قومی زبان

جو سمجھتے تھے مر گیا ہوں میں

جو سمجھتے تھے مر گیا ہوں میں دیکھ لیں سب ہرا بھرا ہوں میں اپنے ڈر میں ہی مبتلا ہو کر اپنے اندر چھپا ہوا ہوں میں سن رہے ہیں سبھی توجہ سے تیری باتیں جو کر رہا ہوں میں اے حسیں شخص اب تری مرضی تیری آنکھوں پہ مر چکا ہوں میں میں بس اک کام سے ملا تھا اسے وہ سمجھتی ہے مبتلا ہوں ...

مزید پڑھیے

یہ جیسے کوہساروں میں ہوا رستہ بناتی ہے

یہ جیسے کوہساروں میں ہوا رستہ بناتی ہے محبت جب بناتی ہے جدا رستہ بناتی ہے محبت ہارتی کب ہے محبت گر محبت ہو محبت کے لیے خلق خدا رستہ بناتی ہے حرا و ثور سے ہوتی ہوئی یہ لا مکاں پہنچی تم اب بھی پوچھتے ہو کیا وفا رستہ بناتی ہے اشارے سے ہی کر دیتی ہے دو ٹکڑوں میں قلزم کو ہمیں معلوم ...

مزید پڑھیے

حیرت سے تک رہا ہے جہان وفا مجھے

حیرت سے تک رہا ہے جہان وفا مجھے تم نے بنا دیا ہے محبت میں کیا مجھے ہر منزل حیات سے گم کر گیا مجھے مڑ مڑ کے راہ میں وہ ترا دیکھنا مجھے کیف خودی نے موج کو کشتی بنا دیا ہوش خدا ہے اب نہ غم ناخدا مجھے ساقی بنے ہوئے ہیں وہ ساغر شب وصال اس وقت کوئی مری قسم دیکھ جا مجھے

مزید پڑھیے

آنکھ تمہاری مست بھی ہے اور مستی کا پیمانہ بھی

آنکھ تمہاری مست بھی ہے اور مستی کا پیمانہ بھی ایک چھلکتے ساغر میں مے بھی ہے مے خانہ بھی بے خودیٔ دل کا کیا کہنا سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں ہستی سے مانوس بھی ہوں ہستی سے بیگانہ بھی حسن نے تیرے دنیا میں کیسی آگ لگا دی ہے برق بھی شعلہ برپا ہے رقص میں ہے پروانہ بھی وسعت وحشت تنگ ...

مزید پڑھیے

دشت میں قیس نہیں کوہ پہ فرہاد نہیں

دشت میں قیس نہیں کوہ پہ فرہاد نہیں ہے وہی عشق کی دنیا مگر آباد نہیں ڈھونڈھنے کو تجھے او میرے نہ ملنے والے وہ چلا ہے جسے اپنا بھی پتہ یاد نہیں روح بلبل نے خزاں بن کے اجاڑا گلشن پھول کہتے رہے ہم پھول ہیں صیاد نہیں حسن سے چوک ہوئی اس کی ہے تاریخ گواہ عشق سے بھول ہوئی ہے یہ مجھے یاد ...

مزید پڑھیے

دوستو درد پلاؤ کہ کڑی رات کٹے

دوستو درد پلاؤ کہ کڑی رات کٹے مے میں کچھ اور ملاؤ کہ کڑی رات کٹے آنسوؤں سے یہ کڑی رات نہیں کٹ سکتی آج مے خانہ لنڈھاؤ کہ کڑی رات کٹے نغمے بازار میں مہنگے ہیں تو کیا غم یارو نوحے کو نغمہ بناؤ کہ کڑی رات کٹے زیست اور موت اساطیر کہن ہیں یارو نیا افسانہ سناؤ کہ کڑی رات کٹے کوئی ...

مزید پڑھیے

خیال و فکر کی تجسیم کر چکی تھی وہاں

خیال و فکر کی تجسیم کر چکی تھی وہاں میں اس کی سلطنت تسلیم کر چکی تھی وہاں ہوائیں پھول شجر اور چھاؤں اس کی تھی اسی لئے تو میں تعظیم کر چکی تھی وہاں وہ شہر ذات کی ہر اک گلی سے واقف تھا مگر میں راستے تقسیم کر چکی تھی وہاں قفس کھلا تھا مگر فاختہ کہاں جاتی وہ اپنی ہار کو تسلیم کر چکی ...

مزید پڑھیے

نمو

تمہیں خبر ہے مرے سرہانے کے بیل بوٹوں میں اک شگوفہ نیا کھلا ہے تمہیں خبر ہے کہ خشک سالی کے زرد موسم میں پھول کھلنا دلیل ہے کہ میں اپنے خوابوں کو رہن رکھ کر تمام شب اک اذیت سے کاٹتی ہوں روش روش کو سنوارتی ہوں مجھے یہ ڈر ہے تمہاری یادوں سے میرا رشتہ نہ ٹوٹ جائے کہیں یہ گلشن نہ سوکھ ...

مزید پڑھیے

مشورہ

نمی دے کر جو مٹی کو مسلسل گوندھتے ہو تم بتاؤ کیا بناؤ گے کوئی کوزہ کوئی مورت یا پھر محبوب کی صورت سخنور ہوں کہو تو مشورہ اک دوں یہ گھاٹے کا ہی سودا ہے یہاں مٹی کی مورت کی اگر آنکھیں بناؤ گے تمہیں آنکھیں دکھائے گی تراشو گے زبان اس کی تو ترشی جھیل پاؤ گے اگر جو دل بنایا تو ہزاروں ...

مزید پڑھیے

سوال

ہاتھ دیکھتے ہو تم اور مجھ سے کہتے ہو واہ کیا مقدر ہے اور عمر بھی لمبی بس ذرا خسارہ ہے نام تیرا لے کے میں خود سے پوچھتی ہوں یہ بعد تیرے جانے کے اور کیا خسارہ یہ عمر چاہے لمبی ہو موت کے لیے آخر سانس رکنا لازم ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 1403 سے 6203