قومی زبان

برداشت کی حدوں سے مرا دل گزر گیا

برداشت کی حدوں سے مرا دل گزر گیا آندھی اٹھی تو ریت کا ٹیلہ بکھر گیا تحریک جب جمود کے سانچے میں ڈھل گئی ایسا لگا کہ خون رگوں میں ٹھہر گیا وہ شخص جس نے عمر گزاری تھی دھوپ میں ٹھنڈک کی جائیداد مرے نام کر گیا میں اس کو ہم خیال سمجھتا رہا مگر سینے میں اختلاف کا چاقو اتر گیا پر ہول ...

مزید پڑھیے

دوستو کے کام آنا جرم ہے

دوستو کے کام آنا جرم ہے خود کو دریا دل بنانا جرم ہے اشک ریزی کی اجازت ہے مگر احتجاجاً مسکرانا جرم ہے منحرف تاریکیوں کے ساز پر کوئی روشن گیت گانا جرم ہے جب نمائش کی چمک ہو ناگزیر اپنی رونق بھول جانا جرم ہے سر جھکانا اچھی عادت ہے مگر تنگ آ کر سر اٹھانا جرم ہے پتھروں کے باغ میں ...

مزید پڑھیے

سوچ کی لہروں کا مجمع ٹھیک ہے

سوچ کی لہروں کا مجمع ٹھیک ہے زندگی کا مسئلہ باریک ہے اشک ریزی کی مجھے عادت نہیں غم برائے غم مری تضحیک ہے ہم کو پھولوں کی سند مل جائے گی خوشبوؤں کا مدرسہ نزدیک ہے میرے زخموں کی انا ہے مختلف تیری ہمدردی کا مرہم بھیک ہے اپنی کوشش تو چمکتی ہے مگر کامیابی کی گلی تاریک ہے مسکراہٹ ...

مزید پڑھیے

زندگی خواہشوں کا مقتل ہے

زندگی خواہشوں کا مقتل ہے دل کی دنیا میں ایک ہلچل ہے ہوش کی حد میں رہ نہیں سکتا برتری کا مریض پاگل ہے خیر خواہی کی گھاس کے نیچے مصلحت کی غلیظ دلدل ہے اور اک چوٹ دیجیے مجھ کو! میری تکلیف نامکمل ہے اے اثرؔ! خیریت کا دروازہ سالہا سال سے مقفل ہے

مزید پڑھیے

ورق ورق سا بکھرتا کتاب غم جیسا

ورق ورق سا بکھرتا کتاب غم جیسا ملے گا شہر میں شاید ہی کوئی ہم جیسا ہر ایک شب گزشتہ کو دعوتیں دے کر منائے جشن حسیں کوئی جشن غم جیسا کبھی وہ انجمن دل کبھی وہ صرف سکوت کبھی وہ حد سے تجاوز کبھی وہ کم جیسا گلے لگا کے جسے خوب روئے خوب ہنسے کبھی ملا ہی نہیں کوئی ہم سے ہم جیسا میں ایک ...

مزید پڑھیے

چپکے سے ہوا آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

چپکے سے ہوا آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو دھیرے سے تھپک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو وہ گیت جو ایک بار کبھی تم سے سنا تھا وہ گیت کوئی گائے تو لگتا ہے کہ تم ہو اس دھوپ بھرے شہر میں جب میرے برابر سایا کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ویسے تو کوئی پیار سے ملتا نہیں لیکن ایسا کبھی ہو جائے تو لگتا ہے ...

مزید پڑھیے

ترک تعلق

گر تعلق ہی ترک کرنا تھا مجھ سے پھر پیار کیوں کیا تو نے مسکراتی لجاتی آنکھوں سے ایک اقرار کیوں کیا تو نے میں نے کب تیرا پیار مانگا تھا میں نے کب تیری آرزو کی تھی میں تو خاموش تھا فلک کی طرح میں نے کب تیری جستجو کی تھی تو نے خود مسکراتی آنکھوں سے مجھ کو آواز دے کے چونکایا میرے نازک ...

مزید پڑھیے

بچے کی فریاد

اے خدا کاش میں خدا ہوتا اور تو پھر مری جگہ ہوتا تجھ کو کرتا میں ایسے گھر پیدا جس کا گھر ہو نہ جس کے بھائی بہن پیدا کرتے ہی تجھ کو میں تیرے رات کی طرح کالے چہرے پر گہرے چیچک کے داغ پھیلاتا اور آنکھیں بھی چھین لیتا میں لوگ کہتے کہ کوڈیا ہے تو تیرے ہونے سے چھ برس پہلے باپ بھی تیرا ...

مزید پڑھیے

بتوں کو کبریائی کیوں نہ آئی

بتوں کو کبریائی کیوں نہ آئی خدا ہو کر خدائی کیوں نہ آئی مزاج یار رنگیں تھا مرے کام مری رنگیں نوائی کیوں نہ آئی وفا بھی دل ربائی کا ہے انداز تمہیں یہ دل ربائی کیوں نہ آئی جو تم نے سیکھ لی غیر آشنائی مجھے دشمن کی آئی کیوں نہ آئی وفاداری ذرا تم کیوں نہ سیکھے ہمیں کچھ بے وفائی ...

مزید پڑھیے

جب کبھی خواب وفا سے ہوش میں آتا ہے دل

جب کبھی خواب وفا سے ہوش میں آتا ہے دل خود بہ خود اک یاس کے طوفاں میں کھو جاتا ہے دل سر بہ سر افسانہ تھا اپنا جنوں پرور شباب اب وہی بھولا ہوا افسانہ دہراتا ہے دل ایک وہ دن تھے کہ کھو جاتا تھا ذوق عشق میں اب محبت کے تصور سے بھی گھبراتا ہے دل جب گھٹا ساون کی چھا جاتی ہے صحن باغ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1303 سے 6203