قومی زبان

دکھائے گی اثر دل کی پکار آہستہ آہستہ

دکھائے گی اثر دل کی پکار آہستہ آہستہ بجیں گے آپ کے دل کے بھی تار آہستہ آہستہ نکلتا ہے شگافوں سے غبار آہستہ آہستہ تھمے گی آنکھ سے اشکوں کی دھار آہستہ آہستہ رہی مشق ستم جاری اگر کچھ دن جناب ایسے ملیں گے خاک میں سب جاں نثار آہستہ آہستہ مقدر اس کا مرجھانا ہی تو ہے بعد کھلنے کے کلی ...

مزید پڑھیے

اب کہاں دوست ملیں ساتھ نبھانے والے

اب کہاں دوست ملیں ساتھ نبھانے والے سب نے سیکھے ہیں اب آداب زمانے والے دل جلاؤ یا دیئے آنکھوں کے دروازے پر وقت سے پہلے تو آتے نہیں آنے والے اشک بن کے میں نگاہوں میں تری آؤں گا اے مجھے اپنی نگاہوں سے گرانے والے وقت بدلا تو اٹھاتے ہیں اب انگلی مجھ پر کل تلک حق میں مرے ہاتھ اٹھانے ...

مزید پڑھیے

وہ تو خوشبو ہے ہر اک سمت بکھرنا ہے اسے

وہ تو خوشبو ہے ہر اک سمت بکھرنا ہے اسے دل کو کیوں ضد ہے کہ آغوش میں بھرنا ہے اسے کیوں سدا پہنے وہ تیرا ہی پسندیدہ لباس کچھ تو موسم کے مطابق بھی سنورنا ہے اسے اس کو گلچیں کی نگاہوں سے بچائے مولا وہ تو غنچہ ہے ابھی اور نکھرنا ہے اسے ہر طرف چاہنے والوں کی بچھی ہیں پلکیں دیکھیے کون ...

مزید پڑھیے

یوں تو اک عمر ساتھ ساتھ ہوئی

یوں تو اک عمر ساتھ ساتھ ہوئی جسم کی روح سے نہ بات ہوئی کیوں خیالوں میں روز آتے ہیں اک ملاقات جن کے ساتھ ہوئی کتنا سوچا تھا دل لگائیں گے سوچتے سوچتے حیات ہوئی لاکھ تاکید حسن کرتا رہا عشق سے خاک احتیاط ہوئی اک فقط وصل کا نہ وقت ہوا دل ہوا روز روز رات ہوئی کیا بتائیں بساط ذرہ ...

مزید پڑھیے

چلو کہ ہم بھی زمانے کے ساتھ چلتے ہیں

چلو کہ ہم بھی زمانے کے ساتھ چلتے ہیں نہیں بدلتا زمانہ تو ہم بدلتے ہیں کسی کو قدر نہیں ہے ہماری قدروں کی چلو کہ آج یہ قدریں سبھی بدلتے ہیں بلا رہی ہیں ہمیں تلخیاں حقیقت کی خیال و خواب کی دنیا سے اب نکلتے ہیں بجھی ہے آگ کبھی پیٹ کی اصولوں سے یہ ان سے پوچھئے جو گردشوں میں پلتے ...

مزید پڑھیے

شام کے آثار گیلے ہیں بہت

شام کے آثار گیلے ہیں بہت پھر مری آنکھوں میں تیلے ہیں بہت تم سے ملنے کا بہانہ تک نہیں اور بچھڑ جانے کے حیلے ہیں بہت کشت جاں کو خشک سالی کھا گئی موسموں کے رنگ پیلے ہیں بہت برف پگھلی ہے فراز عرش سے آسماں کے رنگ نیلے ہیں بہت بیل کی صورت ہیں ہم پھیلے ہوئے ہم فقیروں کے وسیلے ہیں ...

مزید پڑھیے

روز ہوا میں اڑنے کی فرمائش ہے

روز ہوا میں اڑنے کی فرمائش ہے یہ میری مٹی میں کیسی خواہش ہے چہرہ چہرہ غم ہے اپنے منظر میں اور آنکھوں کے پیچھے ایک نمائش ہے اک تیری آواز نہیں آتی ورنہ چھوٹے سے اس گھر میں ہر آسائش ہے اب کے ساون آئے تو تم آ جانا سارے بستی والوں کی فرمائش ہے اک دن شیش محل سے باہر بھی دیکھو خیمے کی ...

مزید پڑھیے

انجام

ایک صبح کا تارا سر پہ آسماں اوڑھے روشنی کے زینے سے روز اتر کے آتا ہے اور اس نئے گھر کے ادھ کھلے دریچے میں آ کے بیٹھ جاتا ہے ہاتھ کے اشاروں سے دائرے بناتا ہے اور میں محبت کی بوند بوند کرنوں میں روز ڈوب جاتا ہوں

مزید پڑھیے

تعاقب

پھر مرے تعاقب میں اک اداس سا چہرہ زخم زخم یادوں کے جبر کی ردا اوڑھے ہجر کی تمازت میں وصل کی مسافت میں بے ثمر محبت کی بے نشان گلیوں میں ننگے پاؤں پھرتا ہے

مزید پڑھیے

انتظار

اور تم نہیں آتے چاند ڈوب جاتا ہے عمر بیت جاتی ہے انتظار کی بازی رات جیت جاتی ہے جبر کا کڑا لمحہ آس کا بجھا تارا شام ہجر کا دریا مجھ میں ڈوب جاتا ہے اور تم نہیں آتے

مزید پڑھیے
صفحہ 1443 سے 6203