قومی زبان

مبارک ہو

اچانک خود میں یہ کیسی تبدیلیاں محسوس کر رہا ہوں میں میرے بال دراز اور گھنے ہو گئے ہیں میں اب دو چوٹیاں باندھنے لگا ہوں میری آنکھیں پہلے سے زیادہ مخمور ہو گئی ہیں وہ اب دیکھنے کے بجائے زیادہ رونے لگی ہیں میرے ہونٹ کہرے کی ٹھنڈ کی طرح سفید پڑ گئے ہیں وہ اب بولنے کے بجائے زیادہ ...

مزید پڑھیے

خوشبو

کوئی خوشبو سی خلاؤں کے گہرے گھنے جنگلوں میں چھپی دیکھتی ہے ضدی بچے کو جس کا کھلونا نری دھول سے اٹ گیا ہے اس کے چاند اور سورج مٹی میں رل مل گئے ہیں گھر میں سناٹا پھیلا ہوا ہے کواڑوں کی باریک جھریوں کے پیچھے کوئی پاک معبود کی نرم آغوش میں جل رہا ہے ابھی ایک لمحے کے زیر اثر یکایک کسی ...

مزید پڑھیے

عورت خدا کا اخبار ہے

آج سے صرف کچھ سال پہلے کی یہ بات ہے آسمان جب زمیں پر نہیں تھا خدا ایک اخبار تھا اور اخبار میں توتلی عینکوں کے برے شہر کا ذکر تھا اور میں نے کہا تھا اگر میری ناپاک آنکھوں کی الماریوں میں کبھی دودھ کا جام دیکھو تو آواز دینا چلا آؤں گا میں خطرناک چہروں کا دشمن نہیں ہوں آج کی رات عورت ...

مزید پڑھیے

پہلی نظم

دیوتا کے گن گانے والوں اڑتا سورج کیا ہے اڑتا سورج ایک پہیلی بڑی پرانی سونا امبر جس کو ہر دن دہراتا ہے اپرم پار اندھیروں میں وہ انجانی موت کی جانب جادو کی ناؤ پہ چڑھا دور بہت ہی دور کو اڑتا جاتا ہے اڑتا سورج کیا ہے بھگتو ایک روپہلی شان ہے چاندی کا شعلہ ہے اٹھتی اور نکھرتی کھیتی ...

مزید پڑھیے

شام

دھیرے دھیرے شام آ رہی ہے رات کی کتابوں میں پت جھڑوں کی سانسوں میں دھندلی دھندلی آنکھوں میں رات بڑھتی جا رہی ہے نیند ایک گاؤں ہے نیند کی تلاش میں آوازیں آ رہی ہیں پاؤں کھڑاؤں پہنے ست ست گا رہے ہیں پیپل کے پات ہرے دھیرے دھیرے گر رہے ہیں کئی ہاتھ بڑھ رہے ہیں شک والے رنگ لیے موروں کے ...

مزید پڑھیے

جو دل پر ضرب کاری لگ رہی ہے

جو دل پر ضرب کاری لگ رہی ہے یہ خوشبو بھی تمہاری لگ رہی ہے تمہاری یاد میں سویا ہوا ہوں بدن کو نیند پیاری لگ رہی ہے محبت ایک لمحے میں ہوئی تھی اب اس میں عمر ساری لگ رہی ہے تمہارے درد پر دل دکھ رہا ہے تمہاری جاں ہماری لگ رہی ہے مرے پہلو میں بیٹھی روئے جائے شب فرقت کی ماری لگ رہی ...

مزید پڑھیے

کبھی اچھا برا سوچا نہیں ہے

کبھی اچھا برا سوچا نہیں ہے محبت عقل کا سودا نہیں ہے میں پتھر ہوں مگر سچ بولتا ہوں وہ آئینہ ہے اور سچا نہیں ہے صراط عشق پر مڑ کر نہ دیکھو پلٹنے کا کوئی رستہ نہیں ہے ابھی ٹوٹا نہیں ہے خواب میرا ابھی وہ نیند سے جاگا نہیں ہے ابھی آنکھوں میں بینائی ہے باقی ابھی میں نے تمہیں دیکھا ...

مزید پڑھیے

احساس

کانچ کی بوتلیں ٹوٹ کر گر پڑیں رات کے خواب سارے بکھرتے رہے اور میں خواہشوں سے دبا سر لئے نیند میں ہر کسی رہ گزر پہ بہکتا رہا

مزید پڑھیے

چیت

کوئل میرے شبدوں کو تو چھاپے خانے لے جا وہ اخبار تو پڑھتے ہوں گے پڑھ کے خبر میرے مرنے کی دوڑے دوڑے گھر آئیں گے ڈاکئے تو چٹھی کے بجائے آم مری بگیا کے اب کی ان کے دفتر لے جا سب سے چھپا کے آم وہ میرے ہاتھوں میں بھر لیں گے پھر کرتے کے نیچے, پیچھے، سینے کے جنگل میں ان کو دبکا لیں گے سکھی ...

مزید پڑھیے

شعلۂ عشق

ناز و انداز حسینوں کے وہ عشرے غمزے بعد مرنے کے مرے ختم ہوئے اب نہ ناخن میں حنا ہے نہ سرمہ ہے کہیں آنکھوں میں جو مرے دم سے تھا کہ میں عاشق تھا اکیلا تنہا بعد میرے کیا یہ منصب کوئی پائے گا کبھی شعلۂ شمع سیہ پوش ہوا ماتم میں دھواں بن کے کہیں خاموش ہوا شمع روشن تھی بجھ گئی جلتے جلتے بعد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1284 سے 6203