میں تو کہتا ہوں تمہی درد کے درماں ہو ضرور
میں تو کہتا ہوں تمہی درد کے درماں ہو ضرور اور وہ کہتے ہیں کہ تم آج پریشاں ہو ضرور چمن شہر تو ویراں تھا مگر اس گھر میں اتنی نکہت ہے کہ تم ایک گلستاں ہو ضرور مجھ کو دکھلاؤ نہ اپنی یہ ادائے جلوہ چلو تسلیم کہ تم مجھ میں بھی پنہاں ہو ضرور میں کہ آوارہ طرب کوش شرابی لیکن تم کہ مخلص ہو ...