قومی زبان

ایک اداسی دل پر چھائی رہتی ہے

ایک اداسی دل پر چھائی رہتی ہے میرے کمرے میں تنہائی رہتی ہے سینے میں اک درد بھی رہتا ہے بیدار آنکھوں میں کچھ نیند بھی آئی رہتی ہے دل دریا کی تھاہ بتائیں کیا جس میں سات سمندر کی گہرائی رہتی ہے ہم بھی اسی بستی کے رہنے رہنے والے ہیں جس میں تیری بے پروائی رہتی ہے پہلو میں اب سیفؔ ...

مزید پڑھیے

وصل کی بات اور ہی کچھ تھی

وصل کی بات اور ہی کچھ تھی ان دنوں رات اور ہی کچھ تھی پہلی پہلی نظر کے افسانے وہ ملاقات اور ہی کچھ تھی آپ آئے تھے زندگی میری رات کی رات اور ہی کچھ تھی دل نے کچھ اور ہی لیا مطلب آپ کی بات اور ہی کچھ تھی سیفؔ پی کر بھی تشنگی نہ گئی اب کے برسات اور ہی کچھ تھی

مزید پڑھیے

رخ پہ یوں جھوم کر وہ لٹ جائے

رخ پہ یوں جھوم کر وہ لٹ جائے خضر دیکھے تو عمر کٹ جائے اس نظارے سے کیا بچے کوئی جو نگاہوں سے خود لپٹ جائے یہ بھی اندھیر ہم نے دیکھا ہے رات اک زلف میں سمٹ جائے جانے تجھ سے ادھر بھی کیا کچھ ہے کاش تو سامنے سے ہٹ جائے موت نے کھیل ہم کو جانا ہے کبھی آئے کبھی پلٹ جائے ڈوبنے تک میں ...

مزید پڑھیے

غم دل کسی سے چھپانا پڑے گا

غم دل کسی سے چھپانا پڑے گا گھڑی دو گھڑی مسکرانا پڑے گا یہ آلام ہستی یہ دور زمانہ تو کیا اب تمہیں بھول جانا پڑے گا بہت بچ کے نکلے مگر کیا خبر تھی ادھر بھی ترا آستانہ پڑے گا ابھی منکر عشق ہے یہ زمانہ جو دیکھا ہے ان کو دکھانا پڑے گا چلو میکدے میں بسیرا ہی کر لو نہ آنا پڑے گا نہ ...

مزید پڑھیے

جب تصور میں نہ پائیں گے تمہیں

جب تصور میں نہ پائیں گے تمہیں پھر کہاں ڈھونڈنے جائیں گے تمہیں تم نے دیوانہ بنایا مجھ کو لوگ افسانہ بنائیں گے تمہیں حسرتو دیکھو یہ ویرانۂ دل اس نئے گھر میں بسائیں گے تمہیں میری وحشت مرے غم کے قصے لوگ کیا کیا نہ سنائیں گے تمہیں آہ میں کتنا اثر ہوتا ہے یہ تماشا بھی دکھائیں گے ...

مزید پڑھیے

ایک سے ایک ہے غارت گر ایمان یہاں

ایک سے ایک ہے غارت گر ایمان یہاں اے مرے دل ترا اللہ نگہبان یہاں چھوڑ کر جاؤں ترے شہر کی گلیاں کیسے دل یہاں روح یہاں جسم یہاں جان یہاں کس سے پوچھوں کہ وہ بے مہر کہاں رہتا ہے دل بے تاب مری جان نہ پہچان یہاں جانے اس شہر کا معیار صداقت کیا ہے بت بھی ہاتھوں میں لیے پھرتے ہیں قرآن ...

مزید پڑھیے

کھویا پانے والوں نے

کھویا پانے والوں نے غم اپنانے والوں نے چھیڑا پھر افسانۂ دل دل بہلانے والوں نے کن راہوں پہ ڈال دیا راہ دکھانے والوں نے دل کا اک اک زخم گنا دل بہلانے والوں نے سیفؔ تماشا بھی نہ کیا آگ لگانے والوں نے

مزید پڑھیے

قضا کا وقت رخصت کی گھڑی ہے

قضا کا وقت رخصت کی گھڑی ہے ذرا ٹھہرو کہ یہ منزل کڑی ہے جسے تم چھوڑ کر رخصت ہوئے تھے وہ بستی آج تک سونی پڑی ہے ابھی تک دل کے ویرانے میں جیسے تمنا ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے مرے دشمن بھی اب تو آ رہے ہیں تمہیں کس وقت جانے کی پڑی ہے تمہارے درد مندوں کی خبر لے غم دوراں کو ایسی کیا پڑی ...

مزید پڑھیے

زہد کس کس نے لٹائے ہیں تمہیں کیا معلوم

زہد کس کس نے لٹائے ہیں تمہیں کیا معلوم آج وہ کیا نظر آئے ہیں تمہیں کیا معلوم تم کو بیگانے بھی اپناتے ہیں میں جانتا ہوں میرے اپنے بھی پرائے ہیں تمہیں کیا معلوم کتنی ویران ہیں بے نور ہیں آنکھیں میری یہ دیئے کس نے بجھائے ہیں تمہیں کیا معلوم شوق آوارہ کو صحرائے فراموشی میں راستے ...

مزید پڑھیے

مغرور تھے اپنی ذات پر ہم

مغرور تھے اپنی ذات پر ہم رونے لگے بات بات پر ہم اے دل تری موت کا بھی غم ہے خوش بھی ہیں تری نجات پر ہم لٹ جائیں گے ضبط غم کے ہاتھوں مر جائیں گے اپنی بات پر ہم یہ بھی ترے غم کا آسرا ہے ہنستے ہیں غم حیات پر ہم کیا ناز تھا سیفؔ حوصلے پر چپ ہو گئے ایک بات پر ہم

مزید پڑھیے
صفحہ 1349 سے 6203