قومی زبان

محسوس لمس جس کا سر رہ گزر کیا

محسوس لمس جس کا سر رہ گزر کیا سایا تھا وہ اسی کا جسے ہم سفر کیا کچھ بے ٹھکانہ کرتی رہیں ہجرتیں مدام کچھ میری وحشتوں نے مجھے در بدر کیا رہنا نہیں تھا ساتھ کسی کے مگر رہے کرنا نہیں تھا یاد کسی کو مگر کیا تو آئنہ بھی آپ تھا اور عکس بھی تھا آپ تیرے جمال ہی نے تجھے خوش نظر کیا وہ جس ...

مزید پڑھیے

یہ سوچ کے راکھ ہو گیا ہوں

یہ سوچ کے راکھ ہو گیا ہوں میں شام سے صبح تک جلا ہوں جس دل میں پناہ ڈھونڈھتا تھا اب اس سے پناہ مانگتا ہوں پہلے بھی خدا کو مانتا تھا اور اب بھی خدا کو مانتا ہوں وہ جاگ رہا ہو شاید اب تک یہ سوچ کے میں بھی جاگتا ہوں اے میرا خیال رکھنے والے کیا میں ترے ذہن میں بسا ہوں مرتا ہوں کہ مر ...

مزید پڑھیے

ستارے سو گئے تو آسماں کیسا لگے گا

ستارے سو گئے تو آسماں کیسا لگے گا جہان تیرگی میں یہ جہاں کیسا لگے گا بچھڑ کے ساحلوں سے موج دل کیسی لگے گی بکھر کے آندھیوں میں بادباں کیسا لگے گا ٹھہر جائیں گی جب یہ کشتیاں کیسی لگیں گی گزر جائے گا جب آب رواں کیسا لگے گا عمارت ڈھہ چکی ہوگی جو سانسیں ٹوٹنے سے تو پھر وہ سایۂ دیوار ...

مزید پڑھیے

محبتیں تھیں کچھ ایسی وصال ہو کے رہا

محبتیں تھیں کچھ ایسی وصال ہو کے رہا وہ خوش خیال مرا ہم خیال ہو کے رہا ہر ایک پردے میں دریافت اس کا حسن کیا پھر اس خزانے سے میں مالا مال ہو کے رہا لہو کی لہر میں شادابیوں کی شدت سے مزاج اس کا مرے حسب حال ہو کے رہا کرم کا سلسلہ جو منقطع تھا غفلت سے بحال کیسے نہ ہوتا بحال ہو کے ...

مزید پڑھیے

نئے کپڑے بدل اور بال بنا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں

نئے کپڑے بدل اور بال بنا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں کوئی چھوڑ گیا یہ شہر تو کیا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں کئی پلکیں ہیں اور پیڑ کئی محفوظ ہے ٹھنڈک جن کی ابھی کہیں دور نہ جا مت خاک اڑا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں کہتی ہے یہ شام کی نرم ہوا پھر مہکے گی اس گھر کی فضا نیا کمرہ سجا نئی ...

مزید پڑھیے

نظر آتے نہیں ہیں بحر میں ہم

نظر آتے نہیں ہیں بحر میں ہم یعنی رہتے ہیں اپنی لہر میں ہم کھل رہے ہیں بندھے ہوئے پل سے گھل رہے ہیں خود اپنے زہر میں ہم ہے قفس بھی طلسم خانۂ خواب آ گئے ایک اور شہر میں ہم کسی زنداں میں سوچنا ہے عبث دہر ہم میں ہے یا کہ دہر میں ہم ہو گئی رات سو لیں کچھ سردار جاگ اٹھیں گے پچھلے پہر ...

مزید پڑھیے

ہجر سمندر نہیں وصل کنارہ نہیں

ہجر سمندر نہیں وصل کنارہ نہیں کون ہے کس موڑ پر کوئی اشارہ نہیں اس سے بچھڑ کے اگر ہم ہیں تماشا تو کیا اس کے سوا تو کوئی محو نظارہ نہیں چھوڑ چلے ہیں یہاں عبرت آئندگاں ہم بھی تو اس کے نہیں وہ جو ہمارا نہیں آج ہی درپیش تھا ہم کو سفر رات کا آج ہی افلاک پر کوئی ستارہ نہیں

مزید پڑھیے

دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے

دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے اگرچہ بولتا کوئی نہیں ہے میں ایسے جمگھٹے میں کھو گیا ہوں جہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے رکوں تو منزلیں ہی منزلیں ہیں چلوں تو راستہ کوئی نہیں ہے کھلی ہیں کھڑکیاں ہر گھر کی لیکن گلی میں جھانکتا کوئی نہیں ہے کسی سے آشنا ایسا ہوا ہوں مجھے پہچانتا کوئی نہیں ...

مزید پڑھیے

نظر سے دور ہیں دل سے جدا نہ ہم ہیں نہ تم

نظر سے دور ہیں دل سے جدا نہ ہم ہیں نہ تم گلہ کریں بھی تو کیا بے وفا نہ ہم ہیں نہ تم ہم اک ورق پہ تو ہیں دو حروف کی صورت مگر نصیب کا لکھا ہوا نہ ہم ہیں نہ تم ہماری زندگی پرچھائیوں کی خاموشی قریب لاتی ہے جو وہ صدا نہ ہم ہیں نہ تم ہم ایک ساتھ ہیں جب سے یہ روگ ہیں تب سے کسی بھی روگ کی ...

مزید پڑھیے

چھانے ہوں گے صحرا جس نے وہ ہی جان سکا ہوگا

چھانے ہوں گے صحرا جس نے وہ ہی جان سکا ہوگا مٹی میں ہم جیسے ملے ہیں کم کوئی خاک ہوا ہوگا الٹے سیدھے گرتے پڑتے چل پڑتے ہیں اس لیے ہم منزل پر لے جانے والا کوئی تو نقش پا ہوگا اتنی سج دھج سے جو چلے تھے قافلے وہ ہیں ٹھہر گئے ہوگا ہوائے صحرا جیسا آگے جو بھی گیا ہوگا کچھ ہونے سے انہونے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1464 سے 6203