قومی زبان

آج ان پر راز دل افشا کریں

آج ان پر راز دل افشا کریں حسن کو مغرور و خود آرا کریں چند دن ان کو نہ اب دیکھا کریں یعنی کچھ ان کو بھی تڑپایا کریں اس طرح ہو یوں کریں ایسا کریں ان سے ملنے کا کوئی چارا کریں آپ تو جو کچھ کریں اچھا کریں ہم کہیں تو شکوۂ بے جا کریں موت بھی مانگے سے ملتی ہے کہاں پھر یہ کیوں کر ہو کہ وہ ...

مزید پڑھیے

کس کی صدا پہ کان لگائے ہوئے ہوں میں

کس کی صدا پہ کان لگائے ہوئے ہوں میں زانو پہ اپنے سر کو جھکائے ہوئے ہوں میں وہ دن گئے کہ یاد تھی آٹھوں پہر تری اب اپنے آپ کو بھی بھلائے ہوئے ہوں میں رنگیں دکھائی دیتا ہے سارا جہاں مجھے آنکھوں میں ان کے جلوے بسائے ہوئے ہوں میں مانع ہے تیرے آنے میں اے مست ناز کیا ملنے کی کب سے آس ...

مزید پڑھیے

شاعر

اے دوست مرے پاس نہیں لعل و جواہر تو دیکھ کہ کس درجہ ہے سادہ مری پوشاک لیکن مجھے قدرت نے عطا کی ہے فقیری اس بات کا شاہد ہے مرا دامن صد چاک ہر چند کہ کم مایہ ہوں دنیا کی نظر میں اقلیم سخن میں ہے مری بیٹھی ہوئی دھاک ہر رنگ زمانہ سے ہوں اس عمر میں واقف رفتار زمانہ ہے مری بستۂ فتراک دنیا ...

مزید پڑھیے

دل میں رہنا ہے پریشان خیالوں کا ہجوم (ردیف .. ے)

دل میں رہنا ہے پریشان خیالوں کا ہجوم اور آنکھوں میں قیامت کا سماں رہتا ہے عشق کے راز کو جتنا میں نہاں رکھتا ہوں خامشی سے مری اتنا ہی عیاں رہتا ہے روتا رہتا ہوں کسی غم زدہ کے رونے پر اور دل مرکز آلام جہاں رہتا ہے رفعت فکر ہے حاصل مجھے الفت کے طفیل جو نہ یہ ہو تو کہاں حسن بیاں ...

مزید پڑھیے

دم صبح پی لی سر شام پی لی

دم صبح پی لی سر شام پی لی اگر مل گئی ایک دو جام پی لی نہ آغاز سوچا نہ انجام پی لی رکھا ہم نے پینے سے بس کام پی لی میں اے شیخ انسان ہی تو ہوں آخر گھٹاؤں نے پھیلا دئے دام پی لی زمانے کی بے رحم گردش کے ہاتھوں نہ پایا جہاں میں جو آرام پی لی کبھی ہم نے ساغر پہ ساغر لنڈھائے کبھی ہم نے ...

مزید پڑھیے

ان کے آتے ہی میں ہو جاتا ہوں بے خود اتنا (ردیف .. ے)

ان کے آتے ہی میں ہو جاتا ہوں بے خود اتنا وہ چلے جاتے ہیں پہلو سے تو ہوش آتا ہے عشق ہے عشق کوئی کھیل تماشا تو نہیں جیتے جی دل سے خیال ان کا کہاں جاتا ہے در و دیوار یہ کہتے ہوئے آتے ہیں نظر وہ ابھی آئے گا دیکھو وہ چلا آتا ہے لالہ و گل ہیں چمن میں کہ کھلے جاتے ہیں غنچۂ دل ہے مرا ایک کہ ...

مزید پڑھیے

اے دل ناداں یہ جذب عشق ہے (ردیف .. ا)

اے دل ناداں یہ جذب عشق ہے دیکھ بیتابانہ وہ کون آ گیا لوٹتے ہم کیا جوانی کی بہار غنچۂ دل کھلتے ہی مرجھا گیا عقل و ہوش و صبر و آرام و قرار ایک جانے سے ترے کیا کیا گیا زندگی گزرے گی کس امید پر انتظار وعدۂ فردا گیا دل کو میں بہلا رہا ہوں اس طرح آ رہا ہے آئے گا وہ آ گیا عشق میں آیا ہے ...

مزید پڑھیے

ہے مدرسہ یہی تو یہی خانقاہ ہے

ہے مدرسہ یہی تو یہی خانقاہ ہے انساں کا دل ہی ایک بڑی درس گاہ ہے رسوا نہ کر دے مجھ کو یہ انداز خامشی ان کے سوا ہر ایک کی مجھ پر نگاہ ہے شرمائے بھی وہ اپنے ستم پر تو کیا ہوا شرم و حیا سے ہم پہ کب ان کی نگاہ ہے جو پیار کی نہیں نہ سہی قہر کی سہی چارہ مرے مرض کا تری اک نگاہ ہے اس نے نقاب ...

مزید پڑھیے

جو شکایت غم زندگی کبھی لب پر اپنے نہ لا سکے

جو شکایت غم زندگی کبھی لب پر اپنے نہ لا سکے وہ شب فراق کی داستاں بھلا کیا کسی کو سنا سکے کئی سر سے گزریں قیامتیں پڑیں ہم پہ لاکھ مصیبتیں دیں فلک نے کتنی اذیتیں تمہیں دل سے ہم نہ بھلا سکے تو وفا شناس ضرور ہے یہ تمام اپنا قصور ہے یہ عجب جنوں کا غرور ہے ترے آستاں پہ نہ جا سکے وہی ...

مزید پڑھیے

ملے ہیں نقش پا ان کے جہاں تک

ملے ہیں نقش پا ان کے جہاں تک اجالا ہی اجالا ہے وہاں تک دھندلکے ہی دھندلکے دور تک ہیں وہ عالم ہے زمیں سے آسماں تک بڑھیں گے ہاتھ جب بھی ظلمتوں کے نہ اٹھے گا چراغوں سے دھواں تک حقیقت جانتی ہے جس کو دنیا خیال و خواب ہے دنیا وہاں تک اندھیرا ہی اندھیرا ہے ہر اک سو امیدیں ساتھ ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1369 سے 6203