قومی زبان

خیال یار کا روشن جو ہے دیا نہ بجھا

خیال یار کا روشن جو ہے دیا نہ بجھا رہ حیات میں اس سے ہی ہے ضیا نہ بجھا جو پیاس ہی ہے مقدر مرا تو پھر ساقی پیالہ رہنے دے یہ تشنگی بڑھا نہ بجھا شب وصال ہے دم لے ذرا نمود سحر ٹھہر ابھی سے ستاروں کا سلسلہ نہ بجھا کبھی لگائی تھی تو نے جو دیدہ و دل میں ہے اختیار تجھے آگ یہ بجھا نہ ...

مزید پڑھیے

آرزوؤں کا حسیں پیکر تراش

آرزوؤں کا حسیں پیکر تراش اک سراب صبح کا منظر تراش اک گھروندا ریگ ساحل سے بنا برف کے پتھر سے اک دلبر تراش دیدۂ نمناک سے دریا بہا آہ شعلہ بار سے محشر تراش اس حصار ذات سے باہر نکل گنبد بے در میں تو اک در تراش بحر‌ عشرت میں صدف ملتا نہیں قطرۂ خوں ناب سے گوہر تراش تیغ زنگ آلود کو ...

مزید پڑھیے

ایسی ہوتی ہیں بعض تقدیریں

ایسی ہوتی ہیں بعض تقدیریں بہتے پانی پہ جیسے تحریریں ریت کے اک گھروندے جیسی ہیں آدمی کی جہاں میں تدبیریں ہم نے تو صرف خواب دیکھے تھے بس میں اپنے کہاں تھیں تعبیریں قصر زر میں سجی ہوئیں دیکھیں مفلسوں بے گھروں کی تصویریں میری قسمت میں ظلمتیں ساری اس کی مٹھی میں ساری تنویریں جی ...

مزید پڑھیے

رخ پہ حیا کا رنگ شہابی نقاب سا

رخ پہ حیا کا رنگ شہابی نقاب سا اظہار کے لبوں پہ لرزتا حجاب سا چہرہ کہ جیسے ایک صحیفہ ہو نور کا لہجہ نئی غزل کی نویلی کتاب سا صدیوں کی فرقتوں میں مجھے قید کر گیا وہ لمحۂ وصال کہ تھا جو سراب سا میں تھا حصار ذات کی خاموشیوں میں گم چھیڑا ہے آج کس نے یہ دل کا رباب سا صدیوں کی اک طویل ...

مزید پڑھیے

دیوانے ذرا رقص جنوں تیز کئے جا

دیوانے ذرا رقص جنوں تیز کئے جا منطق سے خرد کی ابھی پرہیز کئے جا میں تیرے معائب کو محاسن ہی کہوں گا تو ظرف انا کو میرے لبریز کئے جا خاموش نہ رہ غنچۂ سربستہ کی صورت لب کھول تو ماحول کو گل ریز کئے جا سیراب تو کر لوح و قلم خون جگر سے تو کشت سخن زار کو زرخیز کئے جا خود کھنچ کے چلی آئے ...

مزید پڑھیے

شام

دن کو اس کا لہو تھا ارزاں پھر آئی یہ شام غریباں طوق گلے میں، پاؤں بہ جولاں صبر ہے گریاں، ظلم ہے خنداں شام ہوئی کرب و بلا، سناٹا ہر سو ہر سو اس کے لہو کی خوشبو میرے لفظ اور اس کے جادو شام ہوئی

مزید پڑھیے

رات

آندھیاں آسمانوں کا نوحہ زمیں کو سناتی ہیں اپنی گلو گیر آواز میں کہہ رہی ہیں، درختوں کی چنگھاڑ نیچی چھتوں پر یہ رقص آسمانی بگولوں کا اونچی چھتوں کے تلے کھیلے جاتے ڈرامہ کا منظر ہے یہ اس ظلم کا استعارہ ہے جو شہ رگ سے ہابیل کی گرم و تازہ لہو بن کے ابلا ہے آندھیوں میں تھا اک شور کرب و ...

مزید پڑھیے

زہر کا سفر

میں انسان ہوں میں نے اک ناگن کو ڈسا اس کو اپنا زہر دیا ایسا زہر کہ جس کا منتر کوئی نہیں اس کی رگ رگ میں چنگاری اس کے لہو میں آگ میرے زہر میں نشہ بھی ہے ایسا نشہ جس کا کوئی خمار نہیں وہ ناگن اب مست نشے میں جھومے گی بہک بہک کر ہر سو مجھ کو ڈھونڈے گی اس کی زباں باہر کو نکلی اس کے منہ میں ...

مزید پڑھیے

دیوار قہقہہ

ادھر نہ آؤ کہ یہ محل اب شکست شوکت کی داستاں ہے کہ یہ محل اب شکست اقدار کا نشاں ہے کہ یہ محل اب شکست افکار کی فغاں ہے ادھر نہ دیکھو کہ یہ کھنڈر ہے جنوں کا بھوتوں کا آستاں ہے کہ یہ امنگوں کی بے بسی کی بڑی طویل ایک داستاں ہے کہ یہ ہے مسکن سیاہ راتوں کا ، ہرطرف بس دھواں دھواں ہے ادھر نہ ...

مزید پڑھیے

وہ پیاس کی اب بھیج گھٹا چاروں طرف سے

وہ پیاس کی اب بھیج گھٹا چاروں طرف سے اے میرے خدا میرے خدا چاروں طرف سے میں نے تو پکارا تھا کسی ایک ہی جانب کیوں لوٹ کے آئی ہے صدا چاروں طرف سے گرنا ہے مگر یوں تو نہیں تم سے گروں گا یلغار کرو مجھ پہ ذرا چاروں طرف سے ہو جاتی ہے جب ریت پہ تصویر مکمل آ جاتی ہے پھر تیز ہوا چاروں طرف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1289 سے 6203