قومی زبان

اے رنج آگہی کوئی چارہ تو ہوگا نا

اے رنج آگہی کوئی چارہ تو ہوگا نا چل خوش نہ رہ سکیں گے گزارا تو ہوگا نا یہ آرزو بھی وقت کے دھارے میں بہہ گئی اب ناں سہی کبھی وہ ہمارا تو ہوگا نا جاتی ہے جو متاع دل و جاں تو کیا ملال یہ عشق کی دکاں ہے خسارہ تو ہوگا نا ہر آن جس کا ذکر ہے اس بے نیاز نے بھولے سے میرا نام پکارا تو ہوگا ...

مزید پڑھیے

جزیرے دھند کے پیچھے چھپے تھے

جزیرے دھند کے پیچھے چھپے تھے سمندر سے جہاں موسم ملے تھے کسی کے بازوؤں کو یاد کر کے یوں اپنے آپ میں سمٹے ہوئے تھے مسلسل ایک حیرت کا سفر ہے کہاں پہنچے کہاں سے ہم چلے تھے

مزید پڑھیے

عمر گزری مری شیرینئ گفتار کے ساتھ

عمر گزری مری شیرینئ گفتار کے ساتھ لب ملائے تھے کبھی میں نے لب یار کے ساتھ غم جاناں کی اذیت غم دنیا کا عذاب زندگی میں نے گزاری بڑے آزار کے ساتھ گرد میں ڈوب گیا سلسلۂ شام و سحر وقت بھی چل نہیں سکتا مری رفتار کے ساتھ مری خوددار طبیعت نے بچایا مجھ کو میرا رشتہ کسی دربار نہ سرکار کے ...

مزید پڑھیے

کیا منزل غم سمٹ گئی ہے

کیا منزل غم سمٹ گئی ہے اک آہ میں راہ کٹ گئی ہے پھر سامنے ہے پہاڑ سی رات پھر شام سے نیند اچٹ گئی ہے پہلو میں یہ کیسا درد اٹھا ہے یہ کون سی راہ کٹ گئی ہے آپ آئے نہیں تو موت کمبخت آ آ کے پلٹ پلٹ گئی ہے اٹھ اٹھ کے مریض غم نے پوچھا کیا ہجر کی رات کٹ گئی ہے پھر سیفؔ ہوائے یاد رفتہ ہر غم ...

مزید پڑھیے

بڑے خطرے میں ہے حسن گلستاں ہم نہ کہتے تھے

بڑے خطرے میں ہے حسن گلستاں ہم نہ کہتے تھے چمن تک آ گئی دیوار زنداں ہم نہ کہتے تھے بھرے بازار میں جنس وفا بے آبرو ہوگی اٹھے گا اعتبار کوئے جاناں ہم نہ کہتے تھے اسی محفل اسی بزم وفا کے گوشے گوشے میں لٹے گی مستئ چشم غزالاں، ہم نہ کہتے تھے اسی رستے میں آخر وہ کڑی منزل بھی آئے ...

مزید پڑھیے

شگفت غنچۂ مہتاب کون دیکھے گا

شگفت غنچۂ مہتاب کون دیکھے گا میں سو گیا تو مرے خواب کون دیکھے گا کب آئیں گی وہ گھٹائیں جنہیں برسنا ہے مرے چمن تجھے شاداب کون دیکھے گا یہ بادہ خوار نہیں دیکھتے حرم ہے کہ دہر تمہاری بزم کے آداب کون دیکھے گا جو شہر ہو گئے غارت وہ کس نے دیکھے ہیں جو ہونے والے ہیں غرقاب کون دیکھے ...

مزید پڑھیے

جب وجہ سکون جاں ٹھہر جائے

جب وجہ سکون جاں ٹھہر جائے پھر کیسے دل تپاں ٹھہر جائے منزل کی مسافرو نہ پوچھو مل جائے جسے جہاں ٹھہر جائے اللہ رے خرام ناز ان کا اک بار تو آسماں ٹھہر جائے کیا جانئے قافلہ وفا کا لٹ جائے کہاں کہاں ٹھہر جائے یہ رات یہ ٹوٹتی امیدیں اللہ یہ کارواں ٹھہر جائے ہے موج میں سیفؔ کشتئ ...

مزید پڑھیے

لوگ کہتے ہیں

لوگ کہتے ہیں کہ پربت سے نکل کر چشمے کسی کھوئی منزل کی طرف بہتے ہیں اور سر شام ہوا ان کے لئے چلتی ہے جن کے محبوب بہت دور کہیں رہتے ہیں کوئی پیغام نہیں جس کی توقع ہو مجھے کس لیے گوش بر آواز ہوں معلوم نہیں جو کبھی دل میں تمنا تھی وہ آغوش میں ہے اب کدھر مائل پرواز ہوں معلوم نہیں نہیں ...

مزید پڑھیے

حسین راتوں جمیل تاروں کی یاد سی رہ گئی ہے باقی

حسین راتوں جمیل تاروں کی یاد سی رہ گئی ہے باقی کچھ اپنی اجڑی ہوئی بہاروں کی یاد سی رہ گئی ہے باقی ہر ایک محفل پڑی ہے سونی تمام میلے بچھڑ چکے ہیں ستم گروں کی ستم شعاروں کی یاد سی رہ گئی ہے باقی غم وفا کہنے سننے والے کہاں گئے اہل دل نہ جانے تمہاری الفت کے راز داروں کی یاد سی رہ گئی ...

مزید پڑھیے

کوئی نہیں آتا سمجھانے

کوئی نہیں آتا سمجھانے اب آرام سے ہیں دیوانے طے نہ ہوئے دل کے ویرانے تھک کر بیٹھ گئے دیوانے مجبوری سب کو ہوتی ہے ملنا ہو تو لاکھ بہانے بن نہ سکی احباب سے اپنی وہ دانا تھے ہم دیوانے نئی نئی امیدیں آ کر چھیڑ رہی ہیں زخم پرانے جلوۂ جاناں کی تفسیریں ایک حقیقت لاکھ فسانے دنیا بھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1348 سے 6203