قومی زبان

دشوار یوں بھی نقل مکانی پڑی مجھے

دشوار یوں بھی نقل مکانی پڑی مجھے رستے ہی سے بساط اٹھانی پڑی مجھے کچھ دن تو اس کے دل پہ رہا حکمراں مگر یہ سلطنت بھی چھوڑ کے جانی پڑی مجھے اس نے کہا کہ کیسے بکھرتا ہے آدمی مٹھی میں بھر کے خاک اڑانی پڑی مجھے اک شخص مسکرا کے مجھے دیکھنے لگا بس آئنے سے گرد ہٹانی پڑی مجھے تم کو تو ...

مزید پڑھیے

نظر کو تیر کر کے روشنی کو دیکھنے کا

نظر کو تیر کر کے روشنی کو دیکھنے کا سلیقہ ہے ہمیں بھی زندگی کو دیکھنے کا کسی جلتے ہوئے لمحے پہ اپنے ہونٹ رکھ دو اگر ہے شوق جامد خامشی کو دیکھنے کا سماعت میں کھنکتی روشنی سے ہو گیا ہے دوبالا لطف مٹی کی نمی کو دیکھنے کا نہ جانے لوٹ کر کب آئے گا موسم خجستہ تری آنکھوں کی شائستہ ...

مزید پڑھیے

زمیں کی آنکھ خالی ہے دنوں بعد

زمیں کی آنکھ خالی ہے دنوں بعد فلک پر خشک سالی ہے دنوں بعد سجانے خاک کا بستر لہو نے الگ کیا رہ نکالی ہے دنوں بعد کہیں چشم جبیں پھر کھل نہ جائے کہ دشت دل جلالی ہے دنوں بعد سمجھ میں وقت کا آیا کرشمہ نظر خود پر جو ڈالی ہے دنوں بعد کہا اس نے بالآخر مسکرا کر تری دنیا نرالی ہے دنوں ...

مزید پڑھیے

ہوا چلی ننگی اجیالی

ہوا چلی ننگی اجیالی طائر اگتے ڈالی ڈالی ایک ورق جیسی تنہائی نیلی سبزک کالی کالی میں والی ساکت ہر بن کا مجھ میں ساکت قدموں والی جلے جلائی سمتوں کے تن تاروں کی بجھتی رکھوالی آنکھوں میں نا بینا تکتی راتوں نے بینائی پالی اسپ سیہ اور چٹیل میداں جلتا ایک شجر اب خالی

مزید پڑھیے

ہوا کی چتون جیسے نین

ہوا کی چتون جیسے نین ہونٹوں پہ شبنم سے بین لانبا جسم سمندر جیسا سورج جس کے بھیتر چین لوہو کی خوشبو میں جاگے ایک پرندے والی رین جل اک بہتا جل کے اندر ہونٹوں کے طائر بے چین ہوا پرندے کے قد جتنی شجر سیاہ ہریالے عین نین کٹوروں جیسی شبنم دریا اجیالے بسے نین سمتوں کے مہتاب بدن ...

مزید پڑھیے

شجر کے بھیتر چھاتی چڑیا

شجر کے بھیتر چھاتی چڑیا سمتوں کو دھراتی چڑیا ننھی نازک کالی رنگت شجر سفیدہ پاتی چڑیا گل ہوتی خوشبو کے تن میں بینائی کو لاتی چڑیا رات کے لازم اندھیارے میں سورج کو بہلاتی چڑیا کالی رنگت نیلی باتیں آنکھوں کو اجلاتی چڑیا ہونٹوں کی خوشبو کی جانب آتی اور شرماتی چڑیا بہتے پانی ...

مزید پڑھیے

آوازوں سے جسم ہوا نم

آوازوں سے جسم ہوا نم جیسے اک نا بینا سا غم ہونٹوں میں دریا کا قطرہ چادر میں خوش بو جیسا خم آئینوں کا رنگ ہمیشہ ایسا جیسے ہونٹوں میں دم کم ہوتی آنکھوں کے بھیتر بینائی کے شیتل سرگم سر اونچا اونچی تنہائی قدموں میں بیگانہ آدم دریا میں عریاں ہر لمحہ باہوں کے اندر بہتا یم نم ...

مزید پڑھیے

میری آنکھوں میں نور بھر دینا

میری آنکھوں میں نور بھر دینا چاہے پھر چور چور کر دینا آشیانہ بنا رہا ہوں میں رزق دینا تو شاخ پر دینا فطرت دہر کا بھرم رہ جائے دل کی ندیا کو اک بھنور دینا تنہا تنہا بتا کٹے کیوں کر گر سفر دے تو ہم سفر دینا کتنی مایوسیاں ہیں لہرائی زندگی کو نئی سحر دینا آگ بھڑکے گی زہر اترے ...

مزید پڑھیے

میں چاہتا ہوں کہ ہر شے یہاں سنور جائے

میں چاہتا ہوں کہ ہر شے یہاں سنور جائے تمہاری روح مری روح میں اتر جائے وہ اک خیال جو تھوڑا ملال جیسا ہے ترے قریب سے گزرے اگر نکھر جائے دہک رہا ہے جو مجھ میں الاؤ برسوں سے ذرا سا آنکھ میں بھر لے کوئی تو مر جائے زمانے بھر سے وہ بیگانہ ہو ہی جائے گا کوئی حیات کی مانند جب مکر جائے وہ ...

مزید پڑھیے

رنگ برنگے سپنوں جیسی آنکھیں تیری

رنگ برنگے سپنوں جیسی آنکھیں تیری شام کی پہلی کرنوں جیسی آنکھیں تیری صبح کی بھیگی خوشبو رنگت چہرہ تیرا دیوالی کی راتوں جیسی آنکھیں تیری مہکاتی ہیں جگنو بن کر منظر سارا میرے دل کے سجدوں جیسی آنکھیں تیری حسن تبسم تیری نظروں کی ہر دھڑکن برانداون کی شاموں جیسی آنکھیں تیری نغمہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1286 سے 6203