دکھائے گی اثر دل کی پکار آہستہ آہستہ
دکھائے گی اثر دل کی پکار آہستہ آہستہ بجیں گے آپ کے دل کے بھی تار آہستہ آہستہ نکلتا ہے شگافوں سے غبار آہستہ آہستہ تھمے گی آنکھ سے اشکوں کی دھار آہستہ آہستہ رہی مشق ستم جاری اگر کچھ دن جناب ایسے ملیں گے خاک میں سب جاں نثار آہستہ آہستہ مقدر اس کا مرجھانا ہی تو ہے بعد کھلنے کے کلی ...