قومی زبان

ہم اس کا نقش پا بھولے ہوئے ہیں

ہم اس کا نقش پا بھولے ہوئے ہیں خدا وندا یہ کیا بھولے ہوئے ہیں چلو پھر لوٹ جائیں اس طرف کو جدھر کا راستہ بھولے ہوئے ہیں اسے سوچیں تو یاد آتا ہے ہم کو کہ ہم تو مدعا بھولے ہوئے ہیں گھرے ہیں تنگناؤں میں کچھ ایسے سمندر کی ہوا بھولے ہوئے ہیں یہ ساحل پر ضرور اتریں گے اک دن پرندے راستہ ...

مزید پڑھیے

محبت

وہ پھول ہے کیسے مان لوں میں کہ پھول کا رنگ ہے رمیدہ غلط ہے اس کو بہار کہنا بہار تو ہے خزاں گزیدہ وہ کہکشاں ہے میں کیسے کہہ دوں کہ کہکشاں تو رہین شب ہے میں مطمئن چاند سے نہیں ہوں کہ چاند کو بھی دوام کب ہے ہے روز روشن بھی تیرہ قسمت یہ راز وقت غروب جانا میں کیسے سورج سمجھ لوں اس ...

مزید پڑھیے

تمام رعنائیاں سمیٹے نظر نظر میں سمائے جانا

تمام رعنائیاں سمیٹے نظر نظر میں سمائے جانا یہ ان کے جلوؤں کا معجزہ ہے ہر ایک منظر میں پائے جانا ہواؤں کا کام اور کیا ہے بجھائے جانا بجھائے جانا یہی مرا فرض منصبی ہے چراغ پیہم جلائے جانا اصول راہ وفا یہی ہے یہی تقاضا ہے رہروی کا روش روش غم اٹھائے جانا قدم قدم مسکرائے جانا ملے ...

مزید پڑھیے

نظم

صحرائے ہستی میں ایک چیز آوارہ بھٹکتی رہی مر گئی پیاس سے زرد رو چمن میں گرد و غبار انگڑائیاں لے رہا ہے خشک پتے منتظر ہیں جنبش یک تار نفس کے اور دیدہ نم ٹکٹکی باندھے راستہ تک رہے ہیں قاصد کا جانے کب رہائی کا پروانہ آئے گا گھٹائیں جھوم کے آتی ہیں گھر کے آنگن پر نہ پوچھو کیسے رستی ...

مزید پڑھیے

ایلورا کے غاروں میں

ایلورا کے غاروں میں میں سوچتی ہوں کون سی روحیں بھٹک رہی ہوں گی جسم تو پتھر پہ کھدے ہیں ان کی پتھرائی روحیں یوں لگتا ہے میرے پتھر دل میں پگھل رہی ہیں آنسو بن کر قطرہ قطرہ ٹپک رہی ہیں

مزید پڑھیے

خامشی کی عادت ڈال لو

خامشی کی عادت ڈال لو سکون مل جائے گا بے آواز خامشی ایک بار الفاظ کو توڑ دو معنوں کے کرب سے نجات مل جائے گی ساری جنگیں آپ ہی آپ رک جائیں گی میرا المیہ یہ ہے میں نے الفاظ کو آخری سچائی جانا تھا میری آنکھوں سے اب بوندیں حرف حرف ٹپکتی ہیں

مزید پڑھیے

سارے جذبوں کا سحر بکھر گیا ہے

سارے جذبوں کا سحر بکھر گیا ہے سارے رشتوں کا بھرم ٹوٹ گیا ہے میں نے اپنی چاہت کے سوا کچھ بھی نہیں دیکھا کسی بے جان شے پر بھی نظر نہیں ڈالی تمہارے اندر جیتی رہی ہوں تم سے بے خبر ہو کر اپنے آپ سے بھی بے خبر ہو کر میں نے تم میں صرف اپنے آپ کو دیکھا یہ سارا عشق میرا خود اپنی ہی ذات سے ...

مزید پڑھیے

شمع امید جلا بیٹھے تھے

شمع امید جلا بیٹھے تھے دل میں خود آگ لگا بیٹھے تھے ہوش آیا تو کہیں کچھ بھی نہ تھا ہم بھی کس بزم میں جا بیٹھے تھے دشت گلزار ہوا جاتا ہے کیا یہاں اہل وفا بیٹھے تھے اب وہاں حشر اٹھا کرتے ہیں کل جہاں اہل وفا بیٹھے تھے

مزید پڑھیے

وہ حسرت بہار نہ طوفان زندگی (ردیف .. ن)

وہ حسرت بہار نہ طوفان زندگی آتا ہے پھر رلانے کو ابر بہار کیوں آلام و غم کی تند حوادث کے واسطے اتنا لطیف دل مرے پروردگار کیوں جب زندگی کا موت سے رشتہ ہے منسلک پھر ہم نشیں ہے خطرۂ لیل و نہار کیوں جب ربط و ضبط حسن محبت نہیں رہا ہے بار دوش ہستئ ناپائیدار کیوں رونا مجھے خزاں کا ...

مزید پڑھیے

دوراہا

(خود کلامی) تم جھوٹ اور سچ کے دوراہے پر تھے گزرتے لمحوں کی آواز نے تم سے پوچھا کیا تم سچ کی راہ پر چل سکتے ہو تم چپ ہی رہے گزرتے لمحوں کی آواز نے تم سے پوچھا کیا تم جھوٹ کی راہ پہ چل سکتے ہو تم چپ ہی رہے اور ''ہاں'' کے سارے لمحے گزر گئے تم جانتے ہو ''ہاں'' کہنے کے تو سارے لمحے گزر گئے اب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1409 سے 6203