و غم کا کسی دل جلے کی زبانی کہو تو

سنا بھی کبھی ماجرا درد و غم کا کسی دل جلے کی زبانی کہو تو نکل آئیں آنسو کلیجہ پکڑ لو کروں عرض اپنی کہانی کہو تو تمہیں رنگ مے شیخ مرغوب کیا ہے گلابی ہو یا زعفرانی کہو تو پلائے کوئی ساقئ حور پیکر مصفا کشیدہ پرانی کہو تو تمنائے دیدار ہے حسرت دل کہ تم جلوہ فرما ہو میں آنکھیں ...

مزید پڑھیے

وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میں

وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میں حریف قمری و پروانۂ ہزار ہوں میں جدا جدا نظر آتی ہے جلوۂ تاثیر قرار ہو گیا موسیٰ کو بے قرار ہوں میں خمار جس سے نہ واقف ہو وہ سرور ہیں آپ سرور جس سے نہ آگاہ ہو وہ خمار ہوں میں سما گیا ہے یہ سودا عجیب سر میں مرے کرم کا اہل ستم سے امیدوار ہوں ...

مزید پڑھیے

خزاں کا جو گلشن سے پڑ جائے پالا

خزاں کا جو گلشن سے پڑ جائے پالا تو صحن چمن میں نہ گل ہو نہ لالہ لیا تیرے عاشق نے برسوں سنبھالا بہت کر گیا مرنے والا کسالا پئے فاتحہ ہاتھ اٹھاوے گا کوئی سر تربت بیکساں آنے والا اسی گریہ کے تار سے میری آنکھیں بنا دیں گی ندی بہا دیں گی نالہ بٹھا کر تمہیں شمع کے پاس دیکھا تم ...

مزید پڑھیے

زعم نہ کیجو شمع رو بزم کے سوز و ساز پر

زعم نہ کیجو شمع رو بزم کے سوز و ساز پر رکھیو نظر بجائے ناز خاطر پیر ناز پر زیب نہیں ہے شیخ یہ مے کش پاکباز پر تہمتیں سو لگائے گا داغ جبیں نیاز پر کہتا ہوں ہر حسیں سے میں نیت عشق ہے مری آئے گا میرا دل مگر شاہد دل نواز پر فرق حیات و مرگ کا مرغ چمن کے دل سے پوچھ دیتا ہے فوق دام کو ...

مزید پڑھیے

حق و ناحق جلانا ہو کسی کو تو جلا دینا

حق و ناحق جلانا ہو کسی کو تو جلا دینا کوئی روئے تمہارے سامنے تم مسکرا دینا تردد برق ریزوں میں تمہیں کرنے کی کیا حاجت تمہیں کافی ہے ہنستا دیکھ لینا مسکرا دینا دلوں پر بجلیاں گرنے کی صورت گر کوئی پوچھے تو میں کہہ دوں تمہارا دیکھ لینا مسکرا دینا ہوئی بجلی سے کس دن نقل انداز ستم ...

مزید پڑھیے

ہمیں کہتی ہے دنیا زخم دل زخم جگر والے

ہمیں کہتی ہے دنیا زخم دل زخم جگر والے ذرا تم بھی تو دیکھو ہم کو تم بھی ہو نظر والے نظر آئیں گے نقش پا جہاں اس فتنہ گر والے چلیں گے سر کے بل رستہ وہاں کے رہ گزر والے ستم ایجادیوں کی شان میں بٹا نہ آ جائے نہ کرنا بھول کر تم جور چرخ کینہ ور والے جفا و جور گلچیں سے چمن ماتم کدہ سا ...

مزید پڑھیے

نظم

دھول مٹی بارود کی مہک بے گور و کفن لاشوں کی بساند میں پتھروں کے ملبے تلے اجڑے باغوں میں خون آشام شکاری اپنی فتح کے جھنڈے گاڑیں گے جہاں نہ کوئی ان پر پھول برسانے والا ہوگا اور نہ کوئی دست دعا اٹھے گا

مزید پڑھیے

کی بورڈ ایکٹیوسٹ

جنگوں خون آشامیوں کی گرد چہروں پر اوڑھے حیراں لب بستہ بچو ساحل پر سیپ کی مانند اوندھے منہ بکھرے موتی جیسے بچو بے لباس سڑکوں پر بھاگتے دہشت زدہ سوکھے بچو خدا کو اس دنیا کی شکایت لگانے والے روتے بلکتے جاں سے گزرتے بچو تار تار پیراہن جسم دریدہ روح راکھ بدن عظیم انسانی تہذیب کے ملبے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1478 سے 6203