قومی زبان

سکوت بڑھنے لگا ہے صدا ضروری ہے

سکوت بڑھنے لگا ہے صدا ضروری ہے کہ جیسے حبس میں تازہ ہوا ضروری ہے پھر اس کے بعد ہر اک فیصلہ سر آنکھوں پر مگر گواہ کا سچ بولنا ضروری ہے بہت قریب سے کچھ بھی نہ دیکھ پاؤ گے کہ دیکھنے کے لیے فاصلہ ضروری ہے تم اپنے بارے میں مجھ سے بھی پوچھ سکتے ہو یہ تم سے کس نے کہا آئنہ ضروری ہے گریز ...

مزید پڑھیے

سکوت بڑھنے لگا ہے صدا ضروری ہے

سکوت بڑھنے لگا ہے صدا ضروری ہے کہ جیسے حبس میں تازہ ہوا ضروری ہے پھر اس کے بعد ہر اک فیصلہ سر آنکھوں پر مگر گواہ کا سچ بولنا ضروری ہے بہت قریب سے کچھ بھی نہ دیکھ پاؤ گے کہ دیکھنے کے لیے فاصلہ ضروری ہے تم اپنے بارے میں مجھ سے بھی پوچھ سکتے ہو یہ تم سے کس نے کہا آئنہ ضروری ہے گریز ...

مزید پڑھیے

جانے اس شخص کو یہ کیسا ہنر آتا ہے

جانے اس شخص کو یہ کیسا ہنر آتا ہے رات ہوتی ہے تو آنکھوں میں اتر آتا ہے اس کی چاہت کا تو انداز جدا ہے سب سے وہ تو خوشبو کی طرح روح میں در آتا ہے بات کرتا ہے تو الفاظ مہک اٹھتے ہیں جس طرح شاخ محبت پہ ثمر آتا ہے پھول اس کے لب و رخسار پہ مر مٹتے ہیں پیار شبنم کو بہ انداز دگر آتا ...

مزید پڑھیے

اگر ہم چھوڑ دیں عرض ہنر خاموش ہو جائیں

اگر ہم چھوڑ دیں عرض ہنر خاموش ہو جائیں ہمارے ساتھ یہ دیوار و در خاموش ہو جائیں اسی باعث تو ہونٹوں پر سوال اب تک نہیں آیا کہیں ایسا نہ ہو یہ چارہ گر خاموش ہو جائیں طلسم بے یقینی ہر قدم پر گھیر لیتا ہے نہ جانے دھڑکنیں کس موڑ پر خاموش ہو جائیں اگر بے چہرہ آئینے کو چہرہ دے نہیں ...

مزید پڑھیے

شکست دے کے مجھے دار پر سجاتا ہے

شکست دے کے مجھے دار پر سجاتا ہے وہ اپنی جیت مری ہار پر سجاتا ہے مزاج یار تری برہمی کے دل صدقے عجیب رنگ رخ یار پر سجاتا ہے اک ایسے لمحۂ تنہائی سے میں واقف ہوں وہ جب مجھے لب و رخسار پر سجاتا ہے ترے دوانے کو تصویر مل گئی ہے تری بدل بدل کے جو دیوار پر سجاتا ہے اسے پسند نہیں موتیے کے ...

مزید پڑھیے

یہ روز روز کا ملنا ملانا مشکل ہے

یہ روز روز کا ملنا ملانا مشکل ہے وہ کہہ رہا ہے کہ وعدہ نبھانا مشکل ہے لگاؤ اس سے مرے جسم و جاں کو ایسا رہا کہ یاد رکھنا ہے آساں بھلانا مشکل ہے بچھڑتے وقت مرے ہونٹ سی دیے اس نے سو آسمان کو سر پے اٹھانا مشکل ہے اب آ گئے ہو ستارے سجا کے پلکوں پر تمہیں بتا تو دیا تھا زمانہ مشکل ...

مزید پڑھیے

کواڑ

سونا سو کر نیند میں کھونا بند کرو یہ بند کرو اپنے بچپن کو بات بات پر غیروں کی شنوائی میں پھر بونا بند کرو تم لوٹ کبھی نہ پاؤ گے اس آسمان کی چھاؤں میں تم واپس کبھی نہ جاؤ گے اپنی شنوائی بینائی کو لمس میں آتی تنہائی کو پھر سے کبھی نہ پاؤ گے بند کرو تم گزرے اس آنگن کی ٹھنڈک ان تلووں ...

مزید پڑھیے

دو سانسوں کی گہرائی میں

دو سانسوں کی گہرائی میں جہاں لہو بے حد بھیتر کے، بالکل ساکت میدانوں میں چاند کی ہر رنگت بہتا ہے وہاں پلی اک ننگی ناری بے حد بھیتر کی رکھوالی چاندی جیسے لہو کو اپنے بدن میں بھی تنہا پاتی ہے، شنوائی سے دور ہمیشہ شنوائی کا لب ہوتا ہے ننگی ناری دو سانسوں کے بے حد بھیتر سانس کے بن ...

مزید پڑھیے

راستہ دیکھ رہا ہوں اسی امکان کے ساتھ

راستہ دیکھ رہا ہوں اسی امکان کے ساتھ جیسے وہ بھول گیا ہو مجھے سامان کے ساتھ جس میں تم سیڑھیاں گن گن کے چلے آتے تھے وہی کمرا ہے مرا آج بھی دالان کے ساتھ دیدنی ہوتا ہے منظر وہ جنوں خیزی کا جب میں دامن کو ملاتا ہوں گریبان کے ساتھ سبزہ و گل نئی تہذیب سے اگ جاتے ہیں اک نمو پروری ...

مزید پڑھیے

دور رہ بھی نہ سکوں پاس بلا بھی نہ سکوں

دور رہ بھی نہ سکوں پاس بلا بھی نہ سکوں تو وہ اپنا ہے جسے اپنا بنا بھی نہ سکوں اے مسیحا کوئی تدبیر مسیحائی کی کر زخم ایسا ہے کہ ہر اک کو دکھا بھی نہ سکوں حسن کی اور تب و تاب بڑھا دیتا ہے میں تو اس تل کا کبھی مول چکا بھی نہ سکوں عمر کے آخری نکڑ پہ ملاقات کا دکھ یوں ملا ہے کہ ترے ناز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1285 سے 6203