قومی زبان

جاتے جاتے گلے لگاتا کیا

جاتے جاتے گلے لگاتا کیا وہ مرا اور دل دکھاتا کیا پھر وہی خوش گماں طبیعت اف تجربہ کچھ نہیں سکھاتا کیا؟ جانے والے تو جا چکے کب کے اب یہاں خاک ہے اڑاتا کیا شام ہستی کا پھڑپھڑاتا چراغ لو بھلا اور سے لگاتا کیا میں ہوں مجبور آئنہ تو نہیں درد کو خوش نما دکھاتا کیا کچھ نیا تھا ہی کب ...

مزید پڑھیے

جنون ختم ہوا اعتدال رہ گیا ہے

جنون ختم ہوا اعتدال رہ گیا ہے بپھر رہا تھا جو دریا نڈھال رہ گیا ہے جسے دعا کے سہارے پہ ابتدا کیا تھا گزر گیا ہے وہ موسم وہ سال رہ گیا ہے تمہارے سرد رویے سے صاف ظاہر ہے ہمارا کچھ تو تعلق بحال رہ گیا ہے جھٹک کے ہاتھ چلا ہے بڑی ہی عجلت میں ذرا ٹھہر کہ ضروری سوال رہ گیا ہے کہ دل میں ...

مزید پڑھیے

تغافل بے نیازی کا گلا کافی نہیں ہے

تغافل بے نیازی کا گلا کافی نہیں ہے مرا رستہ ہی روکو اب صدا کافی نہیں ہے یہ گہری کالی آنکھیں دیکھ تو کیا کہہ رہی ہیں انہیں پابند رکھنے کو وفا کافی نہیں ہے تمہارے کاسۂ الفت میں کچھ سکے اچھالے تمہارا دل لبھایا یہ صلہ کافی نہیں ہے؟ زمینی بات ہے ٹھہرے گی آخر جستجو پر ہمیشہ ساتھ ...

مزید پڑھیے

آ جاتا ہے خود پاس بلانا نہیں پڑتا

آ جاتا ہے خود پاس بلانا نہیں پڑتا ملنے کے لئے ہاتھ بڑھانا نہیں پڑتا کچھ ایسی سہولت سے مکیں دل میں ہوا وہ مجھ کو بھی مری ذات سے جانا نہیں پڑتا یہ خاص رعایت ہے کہ اب دیس میں اپنے غم مفت میں ملتا ہے کمانا نہیں پڑتا اس شہر سے اس شہر تلک سیدھی سڑک ہے فی الحال تو رستے میں زمانہ نہیں ...

مزید پڑھیے

عبث وجود کا دکھ تنگیٔ حیات کا دکھ

عبث وجود کا دکھ تنگیٔ حیات کا دکھ کہ دل نے پالا ہوا ہے ہر ایک ذات کا دکھ تلاش جنت و دوزخ میں رائیگاں انساں زمیں پہ روز مناتا ہے کائنات کا دکھ کئی جھمیلوں میں الجھی سی بد مزہ چائے اداس میز پہ دفتر کے کاغذات کا دکھ تمام دن کی مصیبت تو بانٹ لی ہم نے کبھی کہا ہی نہیں اپنی اپنی رات کا ...

مزید پڑھیے

مجھ میں اب نہیں باقی حوصلہ بچھڑنے کا

مجھ میں اب نہیں باقی حوصلہ بچھڑنے کا ملتجی ہوں دینا مت عندیہ بچھڑنے کا اس سے بڑھ کے کیا ہوتا زندگی کے دامن میں ایک غم ہے ہونے کا دوسرا بچھڑنے کا پیار اور توقع کے سلسلے نہ بڑھ جائیں اس جگہ مناسب ہے سوچنا بچھڑنے کا آپ کی سہولت بس ہم عزیز رکھتے ہیں مانگ لو عطا ہوگا راستہ بچھڑنے ...

مزید پڑھیے

جب ترے شہر سے گزرتا ہوں

کس طرح روکتا ہوں اشک اپنے کس قدر دل پہ جبر کرتا ہوں آج بھی کارزار ہستی میں جب ترے شہر سے گزرتا ہوں اس قدر بھی نہیں مجھے معلوم کس محلے میں ہے مکاں تیرا کون سی شاخ گل پہ رقصاں ہے رشک فردوس آشیاں تیرا جانے کن وادیوں میں اترا ہے غیرت حسن کارواں تیرا کس سے پوچھوں گا میں خبر تیری کون ...

مزید پڑھیے

وعدہ

اس سے پہلے کہ تیری چشم کرم معذرت کی نگاہ بن جائے اس سے پہلے کہ تیرے بام کا حسن رفعت مہر و ماہ بن جائے پیار ڈھل جائے میرے اشکوں میں آرزو ایک آہ بن جائے مجھ پہ آ جائے عشق کا الزام اور تو بے گناہ بن جائے میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا اس سے پہلے کہ سادگی تیری لب خاموش کو گلہ کہہ دے میں تجھے ...

مزید پڑھیے

تیرے بعد

مری نگاہ کو اب بھی تری ضرورت ہے دل تباہ کو اب بھی تری ضرورت ہے خروش نالہ تڑپتا ہے تیری فرقت میں سکوت آہ کو اب بھی تری ضرورت ہے یہ صبح و شام تری جستجو میں پھرتے ہیں کہ مہر و ماہ کو اب بھی تری ضرورت ہے بہار‌‌ زلف پریشاں لیے ہے گلشن میں گل و گیاہ کو اب بھی تری ضرورت ہے زمانہ ڈھونڈ رہا ...

مزید پڑھیے

بادۂ نیم رس

کس قیامت کا تبسم ہے ترے ہونٹوں پر استعاروں میں بھٹکتے ہیں خیالات مرے میں کہ ہر سانس کو اک شعر بنا سکتا ہوں نظم ہونے کو پریشان ہیں جذبات مرے آنکھ جمتی نہیں لہراتے ہوئے قدموں پر کسی نغمے کا تلاطم ہے کہ رفتار تری رقص انگڑائیاں لیتا ہے تری بانہوں میں حیرت آثار ہے کیوں چشم فسوں بار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1347 سے 6203