قومی زبان

جب کسی لائق نہیں ہم جب کسی قابل نہیں

جب کسی لائق نہیں ہم جب کسی قابل نہیں موت بہتر ایسے جینے سے تو کچھ حاصل نہیں کھینچتے ہو کیسی بے دردی سے میرے دل سے تیر چارہ سازو کیا تمہارے پہلوؤں میں دل نہیں اڑ گئی ہے ہجر میں شاہد ہیں تارے چرخ کے یاد جاناں سے ہماری نیند تک غافل نہیں دیکھ کر صورت مری کہتے ہیں میرے چارہ ساز مر ...

مزید پڑھیے

دیوار بن گئے تھے جو موسم بدل گئے

دیوار بن گئے تھے جو موسم بدل گئے آ جائیے کہ شام کے سائے بھی ڈھل گئے آتش فشاں پہاڑ تھے لاوے نگل گئے شاطر مزاج لوگ نئی چال چل گئے حالانکہ بات سچ ہی کہی تھی ضمیر نے لیکن بہت ہی تلخ تھے الفاظ کھل گئے صبح شب سیاہ بڑے طمطراق سے سورج اگا رہی تھی مگر ہاتھ جل گئے آئی شب سیاہ ضیا باریوں ...

مزید پڑھیے

عشق ہے نام مرا حسن کا شیدائی ہوں

عشق ہے نام مرا حسن کا شیدائی ہوں بات یہ اور کہ محروم پذیرائی ہوں قافلے غم کے جہاں رکتے ہیں دم لینے کو میں وہی سایۂ دیوار شکیبائی ہوں کچھ اس انداز سے اٹھتی رہی حاسد کی نظر جیسے میں ہی سبب انجمن آرائی ہوں نکتہ چیں میرے مرے خوں کی سفیدی پہ نہ جا میں نئے دور کے بھائی کا سگا بھائی ...

مزید پڑھیے

چھپنے والے یہ بھی چھپنے کا کوئی انداز ہے

چھپنے والے یہ بھی چھپنے کا کوئی انداز ہے تو ہے پردے میں مگر باہر تری آواز ہے ہائے کیا بانکی ادا ہے کیا خرام ناز ہے چال خنجر کی عروس تیغ کا انداز ہے عشق میں کامل ہوں میں وہ حسن میں ممتاز ہے میں سراپا درد ہوں قاتل سراپا ناز ہے خیر ہو یا رب محبت کا ابھی آغاز ہے رنگ رخ میرا ابھی سے ...

مزید پڑھیے

سونے دیتا نہیں شب بھر دل بیمار مجھے

سونے دیتا نہیں شب بھر دل بیمار مجھے درد نے اٹھ کے پکارا ہے کئی بار مجھے چل کے ظالم نہ دکھا شوخئ رفتار مجھے نظر آتے ہیں قیامت کے سب آثار مجھے قبر پر جب مری آتے ہیں تو رو دیتے ہیں بعد مرنے کے وہ سمجھے ہیں وفادار مجھے آپ سے آئے تھے محفل میں تری او ظالم ہائے اب آپ میں آنا ہوا دشوار ...

مزید پڑھیے

بھولے پن سے یہ اسے محفل جاناں سمجھا

بھولے پن سے یہ اسے محفل جاناں سمجھا حشر کی خوب حقیقت دل ناداں سمجھا زندگانی کو خیال شب ہجراں سمجھا موت آئی تو اسے خواب پریشاں سمجھا گھر سے تن کر نکل آیا ہو کوئی مست شباب کون کمبخت گریباں کو گریباں سمجھا روز آفت ہے نئی روز قیامت ہے نئی آج تک میں نہ مزاج شب ہجراں سمجھا میں گنہ ...

مزید پڑھیے

رکھے ہیں آپ ہاتھ جہاں اب وہاں نہیں

رکھے ہیں آپ ہاتھ جہاں اب وہاں نہیں ہم کیا بتائیں درد کہاں ہے کہاں نہیں دل لے گئے وہ درد محبت کہاں رہے عبرت کا ہے محل کہ مکیں ہے مکاں نہیں اے برق کس کے واسطے بیتاب آج ہے اس باغ میں مرا تو کہیں آشیاں نہیں قاتل سمجھ کے آج ذرا تیغ ناز کھینچ یہ امتحاں ترا ہے مرا امتحاں نہیں چھوٹیں ...

مزید پڑھیے

گر ہے نئے نظام کی تخلیق کا خیال (ردیف .. ے)

گر ہے نئے نظام کی تخلیق کا خیال آبادیوں کو نذر بیاباں تو کیجیے گر جلوۂ جمال کی دل کو ہے آرزو اشکوں سے چشم شوق چراغاں تو کیجیے ہونا ہے درد عشق سے گر لذت آشنا دل کو خراب تلخیٔ ہجراں تو کیجیے اک لمحۂ نشاط کی گر ہے ہوس شمیمؔ دل کو ہلاک حسرت و ارماں تو کیجیے

مزید پڑھیے

امیدیں مٹ گئیں اب ہم نفس کیا

امیدیں مٹ گئیں اب ہم نفس کیا نشیمن کی خوشی رنج قفس کیا بسر کانٹوں میں ہو جب زندگانی بہار خندۂ گل یک نفس کیا مری دیوانگی کیوں بڑھ رہی ہے بہار آئی چمن میں ہم نفس کیا نہ ہو جب رنگ آزادی چمن میں تو پھر اندیشۂ قید قفس کیا بہار نو کی پھر ہے آمد آمد چمن اجڑا کوئی پھر ہم نفس کیا

مزید پڑھیے

شمع حسرت جلا گئے آنسو

شمع حسرت جلا گئے آنسو رونق دل بڑھا گئے آنسو ضبط غم کی شکستگی مت پوچھ ان کی آنکھوں میں آ گئے آنسو آ گئی کام دل کی بے تابی خلش غم بڑھا گئے آنسو تھم گئے جب فراق میں نالے دل میں طوفاں اٹھا گئے آنسو جس کو دل سے لگا کے رکھا تھا وہ خزانہ لٹا گئے آنسو کیا قیامت تھی پردہ داریٔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1408 سے 6203