قومی زبان

سرخ مکاں ڈھلتا جاتا ہے اک برفیلی مٹی میں

سرخ مکاں ڈھلتا جاتا ہے اک برفیلی مٹی میں اور مکیں بھی دیکھ رہے ہیں یہ تبدیلی مٹی میں ان گلیوں کے رمز و کنایہ یوں وحشت آثار ہوئے میں تو دل ہی چھوڑ کے بھاگا اس لچکیلی مٹی میں خمیازہ ہے بام و در پر جانے کن برساتوں کا نم دیدہ پل گھوم رہے ہیں ہر سو سیلی مٹی میں اک صحرا میں رونے والے ...

مزید پڑھیے

ہمیں تو کل کسی اگلے نگر پہنچنا ہے

ہمیں تو کل کسی اگلے نگر پہنچنا ہے متاع خواب تجھے اب کدھر پہنچنا ہے کراہتا ہے سر راہ درد سے کوئی مگر مجھے بھی تو جلدی سے گھر پہنچنا ہے ہمارا کیا ہے کدھر جائیں اور کب جائیں نکل پڑو کہ تمہیں وقت پر پہنچنا ہے کبھی تو پائے گی انجام کشمکش دل کی کہیں تو معرکۂ خیر و شر پہنچنا ہے ہواؤ ...

مزید پڑھیے

کشمیری مرغی

پاپا میرے کشمیر سے آئے ساتھ میں اک مرغی بھی لائے نسل بھی اس کی کشمیری ہے روپ ادا بھی کشمیری ہے کتنی سندر کتنی پیاری پر ہیں اس کے یا گل کاری قوس و قزح سے رنگ ہیں اس کے اودے پیلے لال اور نیلے انڈے دیتی ہے روزانہ خوب ہی کھاتی ہے یہ دانہ صحن میں دن بھر گھومتی ہے یہ ہر شے اچھی چومتی ہے ...

مزید پڑھیے

نے جام رہا نہ تو مے خانہ نہ ہی شور کہیں پیمانوں کا

نے جام رہا نہ تو مے خانہ نہ ہی شور کہیں پیمانوں کا ساقی کا کہیں پر نام رہا اور نام کہیں مستانوں کا اے شمع اسے کیا سمجھیں ہم ہنستی بھی ہے تو روتی بھی ہے تو ہے باعث غم یا وجہ خوشی جل مر مٹنا پروانوں کا ہمدرد جنہیں دل سمجھا تھا مت پوچھئے ان سے کیا پایا دکھ درد کا مسکن دل ہے بنا مخزن ...

مزید پڑھیے

خلا میں گھور رہا ہے عجیب آدمی ہے

خلا میں گھور رہا ہے عجیب آدمی ہے عجب طلب میں پڑا ہے عجیب آدمی ہے یہاں تو بولے بنا بات ہی نہیں بنتی سکوت بیچ رہا ہے عجیب آدمی ہے میں اس کو چھوڑ رہا ہوں عجیب آدمی ہوں وہ میرا سایہ بنا ہے عجیب آدمی ہے ابھی یہیں تھا ابھی دیکھ تو کہیں بھی نہیں یہ آدمی کہ ہوا ہے عجیب آدمی ہے میں جس کا ...

مزید پڑھیے

چہچہاتی چند چڑیوں کا بسر تھا پیڑ پر

چہچہاتی چند چڑیوں کا بسر تھا پیڑ پر میرے گھر اک پیڑ تھا اور ایک گھر تھا پیڑ پر موسم گل تو نے سوچا ہے کہ اس کا کیا بنا تیرے لمس مہرباں کا جو اثر تھا پیڑ پر اب ہوا کے ہاتھ میں تو اک تماشا بن گیا زرد سا پتا سہی میں معتبر تھا پیڑ پر اس لیے میرا پرندوں سے لگاؤ ہے بہت میں بھی تو کوئی ...

مزید پڑھیے

یہ سرابوں کی شرارت بھی نہ ہو تو کیا ہو

یہ سرابوں کی شرارت بھی نہ ہو تو کیا ہو آنکھ میں حیرت و وحشت بھی نہ ہو تو کیا ہو ہم کہ اس ہجر کے صحرا میں پڑے ہیں کب سے خیمۂ خواب رفاقت بھی نہ ہو تو کیا ہو شکر کر حجرۂ تنہائی میں بیٹھے ہوئے شخص خود سے ملنے کی یہ مہلت بھی نہ ہو تو کیا ہو میں وہ محروم زمانہ کہ کبھی سوچتا ہوں سانس ...

مزید پڑھیے

تجھے کھو کر محبت کو زیادہ کر لیا میں نے

تجھے کھو کر محبت کو زیادہ کر لیا میں نے یہ کس حیرت میں آئینہ کشادہ کر لیا میں نے مجھے پیچیدہ جذبوں کی کہانی نظم کرنا تھی سو جتنا ہو سکا اسلوب سادہ کر لیا میں نے محبت کا سنا تھا ذات کی تکمیل کرتی ہے مگر اس آرزو میں خود کو آدھا کر لیا میں نے شکست خواب پر ہی خواب کی بنیاد رکھنا ...

مزید پڑھیے

زمزمہ اضطراب کچھ بھی نہ تھا

زمزمہ اضطراب کچھ بھی نہ تھا عشق خانہ خراب کچھ بھی نہ تھا میرا سب کچھ تھا صرف ایک سوال اور اس کا جواب کچھ بھی نہ تھا سانس تک تو گنے چنے ہوئے تھے کچھ نہ تھا بے حساب کچھ بھی نہ تھا سجدۂ شکر نے بچایا ہے ورنہ میرا ثواب کچھ بھی نہ تھا اب تجھے دیکھ کر یہ جانا ہے وہ جو دیکھا تھا خواب کچھ ...

مزید پڑھیے

دیکھ پائی نہ مرے سائے میں چلتا سایہ

دیکھ پائی نہ مرے سائے میں چلتا سایہ آ گئی رات اٹھانے مرا ڈھلتا سایہ تم نے اچھا ہی کیا چھوڑ گئے ویسے بھی ایک سائے سے بھلا کیسے سنبھلتا سایہ میں وہی ہوں مرا سایہ بھی وہی ہے اب تک میں بدلتا تو کوئی رنگ بدلتا سایہ میں نے اس واسطے منہ کر لیا سورج کی طرف مجھ سے دیکھا نہ گیا آگے نکلتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1306 سے 6203