آج ان پر راز دل افشا کریں
آج ان پر راز دل افشا کریں حسن کو مغرور و خود آرا کریں چند دن ان کو نہ اب دیکھا کریں یعنی کچھ ان کو بھی تڑپایا کریں اس طرح ہو یوں کریں ایسا کریں ان سے ملنے کا کوئی چارا کریں آپ تو جو کچھ کریں اچھا کریں ہم کہیں تو شکوۂ بے جا کریں موت بھی مانگے سے ملتی ہے کہاں پھر یہ کیوں کر ہو کہ وہ ...