میں عورت ذات ہوں مجھ کو وفا کرنے کی عادت ہے
میں عورت ذات ہوں مجھ کو وفا کرنے کی عادت ہے کبھی ریتوں رواجوں سے کبھی سوکھے گلابوں سے کبھی کچھ ایسے خوابوں سے کہ جن کی کرچیاں چن کر مری پوریں ہوئیں چھلنی کبھی اس آشیانے سے کہ جس کا ایک اک تنکا صبح سے شام ہونے تک وفا سے میں نے جوڑا ہو کبھی میں صورت حوا کبھی میں عکس مریم ہوں مثال ...