قومی زبان

میں عورت ذات ہوں مجھ کو وفا کرنے کی عادت ہے

میں عورت ذات ہوں مجھ کو وفا کرنے کی عادت ہے کبھی ریتوں رواجوں سے کبھی سوکھے گلابوں سے کبھی کچھ ایسے خوابوں سے کہ جن کی کرچیاں چن کر مری پوریں ہوئیں چھلنی کبھی اس آشیانے سے کہ جس کا ایک اک تنکا صبح سے شام ہونے تک وفا سے میں نے جوڑا ہو کبھی میں صورت حوا کبھی میں عکس مریم ہوں مثال ...

مزید پڑھیے

جھوٹ

ٹھہرو بارش رک جائے تو میں ہی تم کو چھوڑ آؤں گا تب تک کوئی شعر سنا دو یا پھر تار ہنسی کا چھیڑو دیکھو مجھ کو جانے دو جنگل سارا بھیگ گیا ہے اور بادل بھی غصے میں ہے پاگل ہو تم کیسی باتیں کرتی ہو میرے ہوتے بادل برسے یا پھر دھوپ اندھیرا چھائے کون تمہیں کچھ کہہ سکتا ہے

مزید پڑھیے

اس کی یادیں مہکتی رہتی ہیں

اس کی یادیں مہکتی رہتی ہیں میری سانسیں مہکتی رہتی ہیں اس کو دیکھا تھا خواب میں اک دن اب بھی آنکھیں مہکتی رہتی ہیں وو مرے ساتھ تو نہیں ہے مگر اس کی باتیں مہکتی رہتی ہیں اس کی چاہت کے پھول کھلتے ہیں دل کی شاخیں مہکتی رہتی ہیں یوں دھڑکتا ہے کوئی سینہ میں میری راتیں مہکتی رہتی ...

مزید پڑھیے

دل کا کھونا بہت ضروری ہے

دل کا کھونا بہت ضروری ہے عشق ہونا بہت ضروری ہے اتنا آساں نہیں ہے پا لینا پہلے کھونا بہت ضروری ہے جس کے سینے میں درد ٹھہرا ہو اس کا رونا بہت ضروری ہے ان سے ہونی ہیں خواب میں باتیں میرا سونا بہت ضروری ہے صرف یادوں سے گھر نہیں بنتا تیرا ہونا بہت ضروری ہے

مزید پڑھیے

آئے ہو تو مرضی سے تم جا سکتے ہو

آئے ہو تو مرضی سے تم جا سکتے ہو اور چاہو تو مڑ کر واپس آ سکتے ہو دور اداسی کرنی ہو تو شوق سے تم کمرے میں میری تصویر لگا سکتے ہو یہ اندھوں کا کھیل ہے پیارے تم اس میں با آسانی ہر کردار نبھا سکتے ہو آڑی ترچھی چند لکیریں کھینچ کے تم کاغذ پر کوئی شہکار بنا سکتے ہو میں نے جو کچھ کہنا ...

مزید پڑھیے

خواب آنکھوں میں تم سجاؤ تو

خواب آنکھوں میں تم سجاؤ تو کاغذی کشتیاں بناؤ تو دن کا سورج ہے کس گمان میں اب لو دئے کی ذرا بڑھاؤ تو ایک تتلی بھٹک رہی ہے یہاں رخ سے آنچل ذرا ہٹاؤ تو ارے صاحب سنو ذرا ٹھہرو میرا دل ساتھ لے کے جاؤ تو رنگ ساڑی کا اور نکھرے گا پھول گیندے کا اک لگاؤ تو آج موسم بھی خوب ٹھہرا ہے ایک ...

مزید پڑھیے

تم مرے شہر میں آتے ہو چلے جاتے ہو

تم مرے شہر میں آتے ہو چلے جاتے ہو دل پہ اک زخم لگاتے ہو چلے جاتے ہو تم سے مل کر بھی کوئی بات نہیں ہو پاتی صرف اپنی ہی سناتے ہو چلے جاتے ہو میں کہ اسباب سفر باندھ کے آ جاتی ہوں تم نئی راہ دکھاتے ہو چلے جاتے ہو موسم گل کے اترتے ہی مرے آنگن میں ہجر کا گیت سناتے ہو چلے جاتے ہو آج کی ...

مزید پڑھیے

زخم شدت میں مسکرا رہے تھے

زخم شدت میں مسکرا رہے تھے حضرت میر یاد آ رہے تھے یہ وہ پاگل ہے جس کا ذکر کیا وہ تعارف مرا کرا رہے تھے کس قدر شوخ ان کا لہجہ تھا ہم تو بس دیکھتے ہی جا رہے تھے کیا کوئی زخم دل پہ کھا بیٹھے تم جو غالب کو گنگنا رہے تھے ہم تو دہلیز سے ہی لوٹ آئے وہ بھی محفل سے اٹھ کے جا رہے تھے کر کے ...

مزید پڑھیے

میری صورت کو دیکھو کچھ نہ پوچھو ماجرا میرا

میری صورت کو دیکھو کچھ نہ پوچھو ماجرا میرا کہ جو گزری ہے مجھ پر خوب واقف ہے خدا میرا نشان پا سے چلتا ہے پتا تلووں کے چھالوں کا جما ہے دشت میں بھی دور تک نقش وفا میرا قفس میں ایک بیمار محبت جان دیتا ہے چمن والوں سے یہ پیغام کہہ دینا صبا میرا میری ناکامیٔ امید بھی ہے رحم کے ...

مزید پڑھیے

کیوں کہہ رہے ہو نزع میں ہم سے خفا نہ ہو

کیوں کہہ رہے ہو نزع میں ہم سے خفا نہ ہو اس کو فریب دو جو تمہیں جانتا نہ ہو یہ چاہتے ہیں ہم کہ کوئی دوسرا نہ ہو خلوت ہو ہم ہوں تم ہو تمہاری حیا نہ ہو اے دل خدا کے واسطے ہم سے خفا نہ ہو حسن آشنا تو تھا ہی ستم آشنا نہ ہو وہ ہو جو تیری شان کے شایاں ہو اے کریم میں کیا کہوں زباں سے کہ اب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1404 سے 6203