سرخ مکاں ڈھلتا جاتا ہے اک برفیلی مٹی میں
سرخ مکاں ڈھلتا جاتا ہے اک برفیلی مٹی میں اور مکیں بھی دیکھ رہے ہیں یہ تبدیلی مٹی میں ان گلیوں کے رمز و کنایہ یوں وحشت آثار ہوئے میں تو دل ہی چھوڑ کے بھاگا اس لچکیلی مٹی میں خمیازہ ہے بام و در پر جانے کن برساتوں کا نم دیدہ پل گھوم رہے ہیں ہر سو سیلی مٹی میں اک صحرا میں رونے والے ...