قومی زبان

اپنے ہی کسی خواب سے باہر نہیں نکلے

اپنے ہی کسی خواب سے باہر نہیں نکلے وہ عکس جو تالاب سے باہر نہیں نکلے ہم وصل کی جھلمل سے نکل آئے تھے لیکن ہجراں کی تب و تاب سے باہر نہیں نکلے اس شہر کے ساحل پہ تماشا تو دکھاتا بیڑے میرے گرداب سے باہر نہیں نکلے مرتے رہے جگنو مری تاریک گلی کے تم حلقۂ مہتاب سے باہر نہیں نکلے کچھ ...

مزید پڑھیے

باقرؔ نشانۂ غم و رنج و الم تو ہو

باقرؔ نشانۂ غم و رنج و الم تو ہو چھوڑو کچھ اور بات کرو درد کم تو ہو اے کشتۂ خلوص محبت بکار باش لب پر شگفتگی نہ سہی آنکھ نم تو ہو ہر دم رہے حدیث معنی سے ہم کو کام ذکر خدا اگر نہیں ذکر صنم تو ہو کچھ تو پئے شکست سکوت شب الم گریہ سہی فغاں سہی کچھ دم بہ دم تو ہو چشم غزال و حسن غزل کا ...

مزید پڑھیے

فریب تھا عقل و آگہی کا کہ میری فکر و نظر کا دھوکا

فریب تھا عقل و آگہی کا کہ میری فکر و نظر کا دھوکا جو آخر شب کی چاندنی پر ہوا تھا مجھ کو سحر کا دھوکا میں باغبانوں کی سازشوں کو سیاستوں کو سمجھ چکا ہوں خزاں کا کھا کر فریب پیہم اٹھا کے برق و شرر کا دھوکا شعور پختہ کی خیر ہو جس نے زندگی کو بچا لیا ہے تری نگاہ کرم نما نے دیا تو تھا ...

مزید پڑھیے

ہزار شکر کبھی تیرا آسرا نہ گیا

ہزار شکر کبھی تیرا آسرا نہ گیا مگر یہ ہے دل آدم کہ وسوسہ نہ گیا وہ جب کہ زیست بھی اک فن تھی وہ زمانہ گیا اب ایک چیخ کہ انداز‌ شاعرانہ گیا بہت ہی شور تھا اہل جنوں کا پر اب کے خرد سے آ کے کوئی زور آزما نہ گیا چلی ہے اب کے برس وہ ہوائے شدت برف دیار دل کی طرف کوئی قافلہ نہ گیا بہت ہی ...

مزید پڑھیے

زخم کھلے پڑتے ہیں دل کے موسم ہے یہ بہاروں کا

زخم کھلے پڑتے ہیں دل کے موسم ہے یہ بہاروں کا لالہ و گل کی بات نکالو ذکر کرو انگاروں کا ہم دکھیارے ان کے سہارے چار قدم ہی چل لیں گے چاند کا آخر ہم کیا لیں گے کیا بگڑے گا تاروں کا ایک تبسم اک نگہ خاموش تکلم وہ بھی نہیں کیا ہوگا جینے کا سہارا ہم سے دل افگاروں کا ہم تو ٹھہرے غم کے ...

مزید پڑھیے

پھیری والا

پریت نگر سے پھیری والا میری گلی میں آیا چوڑی، لونگ، انگوٹھی، چھلے رنگ برنگے لایا میں نے پوچھا اور بھی کچھ ہے، بولا میٹھا سپنا جس کو لے کر جیون بھر اک نام کی مالا جپنا میں نے کہا کیا مول ہے اس کا، بولا اک مسکان تن میں آگ لگاؤ اس سے رکھو من کی آن سستا سودا دیکھ کے آخر میں پگلی ...

مزید پڑھیے

صبح

آخر شب تھی وہ صحن مسجد میں بے سدھ پڑا سو رہا تھا میں نے اس کو جگایا اٹھ۔۔۔ یہ شہادت کا تکبیر کا وقت ہے دعاؤں کی تسخیر کا وقت ہے وہ اٹھا۔۔۔ میرا قاتل جسے میں نے خود ہی اٹھایا اٹھا۔۔۔ اور محراب مسجد میں میرے لہو سے چراغاں ہوا

مزید پڑھیے

وہ تیری عنایت کی سزا یاد ہے اب تک

وہ تیری عنایت کی سزا یاد ہے اب تک آیا تھا خدا یاد خدا یاد ہے اب تک چھلکی ہوئی آنکھوں میں مے سرخ کے ڈورے زلفوں کی وہ لہرائی گھٹا یاد ہے اب تک وہ جسم کی خوشبو کی پر اسرار سی لپٹیں وہ معجزۂ موج صبا یاد ہے اب تک وہ چاندی کے پانی سے دھلے عارض‌ و رخ پر کیفیت صد رنگ حنا یاد ہے اب تک تھی ...

مزید پڑھیے

تیرے شیدا بھی ہوئے عشق تماشا بھی ہوئے

تیرے شیدا بھی ہوئے عشق تماشا بھی ہوئے تیرے دیوانے ترے شہر میں رسوا بھی ہوئے زلف تو زلف ہے دنیا سے بھی الجھے ہیں کہ ہم اک بگولا بھی بنے حامل صحرا بھی ہوئے تم تو سن پائے نہ آواز شکست دل بھی کچھ ہمیں تھے کہ حریف غم دنیا بھی ہوئے ہم فقیران محبت کے عجب تیور ہیں رزم کعبہ بھی بنے بزم ...

مزید پڑھیے

زہر ان کے ہیں مرے دیکھے ہوئے بھالے ہوئے

زہر ان کے ہیں مرے دیکھے ہوئے بھالے ہوئے یہ تو سب اپنے ہیں زیر آستیں پالے ہوئے ان کے بھی موسم ہیں ان کے بھی نکل آئیں گے ڈنک بے ضرر سے اب جو بیٹھے ہیں سپر ڈالے ہوئے چاک سی کر جو ہرے موسم میں اٹھلاتے پھرے خشک سالی میں وہ تیرے چاہنے والے ہوئے بڑھ کے جو منظر دکھاتے تھے کبھی سیلاب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1290 سے 6203