قومی زبان

بہار

یوں مرے دل سے کھیلتی ہے بہار جیسے تاروں کی دل نشیں چشمک جس طرح چاند کی حسیں کرنیں نیم شب گوشۂ گلستاں میں پتی پتی پہ ناز سے کھیلیں یوں مرے دل سے کھیلتی ہے بہار جس طرح قرب حسن کا احساس جیسے محبوب کی نگاہ جمیل دل میں آنکھوں کی راہ سے اترے اور ہو جائے روح میں تحلیل یوں مرے دل سے ...

مزید پڑھیے

شکستہ دل تھے ترا اعتبار کیا کرتے

شکستہ دل تھے ترا اعتبار کیا کرتے جو اعتبار بھی کرتے تو پیار کیا کرتے ذرا سی دیر کو بیٹھے تھے پھر اٹھا نہ گیا شجر ہی ایسا تھا وہ سایہ دار کیا کرتے شب انتظار میں دن یاد یار میں کاٹے اب اور عزت لیل و نہار کیا کرتے کبھی قدم سفر شوق میں رکے ہی نہیں تو سنگ میل بھلا ہم شمار کیا ...

مزید پڑھیے

ہر آئنے میں ترے خد و خال آتے ہیں

ہر آئنے میں ترے خد و خال آتے ہیں عجیب رنج ترے آشنا اٹھاتے ہیں تمام عمر کسے کون یاد رکھتا ہے یہ جانتے ہیں مگر حوصلہ بڑھاتے ہیں وصال و ہجر کی سب تہمتیں اسی تک تھیں اب ایسے خواب بھی کب دیکھنے میں آتے ہیں یہ لہر لہر کسے ڈھونڈتی ہے موج ہوا یہ ریگزار کسے آئنہ دکھاتے ہیں شکست جاں کو ...

مزید پڑھیے

چلو دنیا سے ملنا چھوڑ دیں گے

چلو دنیا سے ملنا چھوڑ دیں گے مگر ہم آئنے سے کیا کہیں گے چلیں گے روشنی ہوگی جہاں تک پھر اس کے بعد تجھ سے آ ملیں گے یہاں کچھ بستیاں تھیں اب سے پہلے ملا کوئی تو یہ بھی پوچھ لیں گے یہ سایہ کب تلک سایہ رہے گا کہاں تک پیڑ سورج سے لڑیں گے چراغ اس تیرگی میں کب جلے گا یہ شہر آباد ہیں پر کب ...

مزید پڑھیے

آنے والے لمحوں کی روشنی کو لکھنا ہے

آنے والے لمحوں کی روشنی کو لکھنا ہے ایک نئی عبارت میں زندگی کو لکھنا ہے بولنے لگیں اپنے گھر کے سب در و دیوار جو سنائی دے ایسی خامشی کو لکھنا ہے ایک حسین بچے کی کیا حسین خواہش ہے چاند کی طرف سے خط چاندنی کو لکھنا ہے ایک دو کی کوشش سے وقت کیسے بدلے گا اپنے وقت کی قسمت ہم سبھی کو ...

مزید پڑھیے

وہ لکھتا ہے جب یادوں کے چاند ستارے کاغذ پر

وہ لکھتا ہے جب یادوں کے چاند ستارے کاغذ پر خود ہی اتر کر آ جاتے ہیں سارے نظارے کاغذ پر اوپر نیچے آگے پیچھے کونے کنارے کاغذ پر اس کو لکھا ہے سر سے پا تک میں نے سارے کاغذ پر شاید اس پر سر رکھ کر وہ لکھتے لکھتے سویا ہے اس کے لب و رخسار کی خوشبو جذب ہے سارے کاغذ پر اس کے خط کے کورے ورق ...

مزید پڑھیے

یہ روز و شب گزرتے لگ رہے ہیں

یہ روز و شب گزرتے لگ رہے ہیں مگر لمحے ٹھہرتے لگ رہے ہیں نہ جانے کب سے لاشیں سڑ رہی ہیں پرندے گشت کرتے لگ رہے ہیں میں خود سے دور ہوتا جا رہا ہوں پرانے زخم بھرتے لگ رہے ہیں یہ بازاروں میں مہنگائی کا عالم سبھی چہرے اترتے لگ رہے ہیں کبھی پہلے نہ تھے ایسے مگر اب سبھی موسم مکرتے لگ ...

مزید پڑھیے

ذلیل و خوار ہوتی جا رہی ہے

ذلیل و خوار ہوتی جا رہی ہے غزل اخبار ہوتی جا رہی ہے سمٹتا جا رہا ہے گھر کا آنگن انا دیوار ہوتی جا رہی ہے کوئی بادل کوئی صورت کوئی دل نظر بیمار ہوتی جا رہی ہے تبسم زیر لب ہے اک کہانی حیا کردار ہوتی جا رہی ہے ہمارے سات یہ بوڑھی صدی بھی گریباں تار ہوتی جا رہی ہے

مزید پڑھیے

تو دریا ہے اور ٹھہرنے والا میں

تو دریا ہے اور ٹھہرنے والا میں گم ہے مجھ میں خود سے گزرنے والا میں سورج جیسا منظر منظر بکھرا تو آئینوں کی دھوپ سے ڈرنے والا میں تیری گلی سے سر کو جھکائے گزرا ہوں کبھی زمیں پر پاؤں نہ دھرنے والا میں سایہ سایہ دھوپ اگانے والا تو خوابوں جیسا آنکھ اترنے والا میں جس بستی میں شام ...

مزید پڑھیے

دشت کی دھوپ بھر گیا مجھ میں

دشت کی دھوپ بھر گیا مجھ میں میرا سایہ بکھر گیا مجھ میں نام ہو چاہے عکس ہو تیرا اک جزیرہ ابھر گیا مجھ میں پڑھ سکا جو ورق ورق نہ مجھے وہ مکمل اتر گیا مجھ میں اس کو گزرے گزر گئیں صدیاں ایک لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں کس کو ڈھونڈوں کہاں کہاں ڈھونڈوں خوشبوئیں کون بھر گیا مجھ میں قید ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1304 سے 6203